نیب آرڈیننس میں ترمیم مشکل فیصلہ تھا لیکن بیورو کریسی کو قومی احتساب بیورو کے شکنجے سے بچانا چاہتے تھے:وزیر اعظم عمران خان

نیب آرڈیننس میں ترمیم مشکل فیصلہ تھا لیکن بیورو کریسی کو قومی احتساب بیورو ...
 نیب آرڈیننس میں ترمیم مشکل فیصلہ تھا لیکن بیورو کریسی کو قومی احتساب بیورو کے شکنجے سے بچانا چاہتے تھے:وزیر اعظم عمران خان

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ ہم نے پچاس لاکھ گھر بنانے ہیں، اس میں بیورویسی کا بھی اہم کردار ہے لیکن بیورو کریٹ نیب سے ڈرے ہوئے تھے ، نیب آرڈیننس میں ترمیم مشکل فیصلہ تھا لیکن بیوروکریسی کو طریقہ کار کی غلطیوں پر نیب کے شکنجے سے بچانا چاہتے تھے ۔

اسلام آباد میں سول سرونٹس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ملک میں دولت پیدا کی جائے کیونکہ دولت بنائی جائیگی تو ہمارے ملک پر جو تیس ٹریلین کا قرضہ اور سود چڑھاہواہے اس کی ادائیگی ہوگی اور ملک چلے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے گورننس سسٹم کانظام ٹھیک ہو اور فیصلے جلدی ہوں اور فیصلے جلدی اس لئے نہیں ہورہے تھے کہ بیورو کریٹ نیب سے ڈرے ہوئے تھے کہ پروسیجر پر توکوئی بھی پکڑا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب بیورو کریسی پر نیب کاخوف آگیا تو کوئی بڑا فیصلہ ہوناہی نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پچاس لاکھ گھر بنانے تھے جس میں بیورو کریسی کا ایک اہم کردار ہے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا کہ پروسیجرل غلطیوں کی وجہ سے بیوریسی پر سے نیب کا خوف ختم کیاجائے ۔ انہوںنے کہا کہ تاجر تو نیب کے دائرہ کار میں نہیں آتے اور جہاں تک ٹیکسز کاتعلق ہے تو یہ ویسے ہی ایف بی آر کاکام ہے ،یہ بات میں نے چیئر مین نیب کو بھی سمجھائی ہے ۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نیب قوانین میں ترمیم مشکل فیصلہ تھا لیکن جمہوریت میں سیاسی مشاورت اور اتفاق رائے سے ملکر چلنا ہوتاہے ۔ ملک میں پیسہ اس وقت آئے گا جب صنعتیں چلیں گی ، بہت جلد ملک کوقرضوںسے نکال لیا جائے گا ۔ ملک اس وقت قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہواہے ، ملک کو قرضوں سے نکالنے کیلئے اور معیشت کے استحکام کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی آمدن کا آدھاحصہ قرضوں پر سودکی ادائیگی کی مدمیں چلا جاتا ہے ۔

مزید : اہم خبریں /قومی