بینظیر کی حیران کن جدوجہد

بینظیر کی حیران کن جدوجہد
بینظیر کی حیران کن جدوجہد

  

شہید بینظیر بھٹو چوبیس سال مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے 27 دسمبر 2007ء کو عوام کے درمیان راولپنڈی میں شہید کر دی گئیں۔ بینظیر نے جدوجہد کی ایسی مثال قائم کی کہ اس کی نہ کوئی نظیر تھی اور نہ ہی کوئی نظیر مستقبل میں ملنا ممکن نظر آتا ہے۔ بینظیر بس بینظیر تھی۔ 

ایک ایسے معاشرے میں جہاں عورت کی عزت نہ ہو، عورت کو پاؤں کی جوتی کہا جاتا ہو، وہاں ایک نہتی لڑکی بہادری کے ساتھ سچ کا علم لے کر نکل پڑے۔ مظلوموں، غریبوں، نہتوں، مجبوروں، مزدوروں، محنت کشوں کی آس بن جائے، وہ اسے اپنے خوابوں کی تعبیر سمجھنے لگیں اور نعرے لگانے لگیں:

”بینظیر آ، زندہ ضمیر آ

توڑنے تو ظلم کی زنجیر آ“

تو کیا یہ کسی معجزہ سے کم ہے؟ 

وہ ٹوٹے مکانوں والوں کی، ٹپکتی چھتوں والوں کی، پھٹے کپڑوں والوں کی، ننگے پیروں والوں کی لیڈر تھی۔ اسے غریبوں سے عشق تھا۔ وہ علم کی طاقت سے مالامال تھی- اس کے سینے میں حسین دل دھڑکتا تھا، وہ حسن کی ملکہ تھی۔ وہ گرجتی تھی تو سورماؤں کے دل دہل جاتے تھے۔

”ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے“

اس نے سر اٹھا کر جینے کا ڈھنگ سکھا دیا، ایک روشن رستہ بتا دیا۔ وہ شہید ہو کر امر ہو گئی۔ وہ زندہ رہے گی۔ اس کے  دشمن زندہ رہ کر بھی مردہ ہیں اور وہ مر کر بھی زندہ ہے۔

وہ ہر لحاظ سے بینظیر تھی۔

نور کی لکیر تھی۔ 

بینظیر ایک دیو مالائی کردار تھیں۔ بینظیر نے اس کردار میں حقیقت کے گوناگوں رنگ بھر دئیے۔ بینظیر نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ بینظیر صرف پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر نہ تھیں،پورے پاکستان، پورے عالم اسلام کی لیڈر اور پوری دنیا کی روشن خیال راہنما تھیں۔ وہ بدترین دشمنوں کے بیچوں بیچ حق کا پرچم تھامے اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہی۔ وہ بھٹو شہید کی قابل فخر اور بینظیر بیٹی ثابت ہوئیں۔ انہوں نے مشکل حالات میں اپنے والد کے سیاسی مشن کو کامیابی سے جاری رکھا۔ شادی کی اور بہترین بیوی ثابت ہوئیں۔ بینظیر کو شوہر بھی شایان شان ملا اور یہ کریڈٹ مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کو جاتا ہے۔ بیگم صاحبہ جانتی تھیں کہ بینظیر کا شوہر ایسا ہونا چاہئے جو بینظیر کے دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکے، آمروں کی مار سہہ سکے، الزامات کی بوچھاڑ سہہ سکے، طویل قید اور بدترین کردار کشی کا مردانہ وار مقابلہ کر سکے۔ ایسا شخص جو سیاسی طور پر باشعور ہو، بھٹو کے فلسفے کو گہرائی سے سمجھتا ہو، بینظیر کو دل و جان سے چاہنے والا ہو، بینظیر کی وجہ سے پیش آنے والے مصائب کو مسکراتا ہوا برداشت کرے، اس کی نظر تاریخ پر ہو۔ آج دشمنوں نے آصف پر کوئی ایسا الزام نہیں جو نہ لگایا ہو، اسے توڑنے کے لئے کوئی ایسا حربہ نہیں جو نہ آزمایا گیا ہو۔ مگر وہ نہ ٹوٹا، نہ جھکا، نہ بکا۔ وہ صحیح معنوں میں  بھٹوازم اور بینظیر کا دیوانہ ثابت ہوا، بھٹو اور بینظیر کے سیاسی فلسفے کا بہترین وارث ثابت ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ آصف کا قابل فخر کردار نمایاں تر ہوتا رہے گا۔ الزامات لگانے والے کہیں نظر نہ آئیں گے، شرمندہ ہو ہو کر مردہ ہو جائیں گے۔ 

بینظیر ہر لحاظ سے بینظیر تھیں:

بینظیر بیٹی، بینظیر راہنما، بینظیر سیاست دان، بینظیر بیوی، بینظیر بہو، بینظیر ماں۔ بینظیر نے دیومالائی داستانوں کو  زندہ حقیقت بنا دیا۔ 

مزید :

رائے -کالم -