غریبوں کو کمانے کے قابل بنائیں 

غریبوں کو کمانے کے قابل بنائیں 
غریبوں کو کمانے کے قابل بنائیں 

  

غریب کو کوسنے کی بجائے ان عوامل کو سمجھنا ضروری ہے جو غریب کو فقیر بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔قصہ کہانیوں میں خاص طور پر شیخ چلی کی کہانی میں ہم نے کئی ایسے واقعات ضرور پڑھے  ہیں کہ ایک غریب آدمی کی مرغی نے انڈہ دیا اس سے ایک چوزہ نکلا جو مرغی بنی پھر اس نے انڈے دیئے ان تمام انڈوں سے چوزے نکلے جو بہت ساری مرغیاں بنیں اور سب کے انڈوں سے بہت زیادہ چوزے نکلے، یوں ایک مرغی کا مالک بڑا رئیس بن گیا۔جب وہ اس سارے خواب سے باہر نکلا تو جو انڈہ ہاتھ میں تھا، وہ بھی ٹوٹ گیا اور وہ غریب سے غریب تر ہو گیا ہم بھی اپنے معاشرے میں غریب کو فقیر ہوتے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ ہم سماج میں سدھار اور غربت کے خاتمے کی کہانیاں تو بہت سن رہے ہیں لیکن عمل اس کے بالکل برعکس ہے جو بہتری کا راستہ بنانے اور دکھانے کی بجائے مفلسی اور غربت کی آبیاری کر رہا ہے،جبکہ ہم بھوکے کو روٹی دے کر

، سڑکوں پر دستر خوان لگا کر سہل پسندی کا وہ راستہ دکھا رہے ہیں جس کے سبب وہ معاش سے بالکل ہی غافل ہوتا چلا جا رہا ہے۔اس غفلت کا شکار ہونے والے بڑھتے جا رہے ہیں۔یوں مفلسی کا سفر نشیب کی طرف ہو گیا ہے اور دینے والے یا اس کی مدد کرنے والے بلندیاں طے کر رہے ہیں۔ غربت ایک کیفیت کا نام ہے، کسی کے لئے تکلیف دہ تو کسی کے لئے ذریعہ معاش بھی ہے۔ امداد دینے والوں میں کسی کے لئے ایسی سیڑھی جو جنت کے دروازے تک لے جاتی ہے اور کسی کو شہرت کی بلندیوں پر تو کسی کو ذات کی تسلی کا سامان فراہم کرتی ہے، لیکن غربت اور مفلسی کے خاتمے کے فکر کہیں  نظر نہیں آتی  نہ تو حکومت اور ریاست کے عمل میں اور نہ ہی وہ افراد جو معاشرے کی درجہ بندی میں اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔

ریاست، حکومت اور مخیر حضرات سب کو ادراک ہونا ضروری ہے کہ یہ سب کچھ غربت کا علاج نہیں۔ بھوکے کو راشن ملے گا تو وہ کتنے دن چلے گا۔بدن  ڈھانپنے والا لباس کب تک نہیں پھٹے گا، سڑکوں اور چوراہوں پر کھڑے فقیروں کو دی جانے والی رقم وہ کتنی ہی قلیل ہو، کثرت سے ملنے کے سبب پیشہ ورانہ غربت کو جنم دے چکی ہے، بلکہ گداگری مضبوط مافیا بن چکی ہے، مختلف ادوار  میں حکومتیں بیرونی طاقتوں سے امداد یا بھاری رقوم لیتی چلی آ رہی ہیں،جو حکومت سے عوام تک آتے آتے بیسواں حصہ بھی نہیں رہتی، راستے میں ہی ان ذہنی مفلسوں میں تقسیم ہو جاتی ہے جو مانگتے تو نہیں، مفت میں ہاتھ  آئے تو کیا برا ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایسی ہی لوٹ مار کی کھلی مثال ہے کہ بانٹنے والوں نے بھی خوب لوٹا۔ 

یوں بھی وقت اب سچا انقلاب مانگ رہا ہے  حقیقی انقلاب کے لئے حکومت کو 2023ء تک کام کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ حکومت ان قوتوں کو درست سمت میں گامزن کرے جو شتر بے مہار کے بجائے روایت شکن بن کر کھڑے ہوں اور دلدلوں میں پھنسے عوام کی تقدیر بدلنے کی سکت رکھتے ہوں زبانی جمع خرچ، تسلیوں اور وعدوں سے بھرپور نعرے کی بجائے ایسی تبدیلی لا سکے جس میں ریاست اور حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور جہاں نہ کر پا رہی ہوں، وہاں امداد کرنے والوں کا طریقہ یہ نہ ہوکہ ضرورت مند کو رقم یا اشیاء پکڑا کر اس کے مسئلے کا حل سمجھ لیا جائے،بلکہ اس غریب کے بچے کو اسی سکول میں تعلیم دلوانے کی ذمہ داری لے، جہاں اس کا اپنا بچہ، اپنے خاندان کے بچے پڑھ رہے ہوں،اسے راشن دینے کی بجائے ایسا کام دے جس سے اجرت ملے اور وہ اس اجرت سے راشن خریدے۔ سرِ راہ دستر خوان بچھانے کی بجائے جہاں ہر روز افراد کی غیرت مجروح ہو کر اسے اپنی اصلاح سے دور کرتی چلی جا رہی ہے، اسے اپنے راستے اور گلیوں کی آراستگی سونپ کر انہیں اتنی اجرت دیں کہ سڑک پر کھانے کی بجائے اپنے گھر میں پکوا سکیں اور اگر کسی اور شہر سے آیا ہو تو اپنی ہی اجرت سے  اپنی پسند کا کھانا کھا سکے۔

بے سہارا بزرگوں، ہسپتالوں میں داخل تنہائی کا شکار مریضوں اور ذہنی و جسمانی معذور افراد کی مدد ہاتھ پیر رکھنے والوں سے کروا کر اس خدمت کے صلے میں اجرت دیجئے جو انہیں مانگنے کی لعنت سے دور رکھے۔جسمانی رضا کارانہ خدمت جو ہم خود نہیں کر سکتے تو ان بے روز گاروں سے اجرت دے کر کروایا جا سکتا ہے ملک میں اچھے ادارے ہیں۔ گلیوں، محلوں میں جس میں کافی تعداد میں پیروں سے معذور افراد کام کر رہے ہیں جو سائیکلوں اور سکوٹروں کی مرمت بازار سے کم اجرت پر کرتے ہیں جس کے سبب ان کے چھوٹے کارخانے میں مرمت کروانے والوں کا ہجوم رہتا ہے اور کام کرنے والے یہ تمام افراد نہ صرف اپنے گھروں کے کفیل ہیں،بلکہ ایسے کافی بچوں کی تربیت بھی کر رہے ہیں کہ وہ کام سیکھیں اور سمجھیں، کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں اور خود کفیل رہیں۔ غربت سے نکلنے اور بچنے کے بہت سے راستے ہیں اور اب اس لعنت سے نکلنا یوں بھی ضروری ہو گیا ہے کہ ہم عملی طور پر ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود عالمی قرضوں اور امداد لینے والے ملکوں کی صفوں میں کھڑے رہنے کے سبب بین الاقوامی طاقتوں کے سامنے سر جھکائے نظر آتے ہیں، حتیٰ کہ اپنے فیصلے بھی خود کرتے  نظر نہیں آتے۔ کھانا، تعلیم، علاج اور چھت ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔یہ سب کچھ ایسے مضبوط رہنما ہی کر سکتے ہیں،جو بھوک اور افلاس کو سمجھتے ہوں،قوم کو  ایسے انقلاب کی ضرورت ہے جو شفافیت پر مبنی ہو اور ہر فرد کو  سر اٹھا کر چلنے کے قابل بنا سکے اس سے ہم خوددار اور فرض شناس قوم کا درجہ حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -