بلاسفیمی کیسزکے پیچھے چھپی عالمی سازش

بلاسفیمی کیسزکے پیچھے چھپی عالمی سازش
بلاسفیمی کیسزکے پیچھے چھپی عالمی سازش

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

گزشتہ روز نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے لاہور آفس میں گزارے گئے چند گھنٹے شاید زندگی کے ان مشکل ترین لمحات میں شمار ہوں گے جنہوں نے سوچ، احساس اور یقین ، تینوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔۔ سینئر کرائم رپورٹر محمد عمیر کے ہمراہ ایک ایسے ملزم کے سامنے بیٹھنا، جو بلاسفیمی جیسے سنگین اور حساس کیس میں زیر حراست ہے، محض ایک صحافتی تجربہ نہیں تھا بلکہ یہ ہماری اجتماعی زبوں حالی کا آئینہ تھا۔۔۔ ملزم کے موبائل فون سے برآمد ہونے والا ضخیم ڈیٹا، مسینجر چیٹس اور اس کے اپنے منہ سے نکلنے والے ہولناک انکشافات نے اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا کہ ہم جس خطرے کا سامنا کر رہے ہیں وہ محض نظری یا فرضی نہیں بلکہ پوری قوت کے ساتھ ہماری نسلوں پر حملہ آور ہے۔۔۔گزشتہ چند برسوں میں سائبر دنیا جس تیزی سے ہماری روزمرہ زندگی میں داخل ہوئی ہے، اسی تیزی سے اس کے سیاہ اور خوفناک پہلو بھی ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔۔۔ بظاہر یہ دنیا سہولت، علم، رابطے اور اظہار کا ایک وسیع میدان دکھائی دیتی ہے مگر اس کے پس پردہ ایسے منظم جال بچھے ہوئے ہیں جو کمزور ذہنوں، تجسس کے مارے نوجوانوں اور رہنمائی سے محروم نسل کو آہستہ آہستہ اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔۔۔ یہ کوئی افسانہ یا مبالغہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کا سب سے بڑا محاذ بندوق یا بارود نہیں بلکہ سمارٹ فون اور کمپیوٹر کی سکرین ہے، جہاں ایک کلک انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔۔۔انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر دور میں فتنہ اسی راستے سے داخل ہوا جس راستے سے لوگوں نے خطرہ محسوس نہیں کیا۔۔۔ کبھی یہ فتنہ دولت کی شکل میں آیا، کبھی طاقت کے لالچ میں اور کبھی علم کے نام پر۔۔۔ آج یہی فتنہ آزادیِ اظہار، روشن خیالی اور ڈیجیٹل حقوق کے لبادے میں ہمارے گھروں کے اندر، بچوں کے کمروں تک پہنچ چکا ہے۔۔۔این سی سی آئی اے کی زیر حراست یہ ملزم، جس کی عمر پینتیس برس اور پاکپتن کا رہائشی ہے۔۔۔ بظاہر وہ کسی بھی لحاظ سے ایک عام یا جاہل شخص نہیں، وہ نہ صرف پڑھا لکھا بلکہ حافظ قرآن ہے۔۔۔ اس کے مرحوم والد اپنے علاقے کی مسجد کے پیش امام تھے۔۔۔ یعنی ایک ایسا پس منظر جسے ہم عام طور پر دینی تربیت، حیا اور خوفِ خدا کی علامت سمجھتے ہیں مگر یہی شخص 2011 سے ایک ایسے گھناونے دھندے میں ملوث تھا جسے بیان کرتے ہوئے زبان لڑکھڑا جاتی اور دل کانپ اٹھتا ہے۔۔۔ملزم کے مطابق اس کے زوال کا آغاز بظاہر ایک ”معمولی“ برائی سے ہوا۔۔۔ موبائل فون پر فحش ویڈیوز دیکھنے سے۔۔۔ ابتدا میں شاید ضمیر نے کچھ سرگوشی کی ہو مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ سرگوشی خاموش ہو گئی۔۔۔ 

  قرآنِ کریم میں شیطان کے بارے میں واضح تنبیہ ہے کہ وہ انسان کو بتدریج گمراہی کی طرف لے جاتا ہے، ایک دم نہیں۔۔۔ ”خطوات الشیطان“ کا یہی مفہوم ہے کہ وہ قدم بہ قدم بہکاتا ہے۔۔۔ یعنی وہ اچانک کفر یا کھلی بغاوت پر نہیں لے جاتا بلکہ پہلے حیا ختم کرتا ہے، پھر ضمیر سلا دیتا ہے اور آخرکار مقدسات کا احترام بھی دل سے نکال دیتا ہے پھر انسان کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔۔۔ آج کے دور میں یہ خطوات سکرین پر نمودار ہونے والی ویڈیوز، چیٹس اور لنکس کی صورت میں سامنے آتے ہیں ۔۔۔ابتدا اکثر بظاہر معمولی اور بے ضرر چیزوں سے ہوتی ہے۔۔۔ تجسس کے تحت دیکھی جانے والی فحش ویڈیوز، غیر اخلاقی مواد یا ممنوعہ ویب سائٹس آہستہ آہستہ انسان کے اندر موجود حیا، خوفِ خدا اور اخلاقی حساسیت کو ختم کرنا شروع کر دیتی ہیں۔۔۔ جب بار بار گناہ کو دہرایا جائے تو دل پر سیاہ پردہ پڑ جاتا ہے، جیسا کہ حدیث نبوی ﷺ میں آیا ہے کہ گناہ دل پر سیاہ نقطہ ڈال دیتا ہے اور اگر توبہ نہ کی جائے تو وہ پورے دل کو گھیر لیتا ہے۔۔۔ یہی مرحلہ سب سے خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ اس کے بعد انسان برائی کو برائی سمجھنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔۔۔یہ کوئی ایک فرد کی کہانی نہیں۔۔۔کئی دیگرملزمان کی کہانی بھی اس سے ملتی جلتی ہے ۔ ۔۔ ایک ہی طریقہ واردات، ایک ہی ذہنی ساخت، ایک ہی دفاعی بیانیہ۔۔۔  خود ملزم کا کہنا تھا کہ اس شرمناک گروہ میں کئی دیگر پاکستانی نوجوان ملوث ہیں، جن میں بڑی تعداد لڑکیوں کی بھی ہے۔۔ سوشل میڈیا پر  بنائے گئے کچھ  پیجز اور کئی گروپس کے ذریعے ”شکار“ تلاش کیا جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ نئی نسل کو نہ صرف دین اسلام بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو بھی ان کے عقائد سے دور کر دیا جاتا ہے۔۔۔

  این سی سی آئی اے کے مطابق ان نیٹ ورکس کے تانے بانے بین الاقوامی سطح تک پھیلے ہوئے ہیں ،کئی پوش علاقوں میں ان گروہوں کی سرگرمیاں خاص طور پر تشویشناک ہیں۔۔۔اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ  کچھ نیا نہیں، فتنہ ہمیشہ اخلاقی کمزوری کے دروازے سے داخل ہوا ہے۔ ۔۔تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی تہذیبیں تلوار سے نہیں بلکہ اخلاقی زوال سے گریں۔۔۔ رومن ایمپائر کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں عیاشی، جنسی بے راہ روی اور خاندانی نظام کی تباہی نے ایک عظیم سلطنت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔۔۔ اندلس کی تاریخ بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ جب مسلمان عیش و عشرت اور اخلاقی کمزوریوں میں مبتلا ہوئے تو دشمن کو حملہ کرنے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔۔۔ آج کا دشمن بھی براہِ راست حملہ آور نہیں بلکہ وہ ہماری اقدار، ایمان اور خاندان کے تصور کو نشانہ بنا رہا ہے۔۔۔۔۔۔ آج کا دشمن بھی ہمارے سامنے تلوار لے کر نہیں کھڑا بلکہ ہمارے بچوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون تھما کر ان کے ذہن، ایمان اور اقدار پر حملہ آور ہے۔ ۔ ۔ پہلے سوالات اٹھائے جاتے ہیں، پھر شکوک پیدا کیے جاتے ہیں، اس کے بعد مقدسات کا تمسخر اڑایا جاتا ہے اور آخرکار انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے کسی چیز کا تقدس باقی نہیں رہتا۔۔۔ یہ طریقہ کار نیا نہیں بلکہ قدیم فتنوں کی جدید شکل ہے۔ ۔۔قرآنِ کریم میں منافقین کے بارے میں آتا ہے کہ وہ باتوں کو خوبصورت بنا کر پیش کرتے ہیں تاکہ سادہ لوح لوگ دھوکے میں آ جائیں۔۔۔۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس پورے عمل میں اکیلا نوجوان قصوروار نہیں ہوتا۔۔۔ والدین کی غفلت، تعلیمی اداروں کی خاموشی اور معاشرے کی مجموعی بے حسی بھی اس مسئلے کو بڑھا رہی ہے۔ ۔۔ ہم بچوں کو مہنگے فون تو دے دیتے ہیں مگر ان کے ہاتھ میں آنے والی دنیا کی نگرانی نہیں کرتے۔۔۔ ہم ان سے نمبر ون آنے کی توقع تو رکھتے ہیں مگر ان کی اخلاقی تربیت کو ثانوی سمجھ لیتے ہیں حالانکہ نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے کردار سازی پر زور دیا، علم کو بھی اخلاق کے ساتھ مشروط کیا۔۔۔

اس تمام صورتحال میں والدین، اساتذہ اور معاشرے کی مجموعی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔۔۔۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک انتہائی منظم اور مسلسل آگاہی مہم چلائیں۔۔۔ یہ ایک اجتماعی خطرہ ہے جس کا مقابلہ بھی اجتماعی شعور سے ہی ممکن ہے۔۔۔ تعلیمی اداروں میں باقاعدہ آگاہی پروگرام ہونے چاہئیں جہاں طلبہ کو یہ بتایا جائے کہ سائبر دنیا میں کس طرح ذہنی غلامی مسلط کی جاتی ہے، کیسے فحاشی کو آزادی کے نام پر بیچا جاتا ہے اور کیسے مذہب بیزاری کو ترقی پسندی کہا جاتا ہے؟؟ تعلیمی اداروں، مدارس، کالجز اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو یہ بتایا جائے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کس طرح انہیں ایک ایسے جال میں پھنسایا جا رہا ہے جہاں سے نکلنا آسان نہیں۔ ۔۔انہیں یہ سکھایا جائے کہ ہر خوبصورت نعرہ سچ نہیں ہوتا اور ہر ”حقوق“ کا علمبردار واقعی خیرخواہ نہیں ہوتا۔۔۔۔ مدارس میں بھی طلبہ کو جدید فتنوں سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ صرف کتابی علم نہیں بلکہ عملی بصیرت بھی حاصل کر سکیں۔۔۔والدین کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ دوستی کے نام پر مکمل آزادی دینے اور سختی کے نام پر مکمل جبر کے درمیان توازن قائم کریں۔۔۔ بچوں سے بات کریں، ان کے سوالات سنیں، ان کے دوستوں اور آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں مگر جاسوسی کے انداز میں نہیں بلکہ اعتماد اور رہنمائی کے جذبے سے۔ ۔۔یہ خوفناک جنگ کسی ایک ادارے یا ایک قانون سے نہیں جیتی جا سکتی۔ ۔۔یہ ایک فکری، اخلاقی اور روحانی جنگ ہے۔۔۔ اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو علم کے ساتھ ایمان، آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور ٹیکنالوجی کے ساتھ اخلاق نہ سکھایا تو نقصان ناقابل تلافی ہو سکتا ہے لیکن اگر ہم نے آج آنکھ کھول لی، سچ کا سامنا کر لیا اور بروقت اقدام کیا تو ابھی بھی بہت کچھ بچایا جا سکتا ہے۔۔۔تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ آزادی اور حقوق کے نام پر معاشروں کو اخلاقی طور پر مفلوج کیا گیا۔۔۔ اس لیے نوجوانوں کو تنقیدی سوچ سکھانا بے حد ضروری ہے تاکہ وہ ہر بات کو بغیر سمجھے قبول نہ کریں، ہر بیانیے کے پیچھے کارفرما مفادات کو پہچان سکیں۔۔۔آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مایوسی اس مسئلے کا حل نہیں۔۔۔۔ اگر فتنے ہیں تو ہدایت کے دروازے بھی کھلے ہیں۔۔۔ اگر اندھیرے بڑھ رہے ہیں تو روشنی کی ذمہ داری بھی ہمارے ہی کندھوں پر ہے۔۔۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف خطرات سے ڈرانا نہیں بلکہ انہیں متبادل راستہ بھی دکھانا ہے، ایمان، اخلاق، علم اور شعور کا راستہ۔ ۔۔یہی وہ سرمایہ ہے جو نہ صرف فرد کو بلکہ پوری قوم کو اس عالمی ذہنی یلغار سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔۔۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم خاموش تماشائی بنے رہیں یا اپنی نسلوں کے مستقبل کے لیے کھڑے ہوں؟؟۔

۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
 

مزید :

بلاگ -