6 ماہ میںاسرائیل نے اردن جانے والے50 فلسطینی گرفتار کئے

6 ماہ میںاسرائیل نے اردن جانے والے50 فلسطینی گرفتار کئے

مقبوضہ بیت المقدس ( اے این این )رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران قابض اسرائیلی حکام نے اردن اور فلسطین کے درمیان گذرگاہ الکرامہ سے عمان جانے والے 50 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا جبکہ 450 افراد کو اردن سفر سے روک دیا گیا۔ ان میں بڑی تعداد طلبا اور مریضوں کی تھی جو اردن میں علاج کے لیے جانا چاہتے تھے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسیران کے امور کی نگران کمیٹی کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکام نے رواں سال کے نصف اول میں ساڑھے چار سو فلسطینیوں کو اردن سفر سے روک دیا۔ ان میں جامعات کے طلبا، مریض اور عمر رسیدہ شہری بھی شامل تھے۔ جبکہ پچاس کو سرحد عبور کرنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔انسانی حقوق کمیٹی نے اردن جانے سے روکنے کے صہیونی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی مسافروں کے حق میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کمیٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل بغیر کسی الزام کے سرحد عبور کرنے والے ضرورت مند شہریوں کو حراست میں لے کر طویل مدت کی سزائیں دے رہا ہے جس کا دنیا کے کسی قانون میں کوئی جواز موجود نہیں ہے۔اسیران کمیٹی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی بیرون ملک آمد ورفت اور نقل وحرکت کو یقینی بنانے کے لیے صہیونی ریاست پر دباو¿ ڈالے تاکہ ضرورت مند فلسطینیوں کو اردن اور اور دوسرے ممالک کے سفر کا موقع فراہم کیا جا سکے۔

مزید : عالمی منظر


loading...