ڈھونڈو توجانیں ، پٹوارے خانے کونوں کھدروں میں قائم ، شہری تلاشمیں سر گرداں

ڈھونڈو توجانیں ، پٹوارے خانے کونوں کھدروں میں قائم ، شہری تلاشمیں سر گرداں

  



 لاہور(عامر بٹ سے) حکومت جہاں مال و اشتمال کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے وہاں صوبائی دارالحکومت کے پٹوار خانوں کی حالت زار اور بے ہنگم پن بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ بیشتر پٹوار خانے ایسے کونوں کھدروں میں بنائے گئے ہیں انہیں تلاش کرنے کے لئے خوردبین یا کھوجیوں کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ کئی ایک ایسے ہیں جہاں تک رسائی ناممکن ہے جس کی وجہ سے ہزاروں شہری روزانہ کئی کئی گھنٹے ضائع کرنے کے بعد مایوس لوٹ جاتے ہیں۔روزنامہ پاکستان کی طرف سے صوبائی دارلحکومت لاہور مختلف مقامات پر اپنی مرضی سے قائم کئے گئے پٹوار خانوں کے حوالے سے کئے جانے والے سروے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ ضلع لاہور میں موجود پٹواریوں نے نظم و نسق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی من مرضی سے پٹوار خانوں کے لئے جگہ کا انتخاب کرنا شروع کر رکھا ہے جس سے شہریوں کی بڑی تعداد لاہور کے خفیہ مقامات اور بھول بھلیوں میں کھولے جانےو الے پٹوار خانوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاتی ہیں مگر عوام الناس کی مشکلات کو نظر انداز کرتے ہوئے لاہور بھر میں موجود ایسے مقامات پر پٹوار خانے آباد ہیں جہاں پہنچنے کے لئے شہریوں کو دس دس دن گزر جاتے ہیں جس کی ایک مثال چونگی امرسدھو پر واقع گرین بلڈنگ کو دیکھ کر لگائی جا سکتی ہے جس میں ایک طرف موبائل فون، انٹرنیٹ کیفے اور کھانے پینے کے چھوٹے چھوٹے ہوٹل کی بھرمار ہے اور دوسری جانب اسی بلڈنگ میں سیکورٹی گارڈ مہیا کرنے اور لڑکیوں کے رشتے کروانے کے دفاتر کے ساتھ ساتھ فلیٹوں کی صورت میں کرایہ داروں کی ایک بڑی تعداد بھی یہاں مقیم ہے مگر بااثر پٹواریوں نے یہاں پر بھی اپنی مرضی سے پٹوار خانے شفٹ کر دئیے ہیں اس وقت بھی گرین بلڈنگ میں پٹوار خانہ کاہنہ، طور وڑائچ، شہزادہ، کاچھا سمیت دس سے پندرہ مزید پٹوار خانے موجود ہیں اور تمام پٹوار خانے ایسے دفاتر میں قائم کئے گئے ہیں جن کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے شہریوں کو کئی گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے اور ان تمام پٹوار خانوں کے دفاتر کا باقاعدہ ہزاروں روپے خرچہ بھی پٹواری اپنی ذاتی جیبوں سے ادا کر رہے ہیں اسی طرح کاہنہ میں پیلی بلڈنگ کے نام سے مشہور انگریز دور کی عمارت کو بھی پٹوار خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں شہریوں کے ایک چکر میں ہی جان عذات میں آ جاتی ہے دور دراز جگہ پر یہ عمارت ہونے کی وجہ سے کسی بھی شہری کی دوبارہ چکر لگانے کی ہمت نہ پڑتی ہے اور وہ پٹواری کی من مرضی کے مطابق رشوت ادا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اس کے علاوہ مسلم ٹاﺅن موڑ پر واقع ماڈل ٹاﺅن قانونگوئی کے نام سے جانے جانے والی سرکاری بلڈنگ بھی موجود ہے جس میں موضع اچھرہ، اجودھیہ پور، دھنا سنگھ، پنڈی راجپوتاں، چندرائے، امرسدھو اور کوٹ لکھپت جیسے بڑے موضعے بے ترتیب انداز سے اکٹھے کئے گئے ہیں جس میں پانی اور پارکنگ کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے اور مختلف مقامات سے آنے والے شہری بھی اپنے اپنے علاقے میں پٹوار خانے کی موجودگی کی بجائے مسلم ٹاﺅن موڑ فلائی اوور کے سامنے پٹواریوں کی اپنی مرضی سے قائم کئے گئے پٹوار خانوں تک بڑی مشکل سے آتے ہیں مزید ایسے پٹوار خانوں کی موجودگی کا بھی علم ہوا ہے جس کی بلڈنگ ایک ہوٹل اور حمام پر مشتمل ہے اور اس کی چھت پر قائم کئے جانے والے پٹوار خانوں کے نام شیرا کوٹ اور موضع نوناریاں ہیں بند روڈ پر آنیوالے ان دو پٹوار خانوں کو تلاش کرنے میں بھی شہریوں کو خاصا وقت خرچ کرنا پڑتا ہے اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ حمام اور ہوٹل کی اوپر والے حصے میں پٹوار خانے موجود ہوں گے اسی طرح سبزہ زار لیاقت چوک میں دودھ دہی اور پان سیگریٹ کی دکانوں پر مشتمل بلڈنگ کے فرسٹ فلور پر پٹوار خانہ سید پور، جھگیاں ناگرہ، ڈھولنوال، موہلنوال اور کوٹ بیگم کے علاوہ بابو صابو جیسے موضع جات آباد کئے گئے ہیں ان میں سے موضع ڈہلنوال، موہلنوال اور کوٹ بیگم سے آنیوالے شہریوں کو یہاں تک آتے آتے کئی کلو میٹر سفر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مزید انکشاف ہوا ہے کہ بعض بااثر پٹواریوں نے پٹوار خانوں کو اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کے گھروں میں آباد کر رکھا ہے جو کہ آبادی میں موجود ہیں اور مختلف گلیوں کے چکر کاٹ کاٹ کر ان پٹوار خانوں کے راستے تلاش کئے جاتے ہیں جن میں ساندہ کلاں، مزنگ، شیش محل، گنجہ کلاں، راجگڑھ، لاہور خاص، نواں کوٹ، پکی ٹھٹھی، کھاڑک، سگہیاں کلاں کے نام سرفہرست ہیں پٹوار خانوں میں صوبائی دارلحکومت لاہور کے پٹوار خانوں کو ڈھونڈنے اور ان تک پہنچتے پہنچتے کئی کلو میٹر کا سفر عرصہ دراز سے طے کرنے والے شہریوں نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ مال کے پٹوار خانے کی ترتیب آج تک محکمہ مال کا کوئی بھی بڑا افسر نہیں بنا سکا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو سب سے زیادہ پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے شہریوں کے مطابق پٹوار خانہ جات ہر علاقے کے مشہور چوک میں قائم ہونے چاہیں یا ہر تحصیل کی سطح پر ایک ہی سرکاری بلڈنگ تعمیر کروا کر وہاں اس تحصیل کے تمام پٹوار خانے ایک ترتیب سے بنائے جائیں جس سے شہریوں کو آسانی سے اس بلڈنگ میں پٹوار خانہ مل جائے بلکہ اس سے عوام الناس کو بھی بار بار شفٹ ہونے والے پٹوار خانوں کے نظام سے بھی نجات مل جائے گی شہریوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب دیگر منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں مگر عوام کے فلاح بہبود کے لئے ان پٹوار خانوں کو ہر تحصیل سطح پر یکجا کیا جائے جس سے شہریوں کی بڑی تعداد کو بھی ریلیف مل سکے گا ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...