دودھ ملا پانی ، شیر فروش زہر بیچنے لگے

دودھ ملا پانی ، شیر فروش زہر بیچنے لگے

لاہور( جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت جہا ں وزیر اعلیٰ سے پٹواری تک تمام چھوٹے بڑے دن رات موجو ہیں وہا ں ایک کروڑ کی آبادی کو نہ صر غیر معیاری و مضر صحت دودھ فراہم کیا جارہا ہے بلکہ جوہڑ کا انتہائی غلیظ اور آلودہ پانی ملا کر دیا جا رہا ہے۔ جس میں بیکٹیریا اور فضلے کے ذرات شامل ہونے کاانکشاف بھی ہوا ہے۔ یہ انکشاف لاہور کے کونے کونے دودھ دہی کی دوکانوں اور شہر میں لائے جانے والے دودھ کے نمونہ جات کی لیبارٹری رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ دودھ کے نمونہ جات کا ضلعی حکومت کی فوڈ انا لسٹ لیبارٹری میں چیک کیا گیا جس میں جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں صرف 20سے 30فیصد دودھ ہے ۔ جبکہ 68سے 80فیصد پانی ہے اسی طرح دوران کیمیائی تجزیے کے دوران دودھ میں جوہڑ کا غلیظ اور زہر آلود پانی جس میں فضلہ کے ذرات کی آمیزیش کے علاوہ7فیصد سے زائد یوریا کھادمیٹھا اورکاسٹک سوڈا کی آمیزش بھی پائی گئی ہے1780دودھ کے نمونہ جات میں سے 80فیصد فیل ہوگئے اور تازہ دودھ کو انسانی صحت کےلئے مضر قرار دیا گیا۔ پبلک انالسٹ لیبارٹری کے ذرائع کے مطابق لاہور میں شہریوں کو جودودھ فراہم کیا جارہا ہے اس میں دودھ گاڑھا کرنے کے لئے کیمکل استعمال کیا جارہا ہے جبکہ خراب ہونے سے بچانے کے لئے میٹھا سوڈا بھی استعمال کیا جارہاہے۔ دودھ میں آمزیش کی خوفناک بات یہ ہے کہ اس میں جو پانی ملا یا جارہا ہے اس میں جوہڑ اور نہر کا غلیظ اور آلودہ پانی بھی ملا ہوا ہے جس میں بیکٹیریا اور فضلہ کے ذرات کی موجودگی بھی بتائی ہے اور پانی انتہائی غلیظ جگہوں سے حاصل کیا گیا ہے اس حوالے سے ضلعی حکومت کے پبلک انالسٹ ڈاکٹر شاہد سے بات کی گئی تو انہوںنے کہا کہ شہر میں آنے والے دودھ کی تجزیاتی رپورٹ میں ہر بات سامنے آئی ہے جوانتہائی افسوس ناک ہے کہ شہر بھر کو پلائے جانے والے دودھ میں 68سے 80فیصد پانی ہے اور پانی بھی غلیظ آلود ہے جس میں بیکٹیریا اور فضلہ کے ذرات کی موجودگی بتائی ہے کے یہ پانی انتہائی غلیظ جگہوں سے لے کر شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوریا کی مقدار قدرتی دودھ میں موجود یوریا سے 3سے 7 فیصد زائد ہے جس کا مطلب ہے کہ اضافی طور پر یوریا شامل کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے چیف فوڈ انسپکٹر چوہدری ایوب سے بات کی گئی تو انہون کہا کہ دودھ لاہور کے چارو اطراف سے آتا ہے۔ راوی پل، ملتان روڈ، فروز پرو روڈ، جلو،بیدیاں و ٹمبر پر ناکے لگا کر موقع پر دودھ چیک کیا جا تا ہے اور خراب دودھ موقع پر ضائع کردیا جاتا ہے۔ بعض کے نمونہ جات لے کر لیبارٹری میں دیئے جاتے ہیں جس کے سیمپل فیل ہوجاتے ہیں۔ ان کے خلاف استغاثہ بنا کر عدالت میں دیئے جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیبارٹری سے فیل کئے گئے دودھ کے سیمپلوں کے مالکان کے خلاف مقدمات درج نہیں کروائے جاتے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...