آئین پر بیعت کرنے والے

آئین پر بیعت کرنے والے
آئین پر بیعت کرنے والے

  


پاکستان کے نئے وزیراعظم اور اُن کی کابینہ کے ارکان نے اپنے عہدوں کا حلف اُٹھا لیا ہے۔ دراصل حلف ایک طرح سے ایک عہد ہے، جو حلف اُٹھانے والا اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اپنی قوم اور ملک کے ساتھ کرتا ہے۔ موجودہ حلف اسلامی بیعت ہی کی ایک شکل ہے۔ اسلام میں خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بیعت کی جاتی رہی ہے۔ بیعت کرنے والاخلیفہ کی اطاعت کرنے کا عہد کرتا ہے۔ بیعت کر کے اسے توڑنے کا تصور ابتدائی اسلامی ادوار میں مشکل سے ہی ملتا ہے، کیونکہ اسلام میں بیعت اور عہد توڑنے والوں کے بُرے انجام کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، جبکہ عہد پورا کرنے والوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ پاکستان میں صدر، وزیراعظم، وزرائے مملکت اور دیگر عہدیداران جو حلف اُٹھاتے ہیں، اسے آپ آئین پر بیعت کرنا بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس بیعت یا عہد کو توڑنے والا ایک لحاظ سے غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ عہد یا بیعت کو توڑنا دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔

  آئین پاکستان پر جو افراد حلف اُٹھاتے ہیں، اگر وہ اس حلف کی خلاف ورزی کریں، تو وہ جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ جرم کسی فرد یا شخص کے خلاف نہیں، بلکہ ملک و قوم کے خلاف ہوتا ہے اور اس جرم کا خمیازہ کسی فرد واحد کو نہیں، بلکہ ملک وقوم کو بھگتنا پڑتا ہے، اِس لئے اُٹھائے گئے حلف کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔ ہمارے ہاں توآئین پاکستان پر حلف اُٹھانا ایک رسم سی بن گئی ہے، نہ حلف اُٹھانے والوں کو اس کی سنگینی، اس کے مضمرات اور اس کی خلاف ورزی کے نتائج کے بارے میں کچھ معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی عوام کو اس حلف کی حقیقت اور اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہی ہے۔ اسلام میں تو بیعت کرنے یا حلف اُٹھانے کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ نواسہ ¿ رسول نے شہادت قبول کر لی، لیکن ایسے شخص کے ہا تھ پر بیعت نہیں کی، جسے وہ بیعت کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ ایک ہم ہیں کہ آئین پاکستان پر حلف بھی اُٹھاتے ہیں، لیکن اس حلف سے ہمارے عمل پرکوئی فرق نہیں پڑتا اور ہم حلف اُٹھانے کے فوراً بعد اس حلف کی خلاف ورزی شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح کا حلف اُٹھانے کی کیا وقعت ہے!

 دُنیا کے تقریباً تمام ممالک میں سربراہان مملکت اور دیگر عہدیداران آئین پر حلف اُٹھاتے ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کا صدر جو حلف اُٹھاتا ہے، اُس کے الفاظ میں ہی اس حلف کی حقیقت اور اہمیت بخوبی اُجاگر کر دی گئی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے صدر کے حلف میں صدر یہ عہد کرتا ہے کہ ”اگر مَیں حلف کی خلاف ورزی کروں تو مَیں اپنے آپ کو سخت سزا کے لئے ریاست کے سا منے پیش کروں گا“۔ حلف کے الفاظ سے ہی واضح ہوتا ہے کہ اس حلف کو پورا کرنا اور اس کی خلاف ورزی نہ کرنا کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ ملائیشیا کا سربراہ مملکت، جو حلف اُٹھاتا ہے، اُس پر بسم اللہ شریف کے الفاظ آغاز میں ہی شامل کر دیئے گئے ہیں۔ ایران کے صدر قرآن پاک پر ایرانی قوم کی موجودگی میں حلف اُٹھاتے ہیں۔ اسرائیلی صدر کے حلف نامے میں اسرائیلی ریاست سے وفا داری کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کے حلف کی عبارت شاید دُنیا کے دیگر ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کے حلف کے مقابلے میں کافی لمبی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم کو سب سے پہلے یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی تمام کتابوں اور آخری کتاب قرآن مجید پر بھی یقین رکھتا ہے اور حضور اکرمﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی مانتا ہے۔ یہ تو عقیدے کے بارے میں چند باتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، حالانکہ عقیدے کے بارے میں اور بھی بہت سی باتیں حلف نامے کا حصہ ہیں۔ حلف نامے کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرکاری فیصلہ سازی پر ذاتی مفادات غالب نہیں آئیں گے۔ اسی طرح حلف نامے میں آئین کے تحفظ کی بات بھی کی گئی ہے۔ یہ حلف نامہ عقائد اور ذمہ داریوں کے لحاظ سے تو اس قدر مفصل ہے کہ شاید کیتھولک چرچ کے پادریوں کو دیئے جانے والے حلف نامے میں بھی اتنے امور کی وضاحت نہیں کی جاتی، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حلف اُٹھانے والوں اور پاکستانی عوام کو اس حلف کی اہمیت، اس کے مضمرات کا احساس بھی ہے یا نہیں؟

اس حلف نامے میں اسلامی عقائد کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے، لیکن یہ حلف جس طریقے سے اُٹھایا جاتا ہے، اُسے کسی لحاظ سے بھی اسلامی طریقہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ عجیب قسم کا تضاد ہے۔ حلف کے الفاظ تو اسلامی ہیں، لیکن حلف اُٹھانے کا طریقہ کار مغربی طرز کا ہے اور مغربی جمہوریت سے ہی لیا گیا ہے۔ آئین پاکستان کے تحت حلف اُٹھانے کے الفاظ کو نمائشی نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اس علت پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہئے۔ پاکستانی آئین کے تحت حلف اُٹھانے والوں کو اس حلف کے نہ صرف الفاظ کے مضمرات کے بارے میں آگاہ ہونا چاہئے، بلکہ اس حلف کو پورا کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر یہ حلف نامہ ایک رسمی کارروائی بن جائے، تو اس طرح کا حلف اُٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پاکستانی حلف نامے کے الفاظ اسلامی ہیں۔ ان میں عقائد کو بھی شامل کیا گیا ہے، لیکن یہ حلف توڑنے کی سنگینی کے بارے میںاسلامی تعلیمات سے عدم واقفیت پائی جاتی ہے۔ آئین پاکستان کے تحت حلف اُٹھانا ایک غیر معمولی بات ہے، اسے ایک رسم کے طور پر نہیں لینا چاہئے۔ آئین کے تحت موجودہ حلف اور اسلام میں بیعت کے تصور میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ موجودہ حلف توڑنے کے عمل کو آئین سے بیعت توڑنے کے مترادف سمجھنا چاہئے۔  ٭

مزید : کالم


loading...