الحاج کرنل سلامت اللہ مرحوم بانی ادارہ دارالسلام، باغ جناح لاہور(2)

الحاج کرنل سلامت اللہ مرحوم بانی ادارہ دارالسلام، باغ جناح لاہور(2)
الحاج کرنل سلامت اللہ مرحوم بانی ادارہ دارالسلام، باغ جناح لاہور(2)

  


کرنل سلامت اللہ مرحوم کے نزدیک کتابوں کی اہمیت ان کی تعداد پر منحصر نہیں، بلکہ کتابوں کی نوعیت پر ہے۔ فی زمانہ تکنیکی اور سائنسی کتب کی قدر و منزلت بہت بڑھ گئی ہے۔ طبی کتب کی قیمت اس قدر گراں ہے کہ عام طلبہ انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ عوامی کتب خانوں میں دارالسلام لائبریری پاکستان کی پہلی لائبریری ہے، جس میں بک بنک کا آغاز کیا گیا، چنانچہ 1968ءمیں میڈیکل بک بنک اور 1969ءمیں انجینئرنگ کے طلبہ کے لئے انجینئرنگ بک بنک قائم کیا گیا۔ علاوہ ازیں اسلام پر بہت نایاب کتابیں جمع کی گئیں تاکہ تحقیق کرنے والوں کو زمانہ حاضر کے مسائل اسلام کی روشنی میں حل کرنے کے لئے کماحقہ مدد مل سکے۔ عوام کو مطالعہ کی طرف راغب کرنے کے لئے یہ ادارہ گراں قدر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ خوبصورت ماحول، معیاری کتب اور قارئین سے اچھا سلوک اس ادارے کی امتیازی خصوصیات ہیں۔ اب تک اس کتب خانے سے ہزاروں طلبہ اور محققین مستفید ہو چکے ہیں۔

مسجد دارالسلام کی آبادی کے لئے آپ نے مولانا محمد علی قصوری، مولانا محی الدین قصوری، مولانا حنیف ندوی کی خدمات حاصل کیں، جو اس مسجد میں درس قرآن مجید دیتے رہے۔ 1976ء میں ڈاکٹری کی تعلیم کے ناتے معروف سکالر ڈاکٹر اسرار احمد صاحب سے خطابت جمعہ کی درخواست کی، جسے ڈاکٹر صاحب نے بخوشی قبول فرمایا اور خطابت جمعہ کے فرائض انجام دینے لگے۔ آپ کے خطبات انتہائی موثر تھے۔ شہر کے دور دراز علاقوں سے لوگ کثیر تعداد میں نماز جمعہ کے لئے مسجد دارالسلام حاضر ہونے لگے۔ ڈاکٹر اسرار صاحب کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے محترم عاکف سعید صاحب خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ فرقہ واریت سے ماورا یہ مسجد امت مسلمہ کے افراد کی دینی تربیت احسن طریقے سے کر رہی ہے۔ ہفتہ وار خطبہ جمعہ کے علاوہ عوام کی اصلاح و تربیت کے لئے دیگر دینی پروگرام بھی جاری ہیں۔دارالسلام لائبریری، دارالسلام مسجد، گلشن ریسٹورنٹ کی تکمیل کے بعد آپ یکم جولائی 1978ءکو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ بعض شخصیات کے کارنامے ایسے ہوتے ہیں جو انہیں تاریخ انسانی میں ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں۔ محترم کرنل ڈاکٹر سلامت اللہ کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہے۔ انہیں فنا نہیں بقا ہی بقا ہے۔

آپ کے انتقال کے بعد آپ کے صاحبزادے سلیم شہر یار سلامت اس ادارے کے فنانشل ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے، جو اپنے والد محترم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس ادارے کی ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔ آپ کے دستِ راست محترم احمد عبدالغفار صاحب کی خدمات بھی اس ادارے کے لئے گراں قدر ہیں۔

اگست 2009ءمیں وزیراعلیٰ پنجاب کے ڈائریکٹو کے تحت اس ادارے کا نظم و نسق محکمہ پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کو دے دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل پارکس اینڈ ہارٹی کلچر موجودہ مجلس منتظمہ کے چیئرمین ہیں۔ آپ بھی اس ادارے کی فلاح و بہبود میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس وقت لائبریری میں تقریباً 45,000 ہزار کتب موجود ہیں جو اردو، انگریزی اور مشرقی زبانوں میں ہیں، اس لائبریری کے ذخیرے میں کچھ نادر کتابیں بھی موجود ہیں۔لائبریری میں مسودات، اسلام، مشرقی زبانوں، ادب، فقہ، حدیث، میڈیکل سائنس، انجینئرنگ سائنس، ٹیکنالوجی، کامرس، فائن آرٹس، کمپیوٹر، علم تعمیرات اور تاریخ کے مضامین پر کافی بہترین کتب موجود ہیں۔ اردو، پنجابی، فارسی، پشتو، سندھی اور بنگالی زبانوں میں بھی خاصی تعداد میں کتب دستیاب ہیں۔عظیم صوفی شعرا کے کلام مثلاً جلال الدین رومی، مولانا عبدالرحمن جامی، سعدی شیرازی، حافظ اور شاعر مشرق علامہ اقبال کی کتابیں بھی موجود ہیں۔ تاریخ کے مضمون پر نادر کتابیں ہیں اور ان کتابوں میں مزید اضافہ مرحوم پروفیسر شجاع الدین کی ذاتی لائبریری سے تاریخی کتب کے عطیہ سے ہوا۔

80 سے زائد رسائل انگریزی اور مشرقی زبانوں میں مطالعہ کے لئے دستیاب ہیں۔ تقریباً تمام مقامی اخبارات، ہفتہ وار اور پندرواڑھے قارئین کے استفادے کے لئے مہیا کئے جاتے ہیں۔ لائبریری میں طلبہ کے لئے یکسوئی سے مطالعہ کرنے کے لئے 100 سے زائد کیرل موجود ہیں۔ مجموعی طور پر 300 افراد کی گنجائش موجود ہے۔ لائبریری مکمل طور پر ایئرکنڈیشنڈ ہے۔ دارالسلام لائبریری میں تشریف لانے والے قارئین مطالعہ کے لئے اپنی ذاتی کتب بھی لا سکتے ہیں۔ اتوار کے روز صبح 9بجے تا 9بجے شب کھلے رہنا اس کتب خانے کی امتیازی خصوصیت ہے۔ یہ لائبریری اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ یہ اتوار کے روز بھی کھلی رہتی ہے۔

قارئین کی طلب پر بازار سے فوری کتب فراہم کی جاتی ہیں جو کہ اس لائبریری کی انفرادی خصوصیت ہے۔ لائبریری میں انٹرنیٹ، پرنٹر، فوٹو کاپی کی سہولت بھی موجود ہے، اس وقت اس کتب خانے کا بڑا مسئلہ تنگ دامنی ہے، اس میں صرف 200 قارئین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ روزانہ تشریف لانے والے قارئین کی تعداد 200-250 کے درمیان ہے اور اس تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی کتب رکھنے کی جگہ کم ہے۔ ماضی میں اس کتب خانے میں ایک خوبصورت بچوں کا شعبہ قائم کیا گیا تھا، لیکن جگہ کی کمی کی وجہ سے اسے بند کر دیا گیا، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ باغ جناح کی خوبصورتی کو متاثر کئے بغیر لائبریری کی زیرزمین توسیع کی جائے تاکہ بچوں اور خواتین کا شعبہ از سر نو قائم کیا جا سکے، اس کتب خانے کا دوسرا بڑا مسئلہ فنڈز کی کمی ہے۔ لائبریری کی آمدنی کا بڑا ذریعہ گلشن ریسٹورنٹ کے ٹھیکہ سے موصول ہونے والی رقم ہے۔ حکومت پنجاب صرف 3لاکھ روپے سالانہ گرانٹ دیتی ہے جو کہ اس لائبریری کی ضروریات کے لئے ناکافی ہے۔ حکومت پنجاب سے اپیل ہے کہ اس ادارے کی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس ادارے کی گرانٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرے۔

لائبریری کی سالانہ ممبر شپ فیس 300/- روپے ہے۔ سیکیورٹی فیس 500/- روپے ہے جو قابل واپسی ہے، لائبریری کے اوقات صبح 9:00 بجے سے رات 9:00 بجے تک ہیں۔ امتحانات کے دنوں میں طلبہ کی سہولت کے لئے لائبریری رات 10:00 بجے تک کھلی رہتی ہے۔ (ختم شد)

مزید : کالم


loading...