لوکل باڈیز آرڈیننس 2001ء: مالی ومعاشی مضمرات (1)

لوکل باڈیز آرڈیننس 2001ء: مالی ومعاشی مضمرات (1)
لوکل باڈیز آرڈیننس 2001ء: مالی ومعاشی مضمرات (1)

  


ضلعی حکومتوں کا نظام بغیر کسی سوچے سمجھے رویے کے حرفِ تنقید بنتا آرہا ہے۔اس کی تنقید کا زیادہ تر محور اس کی انتظامی کمزوریاں،سیاسی استعمال اور مالی بے ضابطگیاں ہیں۔اگرچہ یہ تینوں پیمانے کسی بھی ادارے یا منصوبے کی کارکردگی یا گڈگورننس جانچنے کے لئے نہایت ضروری ہیں اور میری نظر میں یہ تینوں بذات خود کسی ادارے کی تباہی، ناکامی یا بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں ۔ان پر سیر حاصل بحث بھی ہو سکتی ہے، لیکن اس سے کسی تجزیاتی یا عملی پہلو نکلنے کی گنجائش ناممکن ہے،البتہ الزامات و خدشات کا سیلاب برآمد ہونے کے زیادہ امکانات مسلم ہیں،اسی لئے بے معنی الزام تراشی کے بجائے اس آرڈیننس میں موجود چیک اینڈ بیلنس اور احتسابی و نگرانی کے نظام کو زیر بحث لانا مناسب ہوگا ،جن کو کسی حد تک حالات کی بنیاد پر بیان کیا جا سکے اور پرکھا جا سکے۔اگرچہ میرا مالی و معاشی عناصر و انتظامات کا تجزیہ بھی اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مالی و معاشی نظام، جس میں احتساب و نگرانی کا نظام شامل ہے ،کی ناکامی کی صورت میں انتظامی بے ضابطگیاں اور کوتاہیاں ،سیاسی و سماجی منفی اثرات کے لئے راہ ہموار کردیتی ہیں۔یہی صورت حال ضلعی حکومتوں کے نظام کے ساتھ پیش آئی۔اس کے مالی و معاشی نظام کی مناسب تشریح ، اس سے آگاہی اور اس کی عملداری میں ایسی کوتاہیاں سامنے آئیں ، جنہوں نے اس کو سیاسی و سماجی سطح پر میڈیا و عوام اور اسمبلیوں میں سخت تنقید کانشانہ بنایا اور اس کے منفی اثرات کو دیکھتے ہوئے یقیناً ٹھیک نشانہ بنایا۔

یہ سطور لکھنے کی کاوش کا مقصد بھی یہی ہے کہ مَیں نظام میں موجود مالی و معاشی کمزوریوں کی موجودگی کی نشاندہی کروں۔ان پر عملداری میں پیش آنے والی کوتاہیوں کا احاطہ و تجزیہ کروں اور ان کے سیاسی ، سماجی ومعاشرتی مضمرات کی نشاندہی کروں، تاکہ اس نظام کو یکسر مسترد کرنے کی بجائے ،اس کی کمزوریوں کو دور کرنے کا جتن کیا جائے اور اس کی اچھی باتوں کی عملداری کویقینی بنانے کے لئے کچھ نہ کچھ مشورے مرتب کئے جائیں، تاکہ ایسا نظام جس پر تقریباً دس سال میں سات سو ارب صرف ضلعی انتظام میں خرچ ہوئے ہیں، اس کا کوئی حساب کتاب ڈھونڈا جا سکے،اگرچہ یہ آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی آئینی ذمہ داری ہے، لیکن اس میں صوبائی حکومتوں، عوام، میڈیا اور ٹیکس دھندگان کوبھی فکر مند و چوکس ہونا چاہیے، تاکہ تمام متعلقہ اداروں کی نگرانی کرکے ان کو اس بات کا پابند کیا جا سکے کہ وہ عوامی توقعات پر پورااتریں، بجٹ کے اہداف کی طرف قدم قریب تر کریں اور عوام کے لئے ضلعی حکومتوںکے آرڈیننس 2001ءکے مقاصد میں کامیابی کی سبیل کریں۔اس سے جہاں ترقی کے کم قیمت اہداف حاصل کرنا آسان ہوگا، وہاں ترقیاتی تفریق جس سے صوبوں کے علاوہ اضلاع بھی آپس میں متصادم ہورہے ہیں۔وہ بھی کم سے کم ہوتی جائے گی۔اگر یہ آرڈیننس اچھے اوراحسن طریقے سے عمل میں آجاتا تو آج نئے صوبوں کی ضرورت اتنی شدت سے محسوس نہ ہوتی، بلکہ اگر اب بھی سیاسی شعور اور مفاہمت اختیار کرکے اس نظام کے نقائص دور کردیئے جائیں اور اس میں ممکنات کی تشریح کرکے باعمل بنا دیا جائے تو جلد نئے صوبوں کی خواہش ماند پڑ جائے گی کہ اس سے وہی مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ضلعی حکومتوں کے آرڈیننس 2001ءکے پانچ اہم بنیادی مقاصد تھے:

1۔سیاسی قوت و اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی

2۔انتظامی اتھارٹی کی لامرکزیت

3۔انتظامی عمل کی لامرکزیت

4۔قوتِ اختیار کی تقسیم اور دائرہ اختیار کی وسعت

5۔وسائل کی ضلعی سطح تک تقسیم

اقتدار کی منتقلی اور لامرکزیت کا مقصد گڈگورننس کے لئے سب کی شمولیت کا مستحسن انتظام کرنا تھا۔ جس کے لئے چار بنیادی عناصر پر زور دیا گیا تھا:

1۔(فیصلوں اور اقتدار میں) عوامی شمولیت

2۔پروانہ اختیار برائے عوام

3۔نظام کی شفافیت

4۔احتسابی نظام کی اثر انگیزی

اس نظام کا بنیادی ڈھانچہ صوبائی فنانس کمیشن اورصوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ کے گردگھومتا ہے۔صوبائی فنانس کمیشن نے مالی معاملات اور وسائل کی نشاندہی اور وصولی کرکے صوبائی کنسولیڈیٹڈفنڈ کا حصہ بنانا ہوتا ہے،جس سے صوبہ اپنا حصہ نکال کر باقی ضلعی فنڈ میں ڈال دیتا ہے اور اس کے علاوہ صوبائی پبلک اکاﺅنٹ کی طرح ضلعی پبلک اکاﺅنٹس الگ رکھا جاتا ہے۔کنسولیڈٹیڈ فنڈ کی تعریف یہ ہے کہ صوبے کے خزانے میں ہر آنے والا پیسہ جس میں آمدنی و قرضوں کی واپسی، گرانٹ یا دوسرے محصولات شامل ہوں، جبکہ پبلک اکاﺅنٹ صوبائی یاضلعی حکومت کا وہ اکاﺅنٹ ہے،جس میں اس حکومت کی وہ امانتیں اور واجب الادا رقوم ہیں،جو اسے وقت کے ساتھ ساتھ واپس کرنا ہوتی ہیں، جیسے ٹھیکیداروں کی کاٹی گئی سیکیورٹی ،مختلف مدوں میں عدالتوں کی سیکیورٹی اور اسی طرح ملازمین کی پینشن اور جی پی فنڈ وغیرہ سب سے پہلے تو اس اہم ترین مالی نظام کی ان شقوں پر من و عن عمل نہ ہو سکا۔مثلاً صوبائی فنانس کمیشن کی میٹنگ کا انعقاد شاذونادر ہی ہوا۔اسی طرح صوبائی حکومت نے کبھی بھی ضلعی حکومتوں کو یہ نہ بتایا کہ ان کا کتنا حصہ محصولات میں بنتا ہے اور کتنا وہ ضلعی حکومتوں کو دے رہے ہیں اور دیں گے۔

اصولاً ضلعی حکومتوں کا بجٹ بے یارومددگار طریقے سے چلتا رہا، بلکہ صوبائی افسران کی آشیربادسے ضلعی حکومتوں کو احسان کی طرح ملتا رہا۔اس سے خاص طور پر ضلعی ترقیاتی کام بہت متاثر ہوئے، کیونکہ اکثر جگہ ٹھیکیدارفنڈ نہ ہونے کی اطلاع پر کام بند کردیتے یا نئے کام لینے سے پرہیز کرتے ،اس سے ضلعی حکومتوں اور ٹھیکیداروں میں مستقل محاذ آرائی اور تناﺅ کا ماحول رہا۔یہی صورت حال تنخواہوں کی مد میں دیکھنے میں آتی رہی، جو مالی و انتظامی بدنظمی کا منہ بولتا ثبوت تھا اور صوبائی حکومت اور فنانس کمیشن اس کے ذمہ دار تھے،لیکن اس پر نظررکھنے والی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی اپنے اختیارات سے خود کو سبکدوش کئے بیٹھی رہی۔وہ سیکشن 16کے تحت ڈی سی او کے ذریعے ضلعی حکومت کے معاملات جاننے اور جانچنے کی مجاز تھی،لیکن اس احتسابی نظام کے تمام کردار، جن میں صوبائی حکومت بذریعہ صوبائی فنانس کمیشن و کمیشن برائے مقامی حکومت، صوبائی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی، انٹرنل آڈٹ، ضلعی اکاﺅنٹس کمیٹی، ضلعی کنسولیڈٹیڈفنڈ اور اکاﺅنٹس ،ضلعی محتسب آڈٹ اور ضلعی مانیٹرنگ کمیٹیاں بے بس و خاموش تماشائی بنی رہیں، جس نظام میں اتنے زیادہ سیفٹی والو یا احتیاطی نظام موجود ہوں اور وہ کام نہ کرے یا ان کو کام نہ کرنے دیا جائے تو اس نظام کی کامیابی کی توقع کرنا دیوانے کا خواب ہی کہا جا سکتا ہے۔

ضلعی حکومت مالی اور احتسابی نظام کے خدوخال اور کارکردگی:جیسا کہ ضلعی حکومت کے آرڈیننس 2001ءکے جائزے سے پتا چلتا ہے کہ یہ ایک اچھی سرکاری دستاویزات میں سے ہے،جس کے مقاصد نہایت واضح اور قابل عمل تھے، البتہ اس کے لئے معاشرتی و انتظامی تربیت ، سیاسی تدبر و سوچ اور عمل کی سچائی کی ضرورت تھی، جو صرف قومی لیڈروں اور منجھے ہوئے سیاسی لوگوں میں ہو سکتی ہے،جبکہ زبانِ زدِ عام ہے کہ یہ چند جرنیلوں کی اعلیٰ انتظامی ڈھانچے ،یعنی ڈی ایم جی اور پولیس کے اندھے اختیارات سے نفرت، بغض اور اس سیاسی جن کو قابو کرنے کی خواہش پرمبنی ایک ایمرجنسی انتظام تھا کہ جس میں سیاسی لوگ ایسے ہی شامل تھے، جیسے کسی معتبر آدمی کی شادی میں لوگ جانا پسند کرتے ہیں، تاکہ اس کی خوشنودی حاصل کی جا سکے یا کسی بڑے خاندان کے کسی جنازے میں شامل ہونا ضروری سمجھتے ہیں۔اس نظام کو سوچنے والے اور چلانے والے سارے ادھار کے تھے کہ جن کا نظام کی زمین سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ وہ کسی بڑے مقصد و سوچ کے تحت منظم اور یکجا تھے،جبکہ اس نظام کو لاگو اور باعمل کرنے والے منظم ، گہری سوچ اور مفاد رکھنے والے لوگ تھے۔

یہ موجودہ نظام کی شدید اور اہم تبدیلی تھی، لیکن انسانی اور بین الاقوامی انتظامی دستور کے مطابق ایسے نئے معاشرتی ،معاشی و سیاسی نظام کو لاگو کرنے سے پہلے اس کے اثرات ومضمرات، قیمت و کامیابی کے امکانات کو جانچنے کے لئے اس کا ماڈل بنا کر تجرباتی طور پر کچھ حصوں میں لاگو کیا جاتا ہے اور پھر اس تجربے کی روشنی میں اس کا دائرہ کار بڑھایا جاتا ہے اور ضروریات و ترجیحات کی بناءپر اس میں گاہے بگاہے مناسب تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔اسے پائلٹ پراجیکٹ بھی کہتے ہیں، لیکن یہ تو نظاموں کے اصل وارث کرتے ہیں، جبکہ یتیم وارثوں کے نگران ایسی زحمت کیوں گوارہ کریں گے کہ ان کے اپنے مقاصد و مجبوریاں ہیں ۔ان کو پتا ہے ۔ان کو باری ملی ہے، کسی کی امانت نہیں ملی۔ویسے بھی دنیا میں کوئی اچھائی برائی کے ذریعے نہ پھیلی ہے اور نہ پھیل سکتی ہے۔انتظامی تجربے اور تجزیے کے مطابق یہ ایک منظم ڈکٹیٹر مافیا کا سیاسی نظام اور ڈھانچے کو یرغمال بنانے اور قابو کرنے کا طریقہ تھا جو بظاہر باعمل ضرور تھا، لیکن اس کی عملی تشکیل میں اس کے خفیہ مقاصد کچھ اور تھے ۔اس نظام کا اصل مقصد مفاد پرستوں کو منظم کرکے ان کو نواز کر ان کے ذریعے اپنے اقتدار کو دوام بخشنا تھا،اسی لئے اس اچھے دستاویزاتی نظام میں چند اہم اداروں کو جو احتسابی اور نگرانی کے فرائض انجام دینے کے اہل تھے، عملی جامہ پہنانے میں باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں نظر آتی۔میرے اس تجزیے کی بنیاد بھی یہی اہم نقاط ہیں کہ جن پر عمل کیا جاتا تو صوبے میں تقریباً 700ارب روپے کے خرچ سے کام ہوتا نظر آتا۔میرے اس تجزیے میں کوشش ہوگی کہ قارئین اپنی نظر سے ان ناکام شواہد کو جانچیں کہ جن کی طرف میں اپنے تجربے سے اشارہ کرنا چاہ رہا ہوں۔اس سے شائد ہم کسی کو احتساب کے کٹہرے میں تو نہ لا سکیں ، لیکن کوئی نیا نظام یا تبدیلی لانے میں ان واضح کوتاہیوں، حماقتوں کاہل پن ، سازشوں، قباحتوں اور بدانتظامی کو توجہ طلب جان کر ان کے ادراک کی کوئی سبیل کرلیں، تاکہ اس قومی زیاں کا کوئی مفید استعمال بھی ہو سکے کہ جس کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ اصل انقلاب اس ضلعینظام کے مقاصد کی تکمیل ہی سے آ سکتا ہے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں صرف خونی انقلاب کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔جوکوئی ذی شعور پسند نہیں کرے گا، سوائے بین شدہ تنظیموں کے! (جاری ہے)

مزید : کالم


loading...