انصاف کہاں ہے؟

انصاف کہاں ہے؟
انصاف کہاں ہے؟

  


 امریکہ میں بھی ایگزیکٹو اور قانون ساز اراکین کے درمیان جاری کشیدگی پر باتیں ہورہی ہیں۔ اس جنگ کے فریق صدر اوباما، ان کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر اور رپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین ِ کانگرس ہیں۔ریبلیکن چلا رہے ہیں کہ انہیں دستاویزات دکھائی جائیں ،تاکہ وہ ایرک ہولڈر کو میکسیکو کی سرحد پر منشیات کی سمگلنگ کے خلاف کئے گئے ”آپریشن فاسٹ اینڈ فیوریس“کی ناکامی پر مورد ِ الزام ٹھہرا سکیں ،کیونکہ اس آپریشن کے دوران امریکی قانون نافذ کرنے والے افسران نے ہزاروں ہتھیار کھو دیئے اور اب وہ خطرناک ہتھیار ”گم شدہ “ قرار دے دیئے گئے ہیں۔ اپنی صدارتی مدت میں پہلی مرتبہ صدر اوباما نے اپنے صدارتی استثنا کو استعمال کرتے ہوئے وہ دستاویزات دکھانے سے انکار کر دیا ہے....”نیویارک ٹائمز“ نے اپنے اداریے میں اسے ”اپنے حامیوں کے دفاع کے لئے بے مقصد جنگ “ قرار دیا ہے۔ اخبار نے رپبلیکنز پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بڑی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک معمول کے معاملے کو بے مقصد آئینی محاذآرائی میں بدل دیا ہے۔ اس کی تہہ میں پیسہ، نسل پرستی اور سیاسی مفاد کارفرما ہیں۔اس کاوش سے یہ بات عیاںہوتی ہے کہ بہت سے افراد صدر اوباما کو اگلے انتخابات میں ہرانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

پاکستان میں بھی ایگزیکٹو اور عدلیہ کے درمیان جاری محاذآرائی نے آئینی بحران پیدا کر دیا ہے۔ لوڈشیڈنگ اور معاشی انحطاط جیسے مسائل سرد خانے میں ڈال دیئے گئے ہیں ،جبکہ تمام تر توانائیاں صحرا کی ریت چھاننے میں صرف کی جارہی ہیں۔ پاکستان کے ”ڈونلڈ ٹرمپ“کو تو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، کیونکہ انہوںنے کچھ بہت ہی ”خاص افراد“ کو رشوت دینے کی کوشش کی تھی ۔ اب وہ کسی قابل وکیل کی تلاش میں ہیں، جو اُن کا دفاع کر سکے۔ دوسری طرف امریکہ میں رجات گپتا جیل جانے کی تیاری کررہے ہیں۔ بھارتی نژادرجات گپتا کبھی دنیا کے معتبر ترین کاروباری افراد میں سے ایک تھے۔ امریکہ میں مقیم بھارتی شہری ان کو دیوتا سمجھتے تھے ،جبکہ وال سٹریٹ ان کے لئے چشم براہ رہتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ وہ اُس ہوٹل میں، جس میں مَیں کئی سال پہلے کام کرتی تھی، ایک اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے آئے ۔ تمام سٹاف اس طرح مودب تھا، جیسے مسٹر گپتا ، جو کہ نیویارک میں واقع بین الاقوامی مینجمنٹ اور کنسلٹنگ فرم ”میک کنسی اینڈ کمپنی “کے سربراہ تھے، کسی ملک کے بادشاہ ہوں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صاحب دنیا کے چوٹی کے کاروباری افراد، اداروں اور حکومتوںکے مشیر تھے۔ ہوٹل میں ان کی پذیرائی اس طرح تھی کہ جس بوتل میں انہوںنے پانی پینا تھا، اس کا بڑی احتیاط سے معائنہ کیا گیا ، جس کرسی پر انہوںنے بیٹھنا تھا، نہایت آرام دہ تھی، جس میز پر انہوںنے اپنے بازو رکھنے تھے، اس کو موزوں اونچائی کا بنایا گیا اور کمرے کا درجہ حرارت نہایت مناسب تھا۔ رجات گپتا ہوٹل سٹاف کے لئے دولت کے دیوتا تھے۔ ان کے ایک اشارے پر ان کو بونس مل سکتا تھا۔ اسی طرح ہمارے ہاں ملک ریاض صاحب کا ایک اشارہ یٹائرڈ جنرلوں ، ایڈمرلوںاور ان کے صاحبزادگان کی تنخواہوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔ آج گپتا کے ہاتھ کا پہناوا سونے کی بجائے سیسہ ہے ....(یہ ہے امریکی قانون کی طاقت) ....جبکہ ہمارے ہاں عدالت ابھی تک ملک صاحب کو ہاتھ بھی نہیں لگاپائی ۔

مسٹر گپتا پر الزامات یہ ہیںکہ جب وہ ”گولڈمین ساشز“ کے ڈائریکٹرز میں شامل تھے تو انہوںنے مبینہ طور پر اس فرم کے کاروباری راز اپنے دوست اور بزنس پارٹنر راج راجہ رتنم ، جو کہ ”گیلون گروپ “ کے سربراہ ہیں ، کو بتائے۔ سری لنکن نژاد راجہ رتنم غیر قانونی تجارت کی وجہ سے آج کل گیارہ سال قید کی سزا بھگت رہا ہے۔ گپتا پر آنے والے اکتوبر میں کیس چلایا جائے گا اور کیس کی نوعیت بتاتی ہے کہ اُن کو بیس سال تک قید ہو سکتی ہے۔ اس کیس کے مدعی پریت سنگھ بہارا کا کہنا ہے کہ اب گپتا کی زندگی کے اگلے سال پُر تعیش اپارٹمنٹس کی بجائے جیل کے تنگ سیل میں بسر ہوں گے۔ ”ٹائم میگزین “ نے اس کہانی کا عنوان ”دیسی بالمقابل دیسی“بنایا ہے، جبکہ بھارتی پریس نے اس کہانی کو اس عنوان سے شائع کیا ہے”پریت بہارا نے راجات گپتا پر کیسے ہاتھ ڈالا“؟ایک انڈین اخبار کے مطابق گپتا کلکتے سے تعلق رکھنے والا ایک یتیم لڑکا تھا ۔ وہ خوابوںکی تلاش میںامریکہ گیا اور ان کی تعبیر پالی۔ اس نے ایسی زندگی بسر کی، جو سنائی جائے تو افسانہ معلوم ہو۔ تاہم ان کی زندگی کا اگلا باب ایک اور بھارتی پریت بہارا ،جو ہاورڈ اور کولمبیا سے قانون کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں، کے قلم نے لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ وال سٹریٹ میںہونے والی تمام بے قاعدگیوںکو بے نقاب کرے گا اور اس کوشش میں وہ گپتا کے گرم تعاقب میںہے۔

ہمارے ہاں ملک ریاض ،چیف جسٹس آف پاکستان کے بیٹے کے خلاف الزامات لگاتے ہوئے ایک پنڈورہ باکس کھول بیٹھے ہیں۔ اب اس باکس سے نت نئے راز فاش ہوتے رہیںگے، جبکہ میڈیا کے شرلاک ہومز ان کی گھات میں ہیں ۔ تبصرے بھی بہت ہوں گے ،مگر، خاطر جمع رکھیں، ہمارے ہاں ایک چیز شجر ِ ممنوعہ ہے کسی بھی مجرم کو سز ا نہیںہوگی۔ چاہے کوئی توہین ِ عدالت کرے، رشوت دے ، رشوت لے یا کوئی چینل”طے شدہ“ لائیو انٹرویو نشرکرے۔ یہاں یہی پتلی تماشا چلتا رہے گا، یہاں تک کہ کوئی نیا سکینڈل ”ہٹ“ نہ ہو جائے۔ امریکہ میں بھی حالات زیادہ مختلف نہیںہیں۔ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اقدامات کرنے کی بجائے دونوں صدارتی امیدوار ، اوباما اور مٹ رومنی رقم اکٹھی کرنے میںلگے ہوئے ہیں۔ صرف ایک رات میں صدر اوباما نے نیویارک میں فنڈ اکٹھاکرنے کے لئے چھ تقریبات میں شرکت کی۔ ان میں سے سب سے قابل ِ ذکر ”سیکس اینڈ سٹی “ کی سٹار سارا جیسکا پارکر کے گھر میں ہونے والی تقریب تھی۔ سارا نے ہر مہمان سے چالیس ہزار ڈالر وصول کئے۔ اس تقریب میں شریک میزبان ”Vogue“رسالے کی ایڈیٹر انا ونٹور تھی ، جو کہ مسٹر اوباما کے لئے فنڈ اکٹھے کرنے میں پیش پیش رہتی ہیں۔ دوسرے صدارتی امید وار مٹ رومنی بھی فلم سٹارز سے بھری ہوئی تقریبات میں امیر عطیات دینے والوںسے چیک وصول کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک ایسی ہی تقریب کا نام تھا”ڈونلڈ کے ساتھ ڈنر کیجیے “ ۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے امیر دوست صدر اوباما کو شکست دینے اور وائٹ ہاﺅس میںکسی سفید فام کو داخل کرنے کے لئے پُر عزم ہیں۔

جو لاکھوں ڈالر امریکی صدارتی امیدوار حاصل کریںگے ، وہ کہاں جائیںگے ؟اس کا جواب ایک لفظ میں دیا جاسکتا ہے ٹیلی ویژن.... صدراتی امیدوار ٹی وی چینلوں سے وقت خریدنے اور اشتہارات پر لاکھوں ڈالر خرچ کریںگے۔ جیسے جیسے انتخابات کا وقت قریب آتاجائے گا، ان کی ٹی وی پر تشہیر بازی میں شدت آتی جائے گی، تاہم امریکہ میں ایک ایمانداری ہے کہ فنڈز سے حاصل کردہ رقم ذاتی عیش وعشرت پر خرچ نہیں کی جاتی ۔ اگرکوئی ایسا کرتا ہوا پایا جائے تو وہ جیل جا سکتا ہے۔ آپ کو جان ایڈورڈ، جو کہ جان کیری کے ساتھ نائب صدرکے عہدے کے لئے امیدوار تھے، کا سکینڈل یاد ہوگاان کا ریلی ہنٹر کے ساتھ معاشقہ منظر عام پر آیا ۔ ان کے اس عشق کے نتیجے میں ایک بیٹی Quinn بھی ہے۔ کچھ گھر کے بھیدیوںنے یہ راز فاش کر دیا کہ مسٹر ایڈورڈ نے فنڈز کی رقم سے ایک ملین خرچ کئے، تاکہ اس اسکینڈل کو منظر ِ عام پر آنے سے روکا جا سکے۔ ا ب وہ حال ہی میں رہا ہو کر باہر آئے ہیں۔ بہت سے امریکی ان کو گھٹیا کردار کا انسان سمجھتے ہیںکہ انہوںنے اپنی کینسر کی مریض بیوی کو دھوکہ دیا۔ ریلی ہنٹر نے ایک اس معاشقے کے حوالے سے ایک کتاب بھی لکھ دی ہے کہ ”اصل معاملہ کیا تھا“۔ اب وہ اس کے حوالے سے مختلف پریس انٹرویوز میں بات کررہی ہے۔ آپ امریکی قانون کو جو مرضی کہہ لیں ،مگر یہ سب معاملہ بہت عجیب ہے کہ جو بات عام امریکیوںکے لئے ”معمول “ کی بات ہے ، وہ اہم سیاست دانوںکے لئے ممنوع ہے۔ ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔

ایک اور مشہور شخص ،جو جیل میں سزا بھگتنے کے لئے تیار ہے ،وہ جیری سینڈسکی ہے۔ وہ پین سٹیٹ یونیورسٹی میں فٹ بال کا کوچ تھا اور اس نے کئی سال تک وہاں لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس نے ایک رفاہی ادارہ ”سیکنڈ مائیل“ قائم کیا ہوا تھا اور بظاہر اس کا مقصد ان نوجوانوںکی مدد کرنا تھا جو شدید خطرات کی زد میںہوں۔ اس مدد کی آڑ میں اس نے ان کو درندگی کا نشانہ بنایا۔ جب ایک بارہ رکنی بنچ نے اس کے کیس کی سماعت کی تو اکاون افراد عدالت کے سامنے پیش ہوئے، جنہوںنے اعتراف کیا کہ سینڈسکی نے انہیں جنسی درندگی کا نشانہ بنایا تھا۔ ڈپٹی اٹارنی نے امید ظاہر کی ہے کہ متاثرہ افراد سے انصاف کیا جائے گا اور مجرم کو سزا دی جائے گی۔ ہماری دنیا میں انصاف منقسم ہے بعض کو سزا ملتی ہے ، بعض آزاد دنددناتے پھرتے ہیں۔ بس یہی ایک فرق ہے۔

مزید : کالم


loading...