جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

  


میڈیکل سائنس کا یہ دعویٰ کہ انسان کی تمام دماغی بیماریوں کا علاج اس کے پاس موجود ہے، خصوصاً نفسیاتی بیماریوں کا علاج کونسلنگ سے سو فیصد ممکن ہے۔ اس دعوے کو ہو سکتا۔دنیا کے دوسرے ممالک کے لوگ سچ مانتے ہوں، مگر پاکستانی اسے ہرگز سچ نہیں مان سکتے کہ جن کی اشرافیہ پچھلی چھ دہائیوں سے اس عجیب و غریب نفسیاتی مرض میں مبتلا ہے کہ وہ بلوچوں کے حقوق طاقت کے زور پر دبا کر سکون کی زندگی جی سکتی ہے۔ کوٹ ٹائی والا احساسِ برتری کا شکار یہ گروہ سمجھتا ہے کہ بلوچستان کے تمام وسائل پر اس کا حق ہے۔ جدید تعلیم، صحت کی معیاری سہولتیں، بہترین سڑکیں، فیکٹریاں و کارخانے، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ اور خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر صرف ان کے ممی ڈیڈی قسم کے برگر بچوں کا حق ہے، جبکہ بلوچ بچوں کا نصیب بکریاں چرانا، بیماریوں سے سسک سسک کر مرنا، کچے راستوں کی دھول مٹی کھانا اور ایجنسیوں کے پروردہ سرداروں کی نسل در نسل غلامی کرنا ہے تو یہ اس کی بھول ہے....پتہ نہیں کیوں ہمارے ذہن کا پنڈولم ایک طرف اگر ہلا دیا جائے تو وہ اسی ڈگر پر ہی کیوں رہتاہے اور یہ نہیں سوچتا کہ وہ وقت کو آگے کی طرف نہیں، بلکہ پیچھے کو لے جا رہا ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ بالکل ہی مختلف ہے اوراس کو حل کرنے کے سارے فارمولے اُلٹ آزمائے جا رہے ہیں۔ پسماندگیوں، محرومیوں اور نفرتوں کا ازالہ کر کے انہیں گلے لگانے کی ضرورت ہے، مگر ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے سطحی سوچ کے پالیسی ساز طاقت سے انہیں زیر کر کے اپنے سینوں پر شجاعت کے تمغے سجانے کے خوفناک خواب دیکھ رہے ہیں۔

مرض کی تشخیص کے بغیر علاج انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے پاس تو اس کا علاج قطعاً نہیں کہ مسئلہ سیاسی ہے، سو فیصد سیاسی اور سیاست کے جغادری ہی اسے حل کر سکتے ہیں۔ سیاست بات چیت کا کھیل ہے۔ ایک دوسرے کا موقف سن کر لچک پیدا کر کے مسئلے کا قابل قبول حل ڈھونڈا جاتا ہے۔ طاقت کے استعمال سے مسئلے حل نہیں ہوتے، مزید بگڑ جاتے ہیں۔ بعض اوقات وقتی طور پر طاقت سے دب جاتے ہیں، مگر جلد ہی پہلے سے زیادہ شدت سے اُبھرتے آتے ہیں۔ چنگاری کو راکھ میں دبانے سے وہ بجھ نہیں جاتی، بلکہ سُلگتی رہتی ہے۔ فوج کا کام مسئلے حل کرنا نہیں۔ سپاہیوں کا کام کسی بھی علاقے پر کنٹرول حاصل کر نا ہوتا ہے۔ دشمنوں کو مار بھگانا، پلٹنا، جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا، فوج جسموں کو زیر کرتی ہے، دشمنوں سے علاقہ چھین کر اپنی فتح کا جھنڈا گاڑنے کی تربیت رکھتی ہے، لیکن بلوچستان تو اپنا علاقہ ہے، وہاں کے لوگ ہمارے بھائی ہیں۔ ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ ان کے جسموں کو زیر کرنا مسئلے کا حل نہیں، دلوں کو فتح کرنے کی تدبیریں کرنے کی ضرورت ہے۔ انسانی وجود کو فتح کیا ہی نہیں جاسکتا۔ انسان اور جانور میں یہی تو فرق ہے کہ جانور کا جسم کنٹرول کر لیا جائے تو وہ خود کو سرنڈر کر دیتا ہے، جبکہ انسان کا جب تک دل نہ جیتا جا سکے یہ خود کو سرنڈر نہیں کرتا۔ خدارا جانوروں کے فارمولے انسانوں پر آزمانے کی ناکام کوشش نہ کریں۔ مسئلہ جسموں کو کنٹرول کرنے کا ہرگز نہیں، دل جیتنے کا ہے اور یہ سیاستدانوں سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا اور اصل فتح ہے بھی یہی جو دلوں کو جیت لے وہی فاتح ۔ زمانہ.... بنگال میں کالے ناٹے گندے بدبودار بنگالیوں کو بظاہر کنٹرول کرنے والے سورما پلٹن گراو¿نڈ میں شکست فاش سے دوچار ہوگئے تو پھر بھی آخر میں سیاستدانوں کو ہی آگے آنا پڑا۔ اسٹیبلشمنٹ اس سے پہلے ہارمان کر وہ سب دینے پر راضی ہوگئی جو بنگالیوں نے کبھی مانگا ہی نہ تھا۔ کیوں نہ بلوچوں سے بات چیت کر کے مسئلے کا حل ڈھونڈا جائے، جو دس سال سے طاقت کے زور پر صرف بگڑ ہی رہا ہے۔ انہیں عام معافی دے کر بات چیت سے مسئلے کو حل کیا جائے۔

مکہ فتح ہو چکا، مکہ کی گلیوں میں کافروں کے خون سے سیلاب بہایا جاسکتا تھا۔ اسلام کے دشمنوں کی چیخوں سے شہرکے در و دیوار کانپ اٹھتے، مگر دنیا کے سب سے عظیم دانشور فاتح ، محمد رسول اللہﷺ نے عام معافی کا اعلان کر کے مثال قائم کر دی کہ صرف انسانی وجود ہی نہیں دل فتح کر کے فاتح عظیم بنا جاتا ہے۔ یہی لوگ آگے چل کر اسلام کی طاقت بنے اور دین محمدی کے لئے جانیں تک قربان کرگئے۔ رگوں میں دوڑتے غیرت مند خون کو زمین پر نا حق بہایاجائے تو اس زمین سے وفا اور قربانی کی فصل نمو نہیں پاتی۔ نفرت و بغاوت کی خوفناک جھاڑیاں اُگتی ہیں۔ گولی صرف نفرت کی زبان بولنے کی ہی صلاحیت رکھتی ہے۔ گھر میں رکھی بندوق بیرونی دشمن کے لئے ہوتی ہے، اپنے گھر میں اپنے لوگوں پر چلانا شروع کر دیں گے تو پھر بیرونی دشمن کے مقابلے میں کمزور ہو جائیں گے۔ اشرافیہ عجب احساس کمتری کی شکار ہے۔ انگریزوں کا ان کے ذہنوں میں داخل کیا ہوا بیکٹریا ان کے دماغوں کو ماو¿ف کر چکا۔ یہ خودکو سپریئر اور عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں۔ بلوچوں کو وہ حقوق کیوں نہیں دئیے جا رہے جو خون چُوسنے والے پیرا سائٹیوں کو لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں حاصل ہیں۔

جو حق مانگتا ہے، اسے خاموش کرنے کی پالیسی کیوں؟.... کیا اس سے حق کی آواز اٹھنا بند ہو جائے گی؟ احمقانہ خود فریبی ہے، حق ادا کرنے سے ہی حقوق کی آواز مدہم پڑ سکتی ہے۔ افسوس کہ ذہنی معذوروں نے وفاق کی سیاست کا سب سے بڑا بلوچ شاہ بلوط نواب اکبر بگٹی گرا دیا۔ اتنا بھی ادراک نہیں کر سکے کہ جب وفاق کے گھنے تناور درخت کاٹیں گے تو پھر صوبائیت کے زہریلے سنکیا تیزی سے نشوونما پائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کے خراب حالات میں انڈیا کا ہاتھ ہے، یقیناً ایسا ممکن ہے، مگر یہ بھی حقیقت کہ جب اپنوں کے ہاتھ زخم لگا رہے ہوں تو پھر غیروں کے مرہم لگاتے ہاتھ اچھے لگتے ہیں۔ بلوچستان میں نفرت و بغاوت کی فصل کو ممکن ہے انڈیا کھاد ڈال رہا ہو، لیکن اس کی آبیاری کرنے کا سہرا تو ہمارے ہی سر ہے۔ نفرت و بغاوت کی اس فصل کو تلف کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم محبت و امن کا کیمیکل ڈالیں۔ سنگینوں کی بجائے تعمیری عمل کا آغاز کریں۔ سیاسی عمل کا سنجیدگی سے آغاز کریں۔ جسموں کو زیر کرنے کا طریقہ تو سیدھا سادا ہے، مگر اس بیماری کا کیا کریں جو اشرافیہ کو نفسیاتی جنوں میں مبتلا کئے ہوئے ہے کہ جینے کا حق صرف انہی کو ہے اور تمام وسائل سے خوشحال زندگی گزارنے کا اختیار صرف ان کے بچوں کو حاصل ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ اشرافیہ کے لاعلاج نفسیاتی مرض کا علاج ڈھونڈا جائے، تب ہی کوئی مثبت حل نکل سکتا ہے۔ پہلے یہ اپنی اس بیماری کی بھینٹ بنگلہ دیش کو چڑھا چکی۔ اب بلوچستان پر اس کی نظر ہے۔ قوم کو متحد ہو کر ان نفسیاتی مریضوں کی تمام حماقتیں ناکام بنانا ہوں گی۔ صوبائیت، لسانیت اور قومیت کا نعرہ لگانے والوں کو مسترد کر کے پاکستانیت کا پرچم بلند کرنا ہوگا۔ اسی میں ہماری ترقی کا راز چھپا ہوا ہے، وجود کا کوئی ایک حصہ شل رکھ کر باقی وجود سے یہ امید لگا لینا کہ وہ مکمل جسم کا کردار ادا کر سکے گا،کسی طور ممکن نہیں ہے۔  ٭

مزید : کالم


loading...