روزانہ آٹھ ارب روپے کی کرپشن

روزانہ آٹھ ارب روپے کی کرپشن

قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے کہا ہے کہ قومی خزانے میں روزانہ 6 سے8 ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے۔ یہ کرپشن مختلف سرکاری محکموں میں ہوتی ہے۔

اگرچہ چیئرمین نیب نے اس ضمن میں کوئی تفصیلات تو نہیں بتائیں لیکن کرپشن کا زہر جس تیزی سے ہمارے معاشرے میں سرایت کر گیا ہے اس کے پیش نظر کسی کو بھی چیئرمین نیب کے انکشاف پر نہ تو حیرت ہوگی اورنہ کوئی اس پر شک وشبے کا اظہار کرے گا چند ماہ پیشتر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے کہا گیا تھا کہ موجودہ حکومت کے چار سال میں 8500 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے تو حکومت نے اس پر ٹرانسپیرنسی کی مذمت کی تھی اور اسے منفی پروپیگنڈا قرار دیا تھا۔ معلوم نہیں اب حکومت اپنے ہی ایک ادارے کے سربراہ کے انکشاف پر کیا مو¿قف اختیار کرے گی؟ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس حکومت کے دور میں بدعنوانی کے جتنے بھی معاملات سامنے آئے ان میں حکومت میں شامل بڑے بڑے لوگ ملوث پائے گئے‘ یا پھر اعلیٰ سرکاری افسران کاہاتھ دیکھا گیا۔ پاکستان سٹیل ملز‘ حج کرپشن سکینڈل‘ ریلوے‘ رینٹل پاور‘ این آئی سی ایل‘ ایفیڈرین سکینڈل اور اس قسم کے تمام سکینڈلوں کی تحقیقات میں توجہ اس امرپر مرکوز رکھی گئی کہ با اثر بدعنوان لوگوں کو کیسے بچایا جائے‘ تحقیقاتی افسروں کو بار بار بدلا گیا اور جن افسروں نے غیر جانبدارانہ تفتیش کی انہیں دور دراز علاقوں میں سزاکے طور پر تبدیل کر دیا گیا۔ ایسے جرا¿ت مند افسروں کو وزراءنے براہ راست دھمکیاں بھی دیں اور اس ضمن میں سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی پروا نہ کی گئی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ خود نیب بھی بدعنوانی کے ان کیسوں میں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکا۔ ایڈمرل (ر) فصیح بخاری کا انکشاف اپنی جگہ بہت چونکا دینے والا سہی‘ لیکن سوال یہ ہے کہ روزانہ 6 سے8ارب کی کرپشن روکنے کیلئے متعلقہ ادارے بھی کچھ کر رہے ہیں یا نہیں‘ اور کیا چیئرمین نیب اس انکشاف کے بعد اپنے فرائض سے بری الذمہ ہوگئے؟ حکومت کو چیئرمین نیب کے اس انکشاف کے بعد جائزہ لینا چاہیے کہ کیا اس کرپشن کو روکنے کی بھی کوئی صورت ہے یا نہیں؟لگتا ہے کرپشن کا یہ جن اتنا طاقتور ہوگیا ہے کہ کوئی اس پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت رکھتا ہے نہ ارادہ۔معلوم نہیں کرپشن کا یہ زہر ہماری قومی زندگی کو کب تک زہریلا کرتا رہے گا؟  

مزید : اداریہ


loading...