بااثر پٹوای کی کرپشن پرائیویٹ منشی کے ذریعے وصولیوں کا انکشاف

بااثر پٹوای کی کرپشن پرائیویٹ منشی کے ذریعے وصولیوں کا انکشاف

لاہور (عامر بٹ، تصاویر ذیشان منیر سے) محکمہ مال کے اعلیٰ افسران نے ممبر جوڈیشل 6 کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے مقامی سیاسی شخصیات کی سفارش پر موضع شادی پورہ بااثر پٹواری کو مستقل بنیادوں پر الاٹ کردیا۔ شادی پورہ میں اشتمالات کے اندراج اور فردات کو جاری کرنے کے عوض رشوت وصولی کی مہم بھی عروج پر پہنچ چکی ہے جبکہ عوام الناس سے ڈیلنگ کیلئے باقاعدہ رشتہ داروں سمیت پرائیویٹ منشیوں کو سرکاری ریکارڈ پر بیٹھا دیا گیا۔ فی اشتمال اندراج فیس 3 ہزار جبکہ فریش فرد کے 2500 روپے وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ روزنامہ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے سروے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ موضع شادی پورہ کے پٹواری خالد حسین کو یہاں پر تعینات ہوئے 4 سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر مقامی سیاسی شخصیت کی سفارش اور ریونیو کے اعلیٰ افسران کو نوازنے کی افواہوں کی وجہ سے مذکورہ پٹواری کو قانون ضابطے کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ سینئر ججز کی ہدایت پر جوڈیشل ججز بورڈ آف ریونیو 6 کی جانب سے ریونیوکے اعلیٰ افسران کو 3 سال سے زائد عرصہ سرکلوں پر قبضہ جمائے ہوئے بیٹھے پٹواریوں کے تبادلوں کا حکم بھی ردی کی ٹوکری کی نذر ہوچکا ہے۔ دوسری جانب مذکورہ پٹواری نے موضع شادی پورہ کو اپنے عزیز محسن اور پرائیویٹ طور پر سرکاری ریکارڈ پر بیٹھائے جانے والے منشی شہزاد اور ارسلان کے حوالے کررکھا ہے جو کہ عوام الناس سے فی اشتمال کو درج کرنے کیلئے 3 ہزار روپے جبکہ فرد جاری کرنے کے عوض 2500 روپے رشوت وصول کررہے ہیں اور پردہ اشتمال ہے جس کی رجسٹری فریش ہوتی ہے پرانی رجسٹری کے اشتمال کے 50 ہزار سے لیکر 1 لاکھ روپے وصول کیا جارہا ہے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ پٹواری ہر ماہ پرچہ رجسٹری کی ایک فرضی اور بوگس رپورٹ تیار کرکے ٹاﺅن اسسٹنٹ کمشنر شالیمار کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے بلکہ محکمہ مال کے اعلیٰ افسران کو بھی گمراہ کرنے میں مصروف ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ پٹواری کی تعیناتی سے لیکر اب تک درج کیے جانے والے اشتمالات کی پڑتال کروائی جائے اور پٹواری خالد حسین کی جانب سے بھجوائی جانے والی پرچہ رجسٹری رپورٹ کی باقاعدہ تصدیق کروائی جائیگی تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ پٹواری اشتمالات کے اندراج کرنے کی مد میں 2 لاکھ 10 ہزار روپے جبکہ فردات کو جاری کرنے کی مد میں 1 لاکھ 65 ہزار روپے رشوت وصول کررہا ہے۔ اس طرح پرانے اشتمالات موقع نشاندہی وراثت اشتمال، زائد بیعہ نامہ جاری کرنے فرد اور ڈگری کے اشتمال کے حوالے سے بھی لاکھوں روپے ایک ماہ میں اکھٹے کررہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مذکورہ پٹواری پر 10 لاکھ روپے رشوت عوام الناس سے محکمہ کے افسران کی عدم توجہ کے باعث اکھٹی کرنے میں مصروف ہے۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ پٹواری نے موضع شادی پورہ میں بطور تعیناتی 4 سال گزار چکا ہے مگر بنیادی ذمہ داری مکمل نہ کی ہے اور ابھی تک موضع شادی پورہ میں 1994-95 کے جمع بندی اشتمال کی جارہی ہے۔ ریونیو ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹواری خود نہیں چاہتا ہے کہ وہ جمع بندی مکمل کرے اور ریونیو ریکارڈ کی درستگی ہو۔ شہریوں نے اڈیشنل کلیکٹر لاہور نادر چٹھہ اور ڈی سی او لاہور سے اپیل کی ہے کہ پٹوار خانے میں وصول کی جانے والی رشوت ستانی مہم کو ناصرف بند کروایا جائے بلکہ پٹواری حلقہ کی غفلت کے باعث ریونیو ریکارڈ کی درستگی نہ ہونے، جمع بندی مکمل نہ کرنے اور پرچہ رجسٹری کی بوگس رپورٹس دیکر محکمہ مال کے افسران کو گمراہ کرنے کی بناءپر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...