ون ویلروں کے گرپوں کا سڑکوں پر راج پولیس کی لمبی دیہاڑےاں:ٹریفک نظام درہم برہم

ون ویلروں کے گرپوں کا سڑکوں پر راج پولیس کی لمبی دیہاڑےاں:ٹریفک نظام درہم ...

لاہور(خبرنگار) شہر میں ون ویلنگ جیسے خطرناک کھیل کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر عروج پر پہنچ گیا ہے۔ مجاہد سکواڈ کے سینکڑوں اہلکاروں اور 20 سے زائد تھانوں کے اہلکاروں نے لاکھوں روپے ماہانہ اکٹھے کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں 5000 سے زائد افراد ون ویلنگ کی زد میں آئے۔ 20 سے زائد ہلاک 1000 سے زائد مستقل معذوراپاہج ہوکر رہ گئے۔ ہیں۔ پولیس محض خانہ پری کے طور پر چند مقدمات اندراج کرکے سب ”اوکے“ کی رپورٹ دے دیتی ہے جس سے ون ویلنگ ایک خطرناک کھیل میں تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی روک تھام ناممکن بن کر رہ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق شہر کی اہم شاہراہوں اور بالخصوص کینال روڈ پرہونے والی ون ویلنگ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوکر رہ گیا ہے اور ہفتہ کی شام کو سینکڑوں نوجوان شاہراہوں ‘ سڑکوں اور کینال روڈ پر ون ویلنگ کیلئے مخصوص موٹرسائیکلوں پر آجاتے ہیں جس سے نہ صرف ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوکر رہ جاتا ہے بلکہ راہ گیر اور سڑکوں پر ویلروں کی زد میں آنے والے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوکر رہ گیا ہے۔ پولیس محض چند افراد کو پکڑ کر خانہ پری کے طور پر مقدمات درج کرکے سب اوکے کی رپورٹ تیار کرکے افسران کو مطمئن کر دیا جاتا ہے۔ ”پاکستان“ نے اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میںگزشتہ سالوں میں ون ویلنگ کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ اور 5000 سے زائد افراد ون ویلنگ کی زد میں آتے ہیں جن میں 1000 سے زائد افراد موٹرسائیکلوں سے گر کر ویلروں کی ٹکروں سے زخمی ہو کر مستقل طو پر اپاہج ہوچکے ہیں جبکہ 20 سے زائد افراد ون ویلنگ کی زد میں کر بے گناہ موت کی وادی میں جاچکے ہیں اور پولیس کی تمام تر کوششوں اور ناکوں کے باوجود اس خطرناک کھیل ہیں۔ خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے جس پر تھانوںکی پولیس نے بے بسی کا ظاہر جبکہ مجاہد سکواڈ پولیس کے اہلکاروں نے اے کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے جس میں تھانے آنے والے ون ویلروں میں سفارش رکھنے والوںکی مبینہ طور پر مک مکا کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ سفارش نہ رکھنے والوں کیخلاف کارروائی کے طور پر مقدمات درج کر دیئے جاتے ہیں۔ لاہور میں رواں سال میں ون ویلنگ کی شرح میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس میں لاہور کی نسبت ڈویژنوں ماڈل ٹاﺅن‘ سول لائن اور کینٹ ڈویژن کے 20 تھانوں کی حدود میں ہفتہ کی شام 10 ہزار سے زائد ون ویلنگ کرنیوالے نوجوان سڑکوں ‘ شاہراہوں اور کینال روڈ پر آجاتے ہیں جس میں سب سے زیادہ گلبرگ اور کینال روڈ پر ون ویلنگ ہوتی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران تھانہ غائب مارکیٹ میں 300 سے زائد ون ویلنگ کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ شمالی چھاﺅنی ہربنس پورہ کے تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق تھانہ غالب مارکیٹ میں ہر ماہ 50 سے 60 مقدما ت جبکہ گلبرگ میں 30 سے 40‘ سول لائن اور شادمان کے تھانوں میں 30 سے 40 مقدمات رجسٹرڈ کرنے کی شرح ہے۔ رواں سال میں ون وینگ کی شرح میں 200 گنا اضافہ ہو کر رہ گیا ہے۔ اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشن محمد طاہر رائے کا کہنا ہے کہ ون ویلنگ ایک خطرناک کھیل ہے اس کی روک تھام کیلئے والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاہم اس بارے پولیس اپنا پورا کام کر رہی ہے اور ایس پی مجاہد کی نگرانی میں ہر ہفتہ پولیس کی ٹیمیں مقرر کی جاتی ہیں

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...