دولت کی ہوس میں ہڑتال کرنیوالے ڈاکٹروں سے سختی جائز ہے: ناصر اقبال

دولت کی ہوس میں ہڑتال کرنیوالے ڈاکٹروں سے سختی جائز ہے: ناصر اقبال

لاہور (پ ر) ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی صدرمحمدناصراقبال خان اورسیکرٹری جنرل محمدرضاایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ جو ڈاکٹرڈاکوبن جائے اس کی گرفت جائزہے۔معاشرے کاکوئی مہذب طبقہ ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کوجائزقرارنہیں دے سکتا۔ دولت کی ہوس نے ڈاکٹراورڈاکو کے درمیان فرق مٹادیا۔پچھلی اورموجودہ ہڑتال کے نتیجہ میں اب تک جوبھی مریض ہلاک ہوئے ان کے قتل کی نامزد ایف آئی آر ینگ ڈاکٹرز کے رہنماﺅں پردرج کی جائے۔ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال ختم کرانے کیلئے کسی بھی انتہائی اقدام سے گریزنہ کیا جائے۔ینگ ڈاکٹرزکوبیمار انسانوں کویرغمال بنانے اوران کی محرومیوں کامذاق اڑانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ جو ڈاکٹرپنے مفادات اورمزیدمراعات کیلئے انسانی زندگی کوداﺅپرلگاسکتے ہیں وہ کسی رحم کے مستحق نہیں ہیں۔وہ ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔محمدناصراقبال خان نے مزید کہا کہ ینگ ڈاکٹرزحکومت کوبلیک میل کرنے کیلئے مریضوں سے کس بات کاانتقام لے رہے ہیں ۔اگرایک ڈاکٹر کادل تکلیف اوردردکی شدت سے تڑپتے مریض کودیکھ کر بھی موم نہیں ہوتاتوپھراسے ڈاکٹر کہلوانے کاکوئی حق نہیں پہنچتا۔ینگ ڈاکٹرزنے چندہزارروپوں کیلئے اپنے پیشے کوبدنام کردیا ،ینگ ڈاکٹرز کی اس مجرمانہ روش پرسینئرڈاکٹرز کی خاموشی بھی ایک بڑاسوالیہ نشان ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...