تھانہ غالب مارکیٹ کی حدود مےں ڈکیتی، راہزنی کی وارداتےں معمول، پولیس خاموش،،

تھانہ غالب مارکیٹ کی حدود مےں ڈکیتی، راہزنی کی وارداتےں معمول، پولیس خاموش،،

لاہور (لیاقت کھرل) تھانہ غالب ماریٹ جوکہ ماڈل ٹاﺅن ڈویژن میں جرائم کے اعتبار سے دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے اور اس تھانے کی حدود میں شارع عام پر دن دہاڑے ہونے والی وارداتیں جس میں خواتین سے پرس چھیننے اور شہریوں سے لوٹ مار جبکہ دوسرے نمبر پر یہ ہفتہ کی رات ون ویلنگ اور تیسرے نمبر پر گھروں میں گھس کر ڈکیتی کی وارداتوں نے شہریوں کی زندگیاں اجیرن بناکر رکھ دی ہے۔ اس حوالے سے ”پاکستان“ کی ٹیم نے تھانہ غالب مارکیٹ کے سامنے کھڑے ہوکر شہریوں کے مسائل سنے تو شہری پولیس کی جانب سے بے گناہ شہریوں کو مقدمات میں ملوث کرنے اور پولیس کی جانب سے شارع عام پر ہونے والی وارداتوں کو کنٹرول نہ کرنے پر پھٹ پڑے۔ اس موقع پر شہری نثار احمد نے بتایا کہ گزشتہ سال 13 مارچ کو موٹرسائیکل نمبر ایل ای آر 5313 پر ڈاکوﺅں نے لوٹ لیا۔ گشت کرنے والے اہلکاروں کو موٹرسائیکل اور ڈاکوﺅں کے حلیے بتائے اہلکاروں نے کہا کہ شکر کرو جان بچ گئی، تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ اس موقع پر محمد منشاءمشتاق نے بتایا کہ تھانہ غالب مارکیٹ کی آبادیوں حسن آباد، کینال پارک، نبی پورہ، مین مارکیٹ گلبرگ، گورو مانگٹ روڈ، مین بلیوارڈ روڈ پر موٹرسائیکل سوار ڈاکو سرعام خواتین سے پرس چھین لیتے ہیں۔ جبکہ شام ہوتے ہی شہریوں سے لوٹ مار کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ شہری احسن وحید، ابراہیم، احمد نثار احمد نے بتایا گلبرگ تھری 51 بی ون ڈاکوﺅں نے گھس کر 5 لاکھ کے زیورات اور نقدی لوٹ لی، پولیس نے چوری کی دفعات کے تحت مقدمہ نمبر 773 درج کیا اور چار روز گزرجانے کے باوجود انوسٹی گیشن پولیس اور آپریشن پولیس نے اس علاقے میں چکر تک نہیں لگایا ہے۔ شہری احسن رضا، احمد علی خان اور اکبر خان نے بتایا کہ 22 اپریل کو ان کے رشتہ دار کو قتل کردیا گیا، پولیس اصل ملزم سہیل داﺅد کو گرفتار نہیں کرسکی ہے۔ اس موقع پر رحمت اللہ نے بتایا کہ گلبرگ میںایک معروف دکان پر ملزمین کے جھگڑے میں ایک ملازم وسیم احمد قتل ہوگیا اور پولیس نے قاتل ابی دان کو گرفتار کرکے تھانے میں پروٹوکول دیا اور قتل کے مقدمہ نمبر 662/12 کو کمائی کا ذریعہ بنالیا۔ اس موقع پر اسحاق برکت نے بتایا کہ نامعلوم ڈاکوﺅں نے اس کے گھر میں گھس کر لاکھوں روپے کے زیورات اور نقدی لوٹ لی پولیس نے مقدمہ نمبر 790 درج تو کرلیا لیکن 10 دن گزرجانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اس موقع پر ماجد علی، حاجی لیاقت علی اور اس کی بیوی نسرین بی بی نے بتایا کہ پولیس کا محکمہ ٹھیک ہوجائے تو اس ملک سے جرائم کی شرح میں کمی آسکتی ہے۔ تھانوں کا کلچر تبدیل ہونے کی ضرورت ہے اور تھانے میں آنے والے شہریوں کی بات سنی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ تھانے کی حدود یں امن وامان اور جرائم کی شرح میں کمی آئے اور اسی طرح لڑائی جھگڑے اور اقدام قتل کے واقعات میں بھی کمی آسکتی ہے۔ اس موقع پر جوزف نے بتایا کہ تھانہ غالب مارکیٹ میں رات کے اوقات میں ملزمان پر تشدد کی آوازوں نے نقل مکانی پر مجبور کررکھا ہے۔ شہری حاجی صداقت علی اور حاجی دلشاد احمد نے بتایا کہ تھانے کی حدود میں موٹرسائیکل سوار ڈاکو سرعام پرس چھیننے کی وارداتیں کررہے ہیں جبکہ ون ویلنگ نے اس علاقے میں خوف وہراس پھلاکررکھ دیا ہے اور پولیس نہ ڈکیتی کی وارداتوں کو کنٹرول کررہی ہے اور نہ ہی اس علاقے میں ہونے والی ون ویلنگ پر کنٹرول یاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ کی شام کو رات گئے تک اس تھانے کی حدود میں ون ویلنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے ہر ماہ درجنوں شہری ویلروں کی زد میں آکر زخمی ہوچکے ہیں۔ لیکن گزشتہ کئی سالوں سے اس علاقے سے ون ویلنگ کے سلسلہ کی روک تھام نہیں ہوسکی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...