سیکیورٹی معاملات پرکمانڈروں کااتفاق تاریخی اقدام ہے، پینٹاگون ذرائع

سیکیورٹی معاملات پرکمانڈروں کااتفاق تاریخی اقدام ہے، پینٹاگون ذرائع

واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف) پینٹاگون نے امریکہ، ایساف اور پاکستان کے فوجی کمانڈروں کے درمیان سیکیورٹی معاملات پر اتفاق رائے کو ایک تاریخی اقدام قراردیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہت بہتری آجائے گی۔ پینٹاگون ہیڈکوارٹر کے ذرائع کے مطابق ان کمانڈروں نے سرحد کے دونوں طرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو خاتمے اور اپنی کوششوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کا جوعہد کیا ہے اس سے خطے میں دہشت گردی کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی۔ پینٹاگون ذرائع نے اس امر پر بھی مسرت کااظہار کیا ہے کہ ان کمانڈروں نے نیٹو سپلائی کی بحالی کے لئے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں طے ہونے والے تمام بنیادی نکات کی توثیق کردی ہے۔ اب مذاکراتی ٹیم دوبارہ اگلے ہفتے اسلام آباد واپس آکر نیٹو سپلائی کی بحالی سمیت تمام سیکیورٹی معاملات پر سمجھوتے کو آخری شکل دے سکتی ہے۔ ان ذرائع کے مطابق اس معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستان آرمی کو سپورٹ فنڈ کے بقایا جات ملنے کی راہ میں رکاوٹ دور ہوجائے گی، پینٹاگون ذرائع کا کہنا ہے کہ دو طرفہ غلط فہمیوں کے ازالے کے بعد اب سرحد کے دونوں طرف دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے سارے فریق زیادہ موثر کارروائی کرسکیں گے۔ کمانڈروں کے اتفاق رائے سے افغانستان کے اندر اور خصوصاً سرحد کے آس پاس کی سیکیورٹی صورتحال بہت بہتر ہونے کا امکان ہے۔ پینٹاگون ذرائع نے مزید بتایا کہ امریکہ طرف سے معافی کا معاملہ بہت معمولی ہے کیونکہ اس وقت الفاظ کے چناﺅ میں کچھ فرق ہے جسے پینٹاگون کی مذاکراتی ٹیم دور کرے گی۔ اس وقت اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ناظم الامور پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں۔ توقع ہے کہ وہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران واشنگٹن کی ٹیم کو اسلام آباد آنے کا سگنل دے دیں گے۔ ایساف کے کمانڈر امریکی جنرل ایلن نے پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی کے ساتھ بہت کامیاب مذاکرات کئے ہیں جن میں انہوں نے ایساف، امریکہ اور پاکستان کی افواج کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو زیادہ موثر بنانے پر اتفاق کرلیا ہے اور عہد کیا ہے کہ تمام فریق سرحد کے دونوں طرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لئے کارروا ئی تیز کریں گے اور ایک دوسرے سے تعاون اور رابطے کو مزید بہتر کریں گے۔

مزید : صفحہ اول


loading...