ملک بھر میں صوبائی خود مختاری کا دن منایا گیا، یکم جولائی کو کنکرنٹ لسٹ منسوخ ہوئی

ملک بھر میں صوبائی خود مختاری کا دن منایا گیا، یکم جولائی کو کنکرنٹ لسٹ منسوخ ...

اسلام آباد (ثناءنیوز) پارلیمانی آئینی اصلاحات کمیٹی کے سابق چیئرمین سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ صوبوں کو اختیارات کے حوالے سے مضبوط بنانے کے سلسلے میں تاریخ ساز آئین میں 18ویں ترمیم کا اعزاز پارلیمینٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے۔ صوبائی خود مختاری میں مزید پیشرفت کے لیے کاوشیں کی جا سکتیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی خود مختاری کے دن کے حوالے سے کیا ہے۔یکم جولائی (اتوار کو ) ملک میں صوبائی خود مختاری کے دن کے طور پر منایاگیا ہے۔یکم جولائی 2011ءکو 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات منتقل کرتے ہوئے کنکرنٹ لسٹ منسوخ کر دی گئی تھی۔18ویں ترمیم کے تحت تمام متعلقہ وازاتیں ان کے وسائل صوبوں کے سپرد کر دیئے گئے تھے۔18ویں ترمیم کے تحت ہی معدنیات اور بندرگاہوں پر مرکز اور متعلقہ صوبے کا مشترکہ انتظام قائم ہو گیا ہے۔ حکومت نے یہ سال یکم جولائی کو صوبائی خود مختاری کے دن کے طور پر منایا گیا۔ سیاستدانوں، آئینی و قانون ماہرین تجزیہ نگاروں اور دانشوروں نے وفاق اور صوبوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کار کے لیے 18ویں ترمیم کو سنگ میل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہے صوبائی خود مختاری کو یقینی بنانے سے ہی عوام کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ با اختیار صوبے ہی وفاق کے استحکام کو ضمانت ہیں۔ ایک انٹرویو میں سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ 18ویں ترمیم کا اعزاز پاکستان پیپلز پارٹی اس کی قیادت اور پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے وا لی سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے۔ اسی ترمیم کے نتیجہ میں صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ ان کی خود مختاری کو آئینی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماءاین ڈی خان نے کہا کہ 18ویں ترمیم صوبوں میں پائی جانے والی احساس محرومی کا ازالہ ممکن ہو گا۔ اس ترمیم کے نتیجہ میں تاریخی قومی اتفاق رائے پیدا ہو اتھا۔ خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر رحیم داد خان نے کہا کہ صوبوں کو اختیارات ملنے سے درحقیقت وفاق مضبوط ہو گا۔ سینیٹ میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے نتیجہ میں سارک ممالک بشمول بھارت کے پاکستان کے آئین کو سب سے زیادہ ممتاز حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔نیشنل پارٹی کے رہنماءسینیٹر میرحاصل خان بزنجو 18ویں ترمیم کے ذریعے بلوچستان کے سندھ اور خیبر پختونخوا کے تما م مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ترمیم سے پاکستان حقیقی وفاق کے راستے پر گامزن ہوا ترمیم پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ضروری ہے۔ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے انٹرویو میں کہا کہ تاریخ میں پہلی بار حقیقی معنوں میں وفاقی اکائیوں کو خود مختاری دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے نتیجہ میں صوبے اپنے مسائل کو حل کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہیں۔ عوام کو تاریخی ترمیم کے ثمرات حاصل ہونے چاہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...