طالبان اور افغان حکومت کے درمیان جاپان میں امن مذاکرات

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان جاپان میں امن مذاکرات

ٹوکیو (ثناءنیوز ) طالبان اور افغان حکومت کے درمیان رواں ہفتے امن مذاکرات ہوئے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ماضی کے حریفوں کے مابین یہ غیرمعمولی اعلی سطحی رابطہ جاپان میں ہوا ہے۔خبر رساں ادارے یہ بات ہفتے کو حکام کے حوالے سے بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ایک نمائندے اور امن مذاکرات کے لیے ذمہ دار افغان حکومت کے ایک اعلی اہلکار کے درمیان یہ ملاقات جاپان کے شہر کیوٹو میں امن و مصالحتی کانفرنس کے موقع پر ہوئی ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق اس سے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو طالبان اور حزبِ اسلامی جیسے اپنے دشمنوں کے ساتھ بیٹھنے کا موقع بھی ملا ہے۔امن کے لیے کام کرنے والے صدیق منصور انصاری بھی کیوٹو کی دوشیشا یونیورسٹی میں رواں ہفتے ہونے والے کانفرنس کے شرکا میں سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس یونیورسٹی کی جانب سے اس موضوع پر منعقد کی گئی یہ تیسری کانفرنس تھی، لیکن طالبان کے کسی نمائندے نے اس میں پہلی مرتبہ شرکت کی ہے۔ طالبان نے بھی اپنے نمائندے کی اس کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران اے پی کو بتایا کہ ان کے سابق وزیر برائے منصوبہ بندی قاری دین محمد حنیف کانفرنس میں شریک ہوئے اور انہوں نے اسلامی امارات کی پالیسیوں کی وضاحت کی۔ قاری دین محمد حنیف طالبان کی سیاسی کمیٹی کے رکن ہیں اور مطلوب افراد کی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں ہے۔کیوٹو میں ہونے والی ملاقات میں کابل حکومت کی نمائندگی اعلی امن کونسل کے سینئر اہلکار محمد معصوم ستانک زئی نے کی۔صدیق منصور انصاری کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد امن معاہدے کی کوشش کے بجائے اختلافات اور نظریات کو سامنے لانا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ دوشیشا کی اس تیسری کانفرنس میں تمام فریقین نے اپنے اپنے خیالات اور ایجنڈے پیش کیے لیکن کوئی ٹھوس اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...