پیپلز پارٹی کے سابق دور مےں پاور کمپنیوں کےساتھ مہنگے معاہدوں کے نتیجہ مےںبجلی بحران آےا:ملک یوسف لاھیانوی

پیپلز پارٹی کے سابق دور مےں پاور کمپنیوں کےساتھ مہنگے معاہدوں کے نتیجہ ...

 فیصل آباد ( بیورورپورٹ) 1974ءمیں بجلی کا جو ٹیرف 25پیسے فی یونٹ تھا وہ ضیاءدور میں 78 پیسے ¾ 77 ءمیں ایک روپیہ پانچ پیسے تک پہنچ گیا جبکہ 88ءسے 1995تک گھریلو صارفین کے ٹیرف میں 210 فیصد ¾ کمرشل صارفین کے ٹیرف میں 198 فیصد اور انڈسٹریل ٹیرف میں 318 فیصد اضافہ کردیا گیا جس کی بڑی وجہ ماضی میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاور کمپنیز کے ساتھ کئے گئے معاہدے تھے ۔ مشرف دور میں ٹیرف میں کچھ کمی بیشی بھی ہوئی ۔B-1کنکشن اب 2012 میں بڑھتے بڑھتے 13.27روپے فی یونٹ تک پہنچ چکا ہے جس کے نتیجے میں قوم کو بجلی کی لوڈشیڈنگ اور انڈسٹری کی بندش کے شدید ترین بحران کا سامنا ہے ان امور کا انکشاف پاور لومز ایسوسی ایشن کے بزرگ رہنما اور امور بجلی کے ماہر ملک محمد یوسف لدھیانوی نے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ۔ بجلی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس وقت کے حکمرانوں نے پاور کمپنیز کے ساتھ سب سے مہنگا معاہدہ کیا ۔ پاکستان نے بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں پاور کمپنیز کے ساتھ 3روپے 40 پیسے فی یونٹ معاہدہ کیا ۔ انڈیا نے وہی معاہدہ پاور کمپنیز کے ساتھ 2 روپے 50 پیسے فی یونٹ اور بنگلہ دیش نے وہی معاہدہ 2 روپے 10 پیسے فی یونٹ کے حساب سے کیا ۔ اس معاہدے نے پاکستان میں بجلی کا نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا ۔اب وہ معاہدے 2014ءمیں ختم ہونے والے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 971 ءکی جنگ کے نتیجے میں جب مشرقی پاکستان الگ ہوا تو اس وقت سے پاکستان میںاقتصادی بحران کا آغاز ہوا ۔بھٹو نے حکومت میںآتے ہی پاکستانی کرنسی کی قیمت سات آنے کم کردی جس کی وجہ سے مہنگائی شدت اختیار کرگئی اس وقت بجلی کا ٹیرف 20 پیسے فی یونٹ تھا کرنسی ریٹ کم ہونے کے باوجود 1974 ءمیں 25پیسے یونٹ تھا اس کے بعد ضیاءآمر کی حکومت آئی اس کے گیارہ سالہ دور حکومت میں 78 پیسے فی یونٹ کا اضافہ ہوا اس طرح 1977 ءمیں کل ٹیرف ایک روپیہ پانچ پیسے کا ہوگیا ۔پھر 1988 ءمیں پیپلز پارٹی کی حکومت آگئی 1995ءتک سات سالہ دور میں بجلی کی قیمت کافی بڑھادی گئی (اس دوران نواز شریف کا ڈھائی سالہ دور حکومت بھی شامل ہے ) اس دور مےں گھریلو صارفین کے لئے 210 فی صد اضافہ ہوگیا اور کمرشل کے لئے 198 فی صد اضافہ کردیا گیا B-1,B-2,B-3, یعنی انڈسٹریل ٹےرف میں 318 فی صد اضافہ ہوگیا اس دورسے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہوگیا ۔انہوں نے کہا کہ 1996 ءمیں B-1 یعنی صنعتی استعمال پر بجلی کا ٹیرف ریٹ تین روپے 91 پیسے ہوگیا 1997 ءمیں 4 روپے 29 پیسے ہوگیا 1997 ءمیں جمہوری حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور مشرف دورشروع ہوگیا 2003 ءمیں کل ٹیرف 5 روپے33 پیسے ہوگیا 2004 ءمیں پانچ روپے گیارہ پیسے ہوگیا آمریت کے اس دور مےں اس سال یعنی 2004 ءمیں 23پیسے کی کمی ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ ان پاور کمپنیز کو اس وقت کے حکمرانوں نے معاہدے میںیہ رعایت بھی دی کہ وہ وقتا فوقتا اس ٹیرف پر نظر ثانی بھی کرسکتے ہیں اور ساتھ ہی ایک بڑی رعایت یہ بھی دی گئی کہ وہ 24 سالہ معاہدے میں گیس فری استعمال کرسکتے ہیں ۔پرویزمشرف نے اپنے اقتدار کا فائدہ اٹھایا اوراپنے دباﺅ کے ذریعے ٹیرف میں کمی کروائی کل چھ ارب ڈالر کی کمی کروائی گئی اور یہ 24 سال کا عرصہ بہت زیادہ تھا جولائی 2008 ءمیں بجلی کاٹیرف چھ روپے فی یونٹ ہوگیا اس کے بعد آمر کا دور حکومت ختم ہوگیا ۔اس کے بعد اصل جمہوریت کا آغاز ہوگیا 2009 ءمیں فی یونٹ سات روپے 32 پیسے قیمت مقرر ہوگئی اور 2010 ءمیں 10 روپے 3 پیسے ہوگیا ۔2012 ءمیں بجلی مہنگی ہونے کی وجہ کرپشن ہے اس کے اثرات ایکسپورٹ پر بھی پڑے 14 ارب ڈالر سے ٹیکسٹائل کی مد میں سات ارب ڈالر رہ گئے اس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا اوربھی کئی مسائل نے جنم لیا ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...