پاکستان کے عوام مایوسی کا شکار عمران خان کے پاس بھی مسائل کا حل نہیں

پاکستان کے عوام مایوسی کا شکار عمران خان کے پاس بھی مسائل کا حل نہیں

نیو یارک(ارشد چودھری) عمران خان کے پاس پاکستان کے مسائل کے حل کے لئے کوئی لائحہ عمل نہیں ہے، عالمی طور پر پاکستان کا تشخص قابل تعریف نہیں رہا۔ پاکستان کے دوست ممالک چین اور کچھ اسلامی ملکوں میں ایک سروے کیا گیا جس میں اکثریت نے پاکستان کے متعلق منفی رائے دی۔ مایوسی کے شکار پاکستانی عوام میں انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور وہ کسی سیاسی نجات دہندہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کے کالم نگار سیڈانند دھیوم کا کہنا ہے کہ حالیہ سروے کے مطابق پاکستان کے 75%لوگ امریکہ کو دشمن سمجھتے ہیں، پاکستانی عوام میں امریکہ مخالف بڑھتے ہوئے جذبات ایک پریشان کن اشارہ ہے کہ پاکستان کے لوگوں میں انتہا پسندی بڑھ رہی ہے کیونکہ امریکہ کی مخالفت 66%سے بڑھ کر75%ہو گئی ہے حالانکہ امریکہ ایک عرشے میں پاکستان کو 20ارب امداد فراہم کر چکا ہے۔ پاکستانی دہشت گرد ڈون حملوں میںمر رہے ہیں عدلیہ اور منتخب حکومت کے درمیان تناﺅ چل رہ اہے۔ پاکستان ہر طرف سے مسائل میں گھیرا ہے پاکستانی معیشت تنزلی کا شکار ہے کالم نگار کے مطابق ایسے حالات میں عمران خن پاکستان کو مسائل سے باہر نہیں نکال سکتے کیونکہ ان کے پاس پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ کالم نگار کا کہنا ہے کہ بعض جائزوں کے مطابق عمران کی مقبولیت 2سال کے اندر52%سے 72%تک پہنچ گئی ہے اور ہر دس ماہ میں سے ایک پاکستانی زرداری حکومت سے مطمئن نہیں ہے مگر عمران کا معیشت کے حوالے سے پیغام بھی متاثر کن نہیں وہ پاین مہم میں دعویٰ کرتے ہیں کہ 90دن میں کرپشن ختم کر دینگے مگر یہ معاشی وسائل کا حل نہیں ہے سابق کرکٹر پاکستانی میں اسلامی انتہا پسندی کا سبب امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو قرار دیتے ہوئے دوسری جانب تحریک انصاف کے نمائندے دفاع پاکستان کونسل کے پروگراموں میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ کالم نگار نے پاکستان کے موجودہ حالات اور عمران خان کی سیاسی حکمت عملی کا موازانہ کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے سے موافق قرار نہیں دیا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...