جج فیصلے کرتے وقت کسی سفارش کو خاطر میں نہ لائیں، جسٹس صغیر قادری

جج فیصلے کرتے وقت کسی سفارش کو خاطر میں نہ لائیں، جسٹس صغیر قادری

چنیوٹ (آئی اےن پی) لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس صغیراحمد قادری نے کہا ہے کہ فیصلے کرتے وقت کسی بھی سفارش کو خاطر میں نہ لایا جائے، یہ ذہن میں رکھیں کہ سب نے خدا کی عدالت میں حاضر ہونا ہے ،جہاں آج کے جج بھی ملزموں کی طرح کھڑے ہونگے، جہاں کوئی سفارش نہیں چلے گی ، ہمارے اعمال ہی ہمارا تحفظ کریں گے،ہماری بے گناہی کا ثبوت ہونگے۔وہ اتوار کو چناب آفیسرز کلب میں تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ آج سے تیرہ برس قبل جب چنیوٹ میں ان کی ایڈیشنل سیشن کی تعیناتی ہوئی اس وقت انہیں چنیوٹ کا علم ہی نہ تھا لیکن آج تیرہ سال بعد جب وہ ہائی کورٹ کے جسٹس کے طور پر کام کررہے ہیں چنیوٹی عوام ، وکلاء، اور سول سوسائٹی کے افراد کی محبت نے ان کے دلوں میں جگہ بنا رکھی ہے انہوں نے کہا کہ ججز اپنے عہدے کا ناجائز استعمال نہ کریں کیونکہ خدا کی عدالت میں انہیں اپنے ہر فیصلے کا جواب دینا ہے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سرور سلیم اللہ نے کہا کہ چنیوٹ کے بار اور عدلیہ ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں دیگر علاقوں کی طرح یہاں کوئی ایسا غیر اخلاقی واقعہ بھی رونما نہیں ہوا بلکہ بار اور بنچ کے تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھائے جاتے ہیں وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل ملک غلام عباس نسوآنہ نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کو ایک ادارہ تسلیم کیا کیونکہ ادارے مضبوط ہونگے تو ملک مضبوط ہوگا ہم نے بار اور بنچ کے درمیان خلاءپیدا کرنے والے اور اپنے کالے کوٹ کا ناجائز استعمال کرنیوالے 250کے قریب وکلاءکے لائسنس منسوخ کردیئے ہیں اس موقع پر ڈی پی اور رانا شہزاد اکبر، ڈی سی او ڈاکٹر ارشاداحمد ، چیئرمین سی پی ایل سی چودھری مسعوداقبال اور اسد نثار بھٹی نے بھی خطاب کاتقریب کے آخر میں آفیسرز کلب میں ہونیوالے ٹورنامنٹس میں پوزیشن ہولڈرز میں انعامات تقسیم کیے جبکہ جسٹس صغیر احمد قادری نے اپنا کلام بھی سنایا ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...