شام میں عبوری حکومت قیام، امریکہ اور روس کے اختلافات ختم نہ ہوسکے

شام میں عبوری حکومت قیام، امریکہ اور روس کے اختلافات ختم نہ ہوسکے

دمشق (آن لائن) شام میں جاری بحران پر منعقدہ اجلاس میں ایک عبوری حکومت کے قیام پر اتفاق رائے کے دعووں کے باوجود دنیاکی دو بڑی طاقتوں امریکہ اور روس کی طرف سے مختلف قسم کے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ ہم نے واضح کر دیا ہے کہ جن کے خون ہاتھ سے رنگے ہوئے ہیں وہ اس عبوری حکومت میں شامل نہیں ہوں گے جبکہ ان کے روسی ہم منصب کہتے ہیں کہ اس معاہدے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسد کو اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے،مجوزہ متحدہ قومی حکومت میںکسی گروپ کو شامل نہ کرنے کی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی۔ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب کوفی عنان کی درخواست پر بلائے گئے اس اجلاس میں عالمی طاقتوں نے اس بات پر تو اتفاق کیا کہ شامی بحران کے خاتمے کے لیے وہاں ایک عبوری حکومت قائم کی جائے، مگر یہ واضح نہیں ہوا کہ صدر بشار الاسد کا کردار اس حکومت میں کیا ہوگا۔کوفی عنان نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عبوری حکومت میں بشار الاسد انتظامیہ اور اپوزیشن کے ارکان شامل ہونے چاہئیں اور اس حکومت کو آزاد انتخابات منعقد کروانے چاہئیں۔ عنان کا مزید کہنا تھاکہ وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اور بحران پرامن مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔اجلاس کے بعد روس اور امریکا کی طرف سے اس بات پر مختلف نقطہ نظر سامنے آیا کہ اس معاہدے میں صدر بشار الاسد سے متعلق کیا کہا گیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ وہ کانفرنس کے نتیجے پر ’خوش‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم بات یہ تھی کہ اس معاہدے کے ذریعے شام پر کوئی حل مسلط نہ کیا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے ذریعے صدر بشار الاسد کو ایک واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اقتدار سے علیحٰدہ ہو جائیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کلنٹن کا کہنا تھا کہ اسد کو بھی جانا ہوگا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...