فیصل آنوباد سیاسی مداخلت اور محاذ آرائی کے باعث سی پی ایل سی کے نوٹیفکیشن منسوخ

فیصل آنوباد سیاسی مداخلت اور محاذ آرائی کے باعث سی پی ایل سی کے نوٹیفکیشن ...

فیصل آباد ( بیورورپورٹ) عوام ¾ پولیس اور تاجر و صنعتکار کمیونٹی تینوں کیلئے یکساں مفید ادارے سی پی ایل سی اور اس کے مد مقابل ادارے آئی پی ایل سی کو آپس کی محاذ آرائی اور سیاسی مداخلت پر مزاحمت کے نتیجے میںبالآخر دونوں کے نوٹیکفیشن منسوخ کردئیے گئے ۔ باخبر ذرائع کے مطابق چند سال قبل کراچی کی طرز پر فیصل آباد میں بھی سی پی ایل سی ادارہ قائم کیا گیا تھا جسے شہر کے متمول تاجروں صنعتکاروں کی مالی و انتظامی سرپرستی حاصل تھی ۔ لوگوں کے آپس کے لین دین کے معاملات ¾ جرائم کے خاتمہ کیلئے پولیس کو جدید ٹیکنیکل سہولتوں کی فراہمی ¾ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے حساس مقامات کی نگرانی اور تاجرو صنعتکار کمیونٹی کو پولیسنگ شیلٹر جیسے اہداف حاصل کرنے کیلئے اس ادارے نے ہوم ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کی نگرانی اور بڑے بڑے صنعتکاروں کی مالی و ذاتی سرپرستی میں خدمات سرانجام دیں ۔ کچھ عرصہ قبل سی پی ایل سی کی انتظامیہ کے بعض اراکین میں اختلافات کے نتیجے میں پنجاب حکومت میں نمایاں اثرورسوخ رکھنے والے سیاستدانوں کے مختلف دھڑوں کو سی پی ایل سی میں جگہ بنانے کے مواقع مل گئے اسی دوران ایک موثر صنعتکار گروپ کے نوجوانوں نے سی پی ایل سی کے اراکین کا انتظامیہ میں اثرورسوخ محسوس کرکے آئی پی ایل سی کے نام پر ایک نئی تنظیم قائم کرکے اپنے مالی و ذاتی و سائل اس میں جھونک دئیے اس طرح دو نوں گروپ انتظامیہ کو اپنی ”خدمات“ ایک دوسرے سے بہتر انداز میں انجام دینے کا مقابلہ کرتے رہے پولیس انتظامیہ کے بعض افسروں کو موجیں بھی لگی رہیں ان موجوں اور اثرورسوخ کو محسوس کرکے صوبائی وزیر قانون کے ایک برادر نسبتی ¾ ایک ”مبینہ گریجوایٹ“ ایم پی اے اور ایک بیوروکریٹ کے قریبی عزیز سمیت متعدد با اثر لوگ بھی اندر کو دپڑے ۔ ان کے نوٹیفکیشن بھی جاری کردئیے گئے انہیں پولیس کے استعمال میں آنے والے وائر لیس سیٹ بھی فراہم کردئیے گئے اس عمل نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور بالآخر بھڑکتی ہوئی اس آگ نے دونوں ادارے جلاڈالے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...