خط نہ لکھ کر نئے وزیراعظم بھی توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہےں منور حسن

خط نہ لکھ کر نئے وزیراعظم بھی توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہےں منور حسن

لاہور(سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کہاہے کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اپنے پیشرو وزیراعظم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سوئس عدالتوں کو خط لکھنے سے انکاری ہیں اور اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ آئین کی تشریح کا اختیار صرف عدلیہ کو حاصل ہے ،پرویز اشرف کو سوئس بنکوں میں پڑی اپنی دولت کو تحفظ دینے کے لیے قربانی کا بکرا بنانے کے لیے وزیراعظم بنایا ہے ۔پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی مدد کا الزام لگانے والے امریکہ او ر اس کے اتحادی افغانستان میں بھارت کے دوہرے کردار سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں ۔ بھارت طالبان کمانڈروں کو اسلحہ اور ٹریننگ دے رہاہے جبکہ الزامات پاکستان پر تھوپ کر نہ صرف امریکہ اور نیٹو بلکہ عالمی برادری کی آنکھوں میں بھی دھول جھونک رہاہے ۔ امریکہ نے دنیا بھر میں ہونے والی دہشتگردی کاذمہ دار مسلمانوں کو قرار دے کر اسلام کے خلاف اعلانیہ صلیبی جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نمائندہ وفد سے منصورہ میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر محمد کمال ، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ اور ڈائریکٹر امور خارجہ جماعت اسلامی پاکستان عبدالغفار عزیز بھی موجود تھے ۔ سید منورحسن نے کہاکہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے ۔ چیئرمین نیب کے مطابق روزانہ 6 سے 8 ارب کی کرپشن ہورہی ہے ۔ حکومت ایک طرف اندرون و بیرون ملک سے قرضے لے کر اور نوٹ چھاپ کر کاروبار مملکت چلارہی ہے ، دوسری طرف ہر سرکاری ادارے میں اربوں کی کرپشن ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے ۔ بے حساب کرنسی چھاپنے سے افراط زر مسلسل بڑھتا جارہاہے جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان تک جا پہنچی ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...