ہڑتال ،ایکشن اور موت پھیل گئی ،معصوموں کے ’قاتل ‘ مسیحاﺅں کا ریمانڈ و نظربندی ،سینئر ڈاکٹر، فوجی‘کمک‘ اور نئی‘ لاٹ‘ آگئی،کچھ بپھرے ’جوان ‘ بھی واپس آگئے

ہڑتال ،ایکشن اور موت پھیل گئی ،معصوموں کے ’قاتل ‘ مسیحاﺅں کا ریمانڈ و ...
ہڑتال ،ایکشن اور موت پھیل گئی ،معصوموں کے ’قاتل ‘ مسیحاﺅں کا ریمانڈ و نظربندی ،سینئر ڈاکٹر، فوجی‘کمک‘ اور نئی‘ لاٹ‘ آگئی،کچھ بپھرے ’جوان ‘ بھی واپس آگئے

  


لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک )ہڑتالی ڈاکٹروں کیخلاف سخت ایکشن کے بعد اب تک الگ تھلگ رہنے والی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن جزوی طور پرہڑتال میں شامل ہوگئی ہے، بلوچستان اور سندھ میں گرفتار شدگان سے یکجہتی کیلئے ہڑتال کی گئی ہے جس سے حالات مزید کشیدگی کی جانب بڑھنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ ہڑتال کے باعث طبی امداد نہ ملنے پر جاں بحق ہونے والے مریضوں کی تعداد بارہ سے بڑھ گئ ہے اور ان ہلاکتوں پر ہڑتالی ڈاکٹروں کیخلاف قتل کے مقدمات کا اندراج جاری ہے، میو ہسپتال میں ڈیرھ سالہ بچے فہد کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار چار ڈاکٹروں عثمان ،مطلوب ، تجمل ، اورعرفان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ دیدیا گیا ہے اور رات گئے گرفتار ہونے والوں کو سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں نظر بند کردیا گیا ہے ، ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن بھی کل سے ڈاکٹروں کے لائسنس و ڈگریاں منسوخ کرنے کے مقدمے کی سماعت شروع کر رہے ہیں ، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ایمرجنسی سروسز بحال کردی گئی ہیں تاہم سینئر ڈاکٹروں کو کام سے روکنے کیلئے جونیئر ڈاکٹروں کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ سول کے ساتھ ساتھ فوجی ڈاکٹروںنے بھی کام شروع کردیا ہے اور دو ہزار سے زائد کے تقرر نامے جاری کئے جا رہے ہیں ۔علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے ةرتال میں حصہ نہ لینے والوں کو آج شام تک واپسی کا وقت دینے کے اعلان کے بعد ڈاکٹروں کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے۔رات گئے ’چھوٹے‘ ڈاکٹروں کی گرفتاریوں کے بعد ہڑتال میں شدت آنے سے اب تک بچوں سمیت کم ازکم 12 لاچار مریضوں کی ہلاکت ہوئی ہے تاہم اب صورتحال میں تھوڑی سے بہتری آئی ہے اور لاہور سمیت کچھ شہروں میں ایمرجنسی میں علاج شروع کردیا گیا ہے ۔حکومت پنجاب کے ترجمان کے مطابق حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں اور تقریباً تمام ہسپتالوں کی ایمرجنسی ، اوپی ڈی اور اِن ڈور میں کام شروع ہوگیاہے ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومتی مشینری حرکت میں آنے کے بعد ہسپتالوں میں حالات معمول پرآناشروع ہوگئے ہیں جبکہ پاک فوج کے ڈاکٹر بھی ہسپتالوں میں پہنچ گئے ہیں اور بعض مقامات پر سینئرز کی جانب سے کام شروع کردیاگیاہے تاہم اُنہیں ینگ ڈاکٹروں کی طرف سے حراساں کیاجارہاہے ۔میو ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق آﺅٹ ڈور میں 30ڈاکٹر کام کررہے ہیں ۔علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق جناح ہسپتال کے آﺅٹ ڈورمیں نو ڈاکٹر کام کررہے ہیں ۔الائیڈ ہسپتال سمیت راولپنڈی کے تین بڑے ہسپتالوں کے علاوہ لاہور کے تقریباً تمام ہسپتالوں میں فوجی ڈاکٹر ڈیوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔فیصل آباد میں ینگ ڈاکٹرز کی جگہ سینئرز نے علاج معالجہ شروع کردیاہے ۔گوجرانوالہ میں ینگ ڈاکٹروں نے کام کرنے والے سینئرز کو حراساں کرناشروع کردیاہے ۔ ایڈیشنل ایم ایس ڈاکٹر سرفراز کے مطابق ینگ ڈاکٹرز کام کرنے والے اپنے سینئر ز کو فون کرکے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ سرگودھامیں ینگ ڈاکٹروں نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کردیاہے اور کہا ہے کہ ڈی ایچ کیو اور دیگرہسپتالوں میں معمول کا کام جاری ہے ۔ ہسپتالوں سے ڈاکٹروں ملحقہ ڈاکٹروں کے ہوسٹلوں کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے ۔پولیس کے مطابق کسی ڈاکٹر کو انتظامیہ کی اجازت کے بغیر ہاسٹل میں داخل نہیں ہونے دیاجائے گا جبکہ اجازت صرف ڈیوٹی پر جانے والے ڈاکٹروں کو ہی دی جائے گی ۔حکومت نے چھتیس ہڑتالی ڈاکٹروں کی برطرفی کے بعد مزید تیس ڈاکٹروں کو نکالنے کا عمل شروع کردیا ہے جبکہ دوسو خواتین میڈیکل آفیسر کی تعیناتی کے احکاما ت جاری کردیے گئے ہیں اور چیرمین پبلک سروس کمیشن نے بھی بائیس سو ڈاکٹروں کی فہرست دے دی ہے ۔کراچی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پنجاب میں ینگ ڈاکٹروں کی گرفتاریوں پر یوم سوگ کا اعلان کرتے ہوئے سندھ میں ڈاکٹر سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔سندھ ڈاکٹر اتحاد کے صدر ڈاکٹر محمد علی تھلو نے بتایاکہ اوپی ڈی بند نہیں کیں بلکہ سیاہ پٹیاں باندھ کر کام کررہے ہیں ۔ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن سندھ نے ڈاکٹروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ شام سے پہلے کو وہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ۔ملتان میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ینگ ڈاکٹر ز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کی حمایت کی ہے ۔ پی ایم اے ملتان کے صدر ڈاکٹر شاہد راﺅ کے مطابق ایمرجنسی کے سوا آﺅٹ ڈور ،اِن ڈور اور آپریشن تھیٹر میں کام بند کردیاگیاہے ۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی پنجاب کے ینگ ڈاکٹروں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے اورآﺅٹ ڈور بند کردیے گئے ۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اوپی ڈی بند کرنے والے ڈاکٹروں کی فہرست طلب کرلی ۔اُن کاکہنا تھا کہ ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔

مزید : لاہور /Headlines


loading...