میں اب بھی پاکستان میں موجود ہوں(2)

میں اب بھی پاکستان میں موجود ہوں(2)
میں اب بھی پاکستان میں موجود ہوں(2)

  


 میرا ہمیشہ سے یقین ہے کہ جو لوگ سچائی پر ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں اور جو لوگ سچائی پر یقین نہیں رکھتے انہیں کوئی وضاحت نہیں دی جا سکتی۔ ملک ریاض کے انٹرویو کے بارے میں اب بھی کچھ سوالات کئے جا رہے ہیں یہ سوالات وقتاً فوقتاً مجھ تک پہنچ رہے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں کتنی مرتبہ ان کا جواب دیتا ہوں کئی لوگ اب بھی اس معاملہ پر دوبارہ طائرانہ نظر دوڑانا چاہتے ہیں مثلاً عبدالقادر گیلانی نے مجھے فون کال کیوں کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے پہلے بھی کچھ شوز میں کالز کیں اور میں نے لائیو شو میں عمران خان سے ایک سوال پوچھا عمران خان نے اس کا جواب دیا آپ یو ٹیوب پر یہ دیکھ سکتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ہر چیز یوٹیوب پر موجود ہے اگر میں اپنے پسندیدہ رنگ کو تلاش کرنا چاہوں تو مجھے اس مقصد کیلئے ویب سائٹ کو وزٹ کرنا ہو گا حیران کن امر یہ ہے کہ کسی شخص نے میرے لئے پہلے ہی اس کا جواب دے دیا ہے۔ میرا 11سالہ بیٹا ویب سائٹ کھول کر مجھے بتاتا ہے کہ میں نے ہائی سکول میں کیا کچھ کیا اور کیا نہیں کیا یہ اس لئے ناقابل یقین ہے کہ فراہم کردہ ان معلومات کا زیادہ تر حصہ درست نہیں ہے۔ مثلاً میں اس حقیقت کی تائید کرتا ہوں کہ میں ہائی سکول میں کبھی بھی شاندار طالبعلم نہیں رہا لیکن میرے کچھ مداحوں نے ویب پر یہ معلومات مختلف طریقے سے دی ہیں لائیو شوز کے دوران کالز وصول کرنا ایک طریقہ کار ہے اور اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ کئی مرتبہ کالیں وصول کی جاتی ہیں اور اگر کسی شخص کا یہ خیال ہے کہ ہم بطور صحافی خصوصاً بطور سینئر صحافی اعلیٰ سیاسی شخصیات کو نہیں جانتے تو مہربانی سے اس نکتہ پر دوبارہ غور و خوض کریں جن لوگوں کا خیال ہے کہ کسی کو جال میں پھنسانے کیلئے شو میں سوال کیا گیا تو از راہ کرم! دوبارہ سوچنے کی زحمت کریں۔ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کی بہت سی سیاسی شخصیات اس وقت تک میرے شو میں نہیں آئیں گی جب تک انہیں سوالات کا پیشگی علم نہ ہو یہ پیشہ وارانہ زندگی میں چھوٹے چھوٹے خطرات ہیں جبکہ کچھ چوٹی کی شخصیات نے مجھے محض اس لئے بھی انٹرویہ نہ دیا کیونکہ میں نے انہیں کبھی پیشگی سوالنامہ فراہم نہ کیا میں ان تمام اینکرز کو جنہوں نے میرے متعلق تفتیش کی یہ چیلنج دیا کہ وہ اپنے شوز کے درمیانی وقفے دکھائیں تاکہ میں یہ سیکھ سکوں کہ وقفہ کے دوران کس طرح بیٹھا جاتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ کسی نے بھی اب تک میرے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا اور نا ہی وہ ایسا کریں گے کیونکہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ وہ ایسی دھن گا رہے ہیں جس پر کوئی نغمہ ترتیب نہیں دیا گیا۔ایک بہت سینئر کالم نگار نے ایک مضمون میں لکھا کہ وہ اس شخص کو سلیوٹ کرتا ہے جس نے یہ فوٹیج چرائی اور پھر دوسرے اس مہم میں شامل ہو گئے اور اسے زبردست ملازمتوں اور اضافی رعایتوں کی پیشکش کی گئی۔ میں اس صورتحال پر ششدرہ رہ گیا ہوں ایک طرف وہ معاشرے سے کرپشن اور برائیاں ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ چوریوں اور چوروں کیلئے تشہیری مہم چلا رہے ہیں کیا جعل سازی ہے ایک طرف یہ قرآن پاک کے حوالے دیتے ہوئے نہیں تھکتے اور دوسری طرف ایک چور میں سے ہیرو نکالنے میں مصروف ہیں یہ حضرات صدر زرداری کو یہ یاددھانی کراتے رہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے بطور خلیفہ کس طرز عمل کا مظاہرہ کیا اور صدر کو کس طرح ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے لیکن ان لوگوں کے سامنے جب اپنی پسند اور ناپسند کا معاملہ آتا ہے تو یہ اصول انہیں بھول جاتے ہیں ان میں سے کچھ صحافیوں نے پلاٹس اور دیگر فوائد حاصل کئے اور کچھ سالوں بعد جب زمینوں کی قیمتیں گر رہی تھیں تو انہوں نے انہیں واپس کرنے کیلئے اعلانیہ بیان جاری کر دیا۔میرے نزدیک یہ لوگ فریب کا روپ اور منافقت کے مجسمے ہیں لیکن میں آپ سے کہوں گا کہ ان لوگوں کے طرز عمل کا خود تجزیہ کریں اور خود اپنی رائے قائم کریں۔ اب میں پھر انٹرویو کے موضوع کی طرف واپس آتا ہوں میں ....شوز کے دوران لوگوں کی کالیں باقاعدگی سے وصول کرتا ہوں اور مجھ پر تنقید کرنے والے کچھ لوگ خود بھی یہ کام کر چکے ہیں ایک طریقہ کار ہے اور اس میں کوئی غلط بات نہیں میں اپنے اس موقف میں شیخ وقاص اکرم کے بارے میں بھی کچھ کہوں گا انہوں نے ٹی وی پروگرام کے دوران جھوٹ کے بل بوتے پر مجھ پر شدید تنقید کی میں صرف ایک مرتبہ ان سے ملا ہوں اور یہ ملاقات مجھے یاد ہے اور یہ ملاقات بھی ان کے بہت سے پارٹی لیڈروں کی موجودگی میں ہوئی، انہوں نے میرے متعلق اس لئے بھی جھوٹ بولا کیونکہ میں نے ٹی وی پر اس کی جعلی ڈگری دکھا دی اور اس کے ساتھ بوگس ووٹوں کی فہرست بھی دکھا دی جن کے بل بوتے پر اس نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی، کیا میں اپنے بیان میں یہ بھی شامل کر سکتا ہوں کہ اس نے یہ کام انتہائی پر فریب شرمناک طریقے سے انجام دیا۔ اس شخص کے متعلق جتنا کم کہا جائے اس کے لئے بہتر ہے کیونکہ اس کی جھوٹ اور فریب کاری کی ایک تاریخ ہے اور یہ وزارتیں لینے کیلئے جس طرح خوشامدی حربے استعمال کرتا ہے اس کے پارٹی کے لوگ بھی اس سے تنگ ہیں اور یہ وہ شخصیت ہے جو اب بھی ایک وفاقی وزارت حاصل کرنے کیلئے ہر ممکن حربہ استعمال کر رہی ہے۔دوسری طرف رانا ثناءاللہ ایک ایسے گروپ کے ملازم ہیں جہاں وہ سچ نہیں بول سکتے رانا صاحب ایک نکتہ کا اضافہ کرنا بھول گئے کہ جب لاہور میں غیر قانونی پلازے منہدم کئے گئے ان کے پلازے کو کوئی چھونے کی جرات نہ کر سکا۔ وہ خود ہی یہ وضاحت کر سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ میں اپنے قارئین پر یہ معاملہ چھوڑتا ہوں کہ وہ خود یہ فیصلہ کریں کہ میرا پروگرام کسی کو جال میں پھنسانے کا پر فریب منصوبہ تھا یا نہیں؟ علاوہ ازیں الزام تراشی کرنے والے یاد رکھیں ! مشکل حالات ہمیشہ جاری نہیں رہتے لیکن مشکل محنتی لوگ ہمیشہ باقی رہیں گے اور میں ان کے گرد موجود ہوں میں پاکستان میں ہی رہ رہا ہوں ۔   (جاری ہے )

مزید : کالم


loading...