کھلا خطبنام جناب نجم سیٹھی سابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب!

کھلا خطبنام جناب نجم سیٹھی سابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب!
کھلا خطبنام جناب نجم سیٹھی سابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب!

  


جناب ِ محترم !

٭.... مَیں آپ کی خدمت میں حالیہ انتخابات میں، ٹیک سوسائٹی لاہور میں قائم دو پولنگ سٹیشنوں کے پولنگ ایجنٹ کی حیثیت سے آنکھوں دیکھا حال بیان کرنا چاہتا ہوں:

شُنیدہ کے بُودَ مانندِ دیدہ

٭.... آپ سنی سنائی سے ہٹ کر میرے اِس حقائق نامے کی تصدیق کرنا چاہیں گے تو ٹیک سوسائٹی کے سینکڑوں نوجوان، بزرگ اور معذور افراد تک تصدیق کریں گے، جنہوں نے اِس انتخاب میں اپنے ووٹ ہر طرح کی رکاوٹوں کے باوجود ڈالے، آپ کھلی کچہری لگا کر اُن سے تصدیق کر سکتے ہیں۔

٭.... مَیں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ تصور کہ چیف الیکشن کمشنر یا اُن کے دوسرے ساتھی ممبران الیکشن کراتے ہیں، محض ایک مفروضہ ہے، درحقیقت عملاً اب تک مردم شماری سے انتخابی فہرستوں کی تیاری اور پولنگ سٹاف کی تقرری سے لے کر پریذائیڈنگ آفیسرز، ریٹرننگ آفیسرز اور پولنگ آفیسرز تک کی تعیناتی کا اہتمام صوبائی حکومتیں کرتی ہیں۔ اِس لحاظ سے حالیہ انتخابات کا انعقاد آپ کی یعنی نگران وزیراعلیٰ کی کُلی ذمہ داری تھا۔!

٭.... حقیقت کڑوی سہی، مگر سن لیجئے کہ اِس انتخاب کو منصفانہ اور شفاف انداز میں منعقد کرانے میں نہ صرف آپ بُری طرح ناکام رہے ہیں، بلکہ یہ عریاں اور شرمناک دھاندلی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ آپ کی ملی بھگت سے ہوئی۔

٭.... اب مَیں اپنے زیر مشاہدہ متذکرہ دو پولنگ سٹیشنوں کی انتخابی کارکردگی کا مرحلہ وار تفصیل سے ذکر کروں گا۔ یہ بھی واضح کر دوں کہ اِس وقت میری عمر87سال6ماہ سے متجاوز ہے اور مَیں نے1951ءکے پنجاب کے انتخابات کابھی بچشم ِ خود مشاہدہ کر رکھا ہے۔ یہ وہ انتخاب تھے، جن میں لفظ ”جھرلو“ کی اصطلاح ایجاد ہوئی تھی۔ مَیں نے اُن انتخابات میں جماعت اسلامی کے امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر کام کیا تھا۔ میرے ساتھ اسلامی جمعیت طلباءکے رکن میر عبدالرحمن بھی تھے، جو اب ایک کہنہ مشق چارٹرڈ اکاﺅنٹینٹ کے طور پر بفضل ِ تعالیٰ فعال ہیں۔ یہ میرے ساتھ پولنگ ایجنٹ تھے۔!

مَیں نے خود بھی بہت سے انتخابات میں حصہ لیا ہے۔

٭.... جب مَیں صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ٹیک سوسائٹی میں قائم پولنگ سٹیشنوں پر پہنچا تو دیکھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے پولنگ سٹالز پر، جہاں سے ووٹرز کو پرچیاں بنا کر دی جانی تھیں اور گائیڈ کیا جانا تھا وہاں کوئی عملہ موجود نہ تھا یہاں میرے بیٹے زہیر رانا، میرے ذاتی کاروباری عملے کے ساتھ پرچیاں کاٹنے پر لگ گئے،اتنے میں کچھ اور کارکن بھی آ گئے۔ جب مَیں پولنگ سٹیشن کے اندر داخل ہوا تو مَیں نے دیکھا کہ وہاں کوئی ڈھنگ کا پی ٹی آئی کا پولنگ ایجنٹ موجود نہ تھا۔ البتہ ملک کرامت اور ظہیر عباس کھوکھر کے تین پولنگ ایجنٹ مسلم لیگ(ن) کے پولنگ ایجنٹوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔ مَیں بحیثیت پولنگ ایجنٹ پی ٹی آئی، کرسی ڈال کر پریذائیڈنگ افسر کے ساتھ بیٹھ گیا۔ میرے سامنے جناب طارق رانا پریذائیڈنگ اور پولنگ سٹاف کے سر پر کھڑے ووٹنگ میں رکاوٹ ڈالنے میں مصروف تھے۔ یہ وہی طارق رانا تھے، جنہوں نے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی اور بڑے دم خم کے ساتھ تحریک انصاف کے امیدواروں کے حق میں دھواں دھار تقریریں بھی کی تھیں، مگر بعد میں مسلم لیگ(ن)کی محترمہ مریم نواز کا جلسہ بھی کرایا تھا اور اِسی قلب ِ ماہیت کے تحت اب مسلم لیگ(ن) کے امیدوار کی کنویسنگ فرما رہے تھے....!

مَیں نے اُن سے سختی سے کہا کہ ”آپ کس حیثیت سے یہاں موجود ہیں؟ اور انتخابات میں رکاوٹیں کیوں ڈال رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ:”مَیں یہاں پورے انتخابات کا انچارج ہوں“۔ مَیں نے کہا کہ مگر آپ تو یہاں کے نہ پولنگ ایجنٹ ہیں نہ الیکشن ایجنٹ، آپ یہاں سے تشریف لے جائیں، آپ صرف اور صرف اپنا ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں“، جس پر انہوں نے پولنگ ایجنٹ کی تعیناتی کا فارم حاصل کر لیا۔

مَیں نے ایک ایسا منظر بھی دیکھا جسے دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ مَیں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ S.H.O مصطفی ٹاﺅن پریذائیڈنگ افسر کی کرسی پر براجمان تھے، اُن کے ساتھ دو اور پولیس افسر بھی تھے جو صبح سے لے کر رات پولنگ کے اختتام تک موجود رہے، جب مَیں چند لمحوں کے لئے دفتر کے گیٹ کے باہر آیا اور دفتر کے کمپاﺅنڈ میں کسی کو پانی لانے کے لئے کہا تو مَیں نے دیکھا ٹیک سوسائٹی کے تمام گارڈز اپنے سینوں پر سپیشل پولیس کے بیج لگائے ہوئے ہیں اور لوگوں کے ووٹ ڈالنے میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ مَیں نے ایک گارڈ کے سینے سے ایک بیج زبردستی اُتار لیا۔ کرنل محمود نے جو ٹیگ سوسائٹی کے سیکیورٹی انچارج ہیں اور جنہوں نے20پرانے گارڈز نکال کر20نئے گارڈز بھرتی کئے تھے، مجھ سے کہا کہ ”یہ بیج واپس کر دیں“۔ مَیں نے کہا:” کرنل اگر تم مجھے گولی بھی مار دو، مَیںتمہیں یہ بیج واپس نہیں کروں گا، مَیںتمہیں اندر کراﺅں گا“۔! جب مَیں نے S.H.O اور پولیس افسران کی موجودگی پر اعتراض کیا تو پاکستان تحریک انصاف کے ایک پولنگ ایجنٹ نے، جو اُن سے مِلا ہوا تھا، کہا کہS.H.O میرے دوست ہیں“۔! مَیں نے کہا:” دوست ہیں تو پھر کیا ہو؟“

ایک پولنگ آفیسر نے، باوجود عملے کی موجودگی کے، دو گھنٹے تاخیر سے پولنگ شروع کرائی۔ ایک پولنگ آفیسر سرے سے آیا ہی نہیں۔ دوپہر کے وقت تقریباً15پولیس والوں کا جتھہ اندر داخل ہوا اور پریذائیڈنگ افسر سے پوچھنے لگا کہ:

”کون جیت رہا ہے؟“

مَیں نے اُن سے دھاڑ کر کہا:” آپ کا یہاں کیا کام ہے؟ یہاں پولنگ کا نظام بڑے پُرامن طریقے سے چل رہا ہے ہم سب آپس میں دوست ہیں۔ مَیں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ مسلم لیگ(ن) کے امیدواروں کے بڑے بھائی ملک محمد شفیع کا مفت سپلائی کِیا ہوا دودھ پی کر پَل کے جوان ہوئے ہیں۔ یہاں سے تشریف لے جایئے“!

جب مَیں بار بار دھاڑ کے پولنگ افسروں اور دھاندلی کے مرتکب، انتخاب میں رکاوٹ ڈالنے والوں کی ڈانٹ ڈپٹ کرتا تو سب کہتے کہ:

”یہ بابا بڑا سخت ہے“۔

جناب ِ والا! یہ ہے آپ کی کارکردگی، جس کے معاوضے میں آپ کوP.C.Bکا چیئرمین بنا دیا گیا ہے۔ آپ کی خدمت میں ایک شعر پیش کرتا ہوں:

تُو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا

ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی ¿ داماں بھی تھا

ایک اور بات آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ اِس کائنات کے فیصلے اللہ تعالیٰ کے ہاں ہوتے ہیں۔”فراعنِہ ¿ مصر“ کے وقت بھی وہی اللہ تعالیٰ حاکم تھا اور یہاں بھی اب تک وہی اللہ تعالیٰ حاکم ہے اور ابد تک رہے گا اور حتمی فیصلے اُسی کے ہاں ہوں گے۔

ایک بات آپ ہی کے نام اس کھلے خط میں ضمنی طور پر مَیں اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کی خدمت میں بصد احترام عرض کرتا چلوں کہ مسلم لیگ(ن) کے حکمرانوں کو اعلیٰ عدلیہ پر حملہ آور ہونے کا چَسکا پڑا ہوا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جناب اختر رسول کو، جنہوں نے میاں منیر احمد کے ساتھ مل کر جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت ِ عالیہ پر حملہ کیا تھا اور عدلیہ کی طرف سے انتخاب میں حصہ لینے کے ضمن میں نااہل قرار دیئے جا چکے تھے، اُن کو انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی:

خِرد کا نام جنوں پڑ گیا جُنوں کا خِرد

جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے

فقط       

رانا نذر الرحمن   

صدر انجمن شہریان ِ لاہور   

ممبر سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان تحریک انصاف

2-F ایکسپو ٹاور۔ بلاکH-/3 جوہر ٹاﺅن۔ لاہور

0300-4161200   

مزید : کالم