دورِ غلامی اور قوم کا اخلاق (1)

دورِ غلامی اور قوم کا اخلاق (1)
دورِ غلامی اور قوم کا اخلاق (1)

  


لارڈ میکالے نے ہندوستان میں چار سال (1834-1938ئ) قیام کیا۔ اپنے اس قیام کے بعد جب وہ برطانیہ واپس پہنچا تو اُس نے ہاﺅس آف لارڈز میں 2 فروری 1835ءکو تقریر کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ:” ہندوستان کے باشندے مال و دولت اور بے پناہ قابلیت اور اعلیٰ اخلاق کے مالک ہیں اور میرے خیال میں ہم اس ملک کو کبھی بھی فتح نہیں کر سکیں گے، جب تک ہم اس کی ریڑھ کی ہڈی کو نہ توڑ دیں، جو اس کا روحانی اور ثقافتی ورثہ ہے، چنانچہ میرا مشورہ یہ ہو گا کہ ہم ان کے قدیم نظام تعلیم اور تمدن کو کلی طور پر بدل دیں۔ یہاں تک کہ ہندوستانی یہ محسوس کرنے لگیں کہ غیر ملکیوں کی ثقافت اور اُن کی انگریزی زبان ہماری ثقافت اور زبان سے بہتر ہے۔ اس طرح وہ اپنا وقار، عزت نفس اور ثقافت کو کھو دیں گے۔ جب یہ ہو گا تو ہم اُن کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ڈھال لیں گے اور وہ حقیقتاً ایک غلام قوم بن جائے گی“۔

فرنگیوں کے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سر سید احمد خان نے ایک بے مثل کردار ادا کیا، جس کا اندازہ آپ اُن کے ان خیالات سے لگا سکتے ہیں۔ مندرجہ بالا لارڈ میکالے کی تقریر کے فقط 34 سال بعد سر سید احمد خان علی گڑھ کی سائنٹیفک سوسائٹی کے سیکرٹری کو لندن سے اپنے خط مورخہ 15 اکتوبر 1869 میں رقمطراز ہیں:”انگریزوں کی خوشامد کئے بغیر، مَیں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہندوستان کے باشندے خواہ ان کا تعلق اونچے درجے سے ہو یا نچلے درجے سے، سوداگر اور چھوٹے دکاندار، پڑھے لکھے اور اَن پڑھ جب اُن کا موازنہ انگریزوں سے اُن کی تعلیم، اخلاق اور حق گوئی میں کریں تو انگریزوں کی قابلیت اور وجاہت کے مقابلے میں ہندوستانیوں کی حالت ایسے ہی ہے جیسے ایک گندے جانور کی“ ۔

یقین نہیں آتا کہ ہندوستانی قوم صرف 34 سال میں گندگی کے جوہڑ میں گر جائے گی۔ 1835ءمیں تو لارڈ میکالے ہندوستانیوں کو ایک نہایت اعلیٰ و ارفع قوم گردانتا ہے، جبکہ ہمارے اپنے ممدوح سر سید احمد خان 1869 میں ان پر ذلت اور خواری کا لیبل لگا رہے ہیں۔ سر سید احمد نے اگر کوئی سیاسی سبق دیا تھا تو وہ یہ تھا کہ مسلمان ہند اپنی زبان اور عمل سے انگریز حکمرانوں کو یہ یقین دلا دیں کہ وہ اُن کی وفادار رعیت ہیں۔ سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو انگریزوں کی اطاعت کا سبق دیا۔ اُنہوں نے ہندی مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ نوکریوں اور مراعات کے لئے انگریزوں سے التجا کریں، بطور حق نہ مانگیں، جیسے اُن کی زندگی کا مقصد بس ان قلیل مادی مراعات کے سوا اور کچھ بھی نہ ہو۔

یقین نہیں آتا تھا کہ دور غلامی ایک قوم کے اخلاق کو اتنے قلیل عرصے میں اس کے ارفع مقام سے اٹھا کر خاک میں ملا دیتا ہے۔ خیال آتا تھا کہ یہ شاید سر سید احمد خان کی خام خیالی ہو اور حقیقت میں قومی زوال اس سرعت کے ساتھ نہ ہوا ہو، چنانچہ مزید تحقیق کی گئی تو یہ راز کھلا کہ سر سید احمد خان ٹھیک ہی فرما رہے تھے، مگر قوم کی حالت اتنی ناگفتہ بہ نہ تھی جتنی وہ سمجھ رہے تھے۔ قوم کا زوال انیسویں صدی کے ساتویں عشرہ کی بجائے بیسویں صدی کے اوائل سے شروع ہوا۔ بہرحال ان تواریخ میں صرف 30، 40 سال ہی کا فرق ہے۔ صورت حال کا اندازہ علامہ راشد الخیری کی تحریروں میں سے مندرجہ ذیل دو اقتباسات سے لگایا جا سکتا ہے:۔

1863ءکے موسم برسات میں جب دہلی نئی نئی اُجڑی تھی اور پھانسیاں ملزمان شاہجہان آباد کو موت کے گھاٹ اتار چکی تھیں، جو باقی تھے وہ تباہ و تاراج روٹی کے ٹکڑے کو محتاج۔ ساون کا مہینہ تھا اور تیرہ روز سے جھڑی لگی ہوئی تھی۔ اِسی برسات کے دوران ایک نہایت ہی معزز خاندان کی بیٹی حاملہ تھی، نصف شب گزر چکی تھی کہ حاملہ کو درد شروع ہوا، جس کمرہ میں وہ لیٹی تھی اس کی چھت پر ایک عظیم الشان دیوار گری اور اس کا گرنا اس چھت ہی کا کیا سارے گھر ہی کا فنا ہونا تھا۔

صاحب خانہ ایک بیوہ بی بی تھی، اتنا پتہ لگتے ہی محلہ والے تہمتیں باندھ، لال ٹینیں لئے چھت پر آپہنچے اور دیوار کو اتارنا شروع کیا۔ اس گروہ میں معمولی غریب غربا کے ساتھ مولوی محی الدین جج ہائی کورٹ حیدرآباد، کارخانہ دار فیاض الدین صاحب اور سید محفوظ علی تاجر کلکتہ بھی تھے۔ دیوار بڑی تھی اور چھت چھوٹی، تھوڑی دیر میں بھر گئی۔ رات کے ایک بجے لڑکا پیدا ہوا اور اب اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ زچہ کو کسی طرح دوسرے مکان میں منتقل کیا جائے۔ مُنہ سے نکالنے کی دیر تھی بختیار کہار پینس لے کر آ موجود ہوا، مگر پالکی گھر کے اندر نہ جا سکتی تھی۔ فوراً دو تین ڈولیاں آ گئیں اپنے محلے سے بھی اور پرے محلے سے بھی۔ زچہ کی پالکی کے ساتھ خاصی برات تھی۔ اب گھنٹے کے اندر اندر سب کچھ ہو گیا۔

بیس پچیس سال کا ذکر ہے، یعنی 1911ءکا‘ مَیں علی گڑھ سے دہلی آ رہا تھا۔ چلنے لگا تو ایک صاحب نے جو عزیز ہیں پر وہاں ملازم تھے فرمایا کہ میرے بال بچوں کو ساتھ لیتے جاﺅ، چنانچہ ہم سب تیار ہو کر سٹیشن پر آئے تو معلوم ہوا کہ کل دربار ہے اور گاڑی کے اول‘ دوم‘ درمیانہ درجہ میں مطلق جگہ نہیں اور یہی حال تیسرے درجہ کا ہے۔ المختصر جوں توں ٹکٹ خریدے اور گاڑی میں کھڑے ہو گئے۔ راستہ میں کیا گزری اس سے قطع نظر کر کے دہلی پہنچے تو واقعی شہر دلہن بنا ہوا تھا۔ برقی روشنی نے چپہ چپہ جگمگا دیا تھا‘ ہم سب اُتر کر باہر پہنچے۔ گاڑیاں اور تانگے تھے تو سینکڑوں، مگر پرانی اور نئی چھاﺅنی، قلعہ اور سلیم گڑھ کے سوا کوئی جگہ ہی ان کی زبان پر نہ تھی، مَیں نے ہرچند کوشش کی اور سب سے کہا، مگر سواری میسر نہ ہوئی۔ مجبوراً کچھ ذی اختیار حضرات سے التجا کی۔ بنی ہوئی دلی اور تعلیم یافتہ لوگ تھے‘ کیونکر توجہ فرماتے، جو صاحب سواریوں میں تشریف فرما تھے ان سے درخواست کی‘ وہ ہنس کر آگے بڑھ گئے۔ بڑی مصیبت یہ تھی کہ جو بیوی ہمراہ تھیں وہ نہ صرف حاملہ تھیں، بلکہ مدت حمل پوری کر کے وضع حمل کے واسطے گھر جا رہی تھیں۔ عجیب کشمکش میں تھا۔ تین چھوٹے چھوٹے بچے، سات آٹھ عدد اسباب، دس بجے کے اُترے اُترے رات کا ایک بج گیا ،مگر قلی میسر نہ ہوا۔ آباد دِلی کا کرشمہ تھا کہ میدان حشر کی طرح نفسا نفسی پڑ رہی تھی، شاید ہی وہاں کوئی مسلمان میری التجا سے بچا ہو، مگر کسی نے ذرہ بھر ہمدردی نہ کی۔ خدا خدا کر کے چار قلی آٹھ روپے پر رضامند ہوئے۔(جاری ہے)     ٭

مزید : کالم