گیس کی قلت اور نرخوں کا مسئلہ ؟

گیس کی قلت اور نرخوں کا مسئلہ ؟

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی ہدایت پر قدرتی گیس کے نرخوں میں اضافے کی تجویز موخر کر دی گئی ہے وزیر اعظم نے حکم دیا تھا کہ رمضان المبارک کی آمد کے حوالے سے قیمتوں میں فی الحال اضافہ نہ کیا جائے اور عید الفطر کے بعد حقیقت پسند انہ جائزہ لے کر معقول فیصلہ کیا جائے۔ سوئی گیس انتظامیہ ہر مالی سال کے دوران دو مرتبہ یکم جولائی اور یکم جنوری کو گیس کے نرخوں میں اضافہ کرتی چلی آ رہی ہے اور اس مرتبہ تجویز کیا گیا تھا کہ اُٹھ روپے بہتر پیسے فی یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) بڑھائے جائیں۔ سوئی گیس حکام کا ہمیشہ سے یہ موقف رہاہے کہ پاکستان میں گیس کے نرخ بہت کم ہیں اور صارفین کو سبسڈی دی جا رہی ہے۔ جو بتدریج واپس لی جا رہی ہے۔ 8روپے 72 پیسے اضافے کے بعد بھی نقصان ہی ہو گا۔

سوئی گیس سستا ایندھن ہے۔ جسے ماضی سے اب تک بے دردی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے بجلی پیدا کرنے کے لئے بجلی گھروں کو گیس دینے کے ساتھ ساتھ کھاد فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل کے شعبہ کو بھی گیس کی سہولت دی گئی اس کے بعد گاڑیوں کو سی این جی پر چلانے کے لئے سی این جی سٹیشنوں کی بھرمار کر دی گئی، گاڑیوں میں استعمال کی کوئی درجہ بندی بھی نہ کی گئی اور کاروں سے شروع ہو کر ویگنیں اور ٹرک تک گیس پر منتقل کر لئے گئے اور ایک ایک ویگن، بس اور ٹرک میں چار سے دس تک سلنڈر نصب ہیںگیس کے اس بے تحاشا استعمال کا نتیجہ گیس کی قلت کی صورت میں نکلا اور سردیوں میں لوڈشیڈنگ کی نوبت آ جاتی ہے جس سے گھریلو صارفین بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

گیس کی تقسیم کی موثر پالیسی نہ بنائے جانے کی وجہ سے اب گیس کا بہت بڑا بحران ہے۔ ٹیکسٹائل کے شعبہ کو گیس مہیا نہیں کی جا رہی تو کھاد کے کارخانوں کے لئے بھی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ جبکہ سی این جی سٹیشنوں کے لئے بھی دن مقرر ہیں۔

اصل کہانی بدانتظامی کی ہے۔ یہ ہمارے ملک میں ہر شعبہ زندگی کا دستور بن گیا ہے کہ کسی بھی مسئلہ کو ابتدا ہی میں نہیں سلجھایا جاتا اور جب کوئی معاملہ بہت زیادہ پریشان کن بن جاتا ہے تو پھر توجہ دی جاتی ہے اس وقت تک مسائل بڑھ کر نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ سیدھا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خود محکموں کے اندر کرپشن بھی ہوتی ہے اور بدعنوان عناصر صنعت کاروں کے ساتھ گیس چوری میں ملوث ہیں۔اب گیس کمپنی والوں نے از خود فیصلے کئے قیمت بڑھانے کی درخواست دی اور یہ تجویز بھی دی کہ سی این جی کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے قیمت پٹرول کے برابر کر دی جائے۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اضافے سے روکا ہے تو یہ بھی عارضی ہے اصولی طور پر انہوں نے اتفاق ہی کیا ہے بات صرف اتنی ہے کہ اب یہ اضافہ عیدالفطر کے بعد متوقع ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پورے مسئلہ کا جائزہ نیک نیت ماہرین کی موجودگی میں تفصیل سے لیا جائے اور ایک ایسی مربوط پالیسی بنائی جائے جو دیرپا ہو اور چلتی رہے پھر کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو۔ اس میں ٹیکسٹائل ، کھاد فیکٹریوں اور ٹرانسپورٹ کو شامل کرنا ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے بجا فرمایا کہ گھریلو صارفین کو ترجیح دی جائے اور ساتھ ہی انہوںنے بیرونی ممالک سے گیس کی خریداری کے لئے کوششیں تیز کرنے کو کہا ہے ۔ گیس درآمد کرنے سے پہلے گیس پالیسی مرتب کرنا اور بھی ضروری ہو گا کہ قیمتی زرمبادلہ سے خریدی گئی گیس بھی ضائع نہ ہو۔ ٭

مزید : اداریہ