دورِ غلامی اور قوم کا اخلاق (2)

دورِ غلامی اور قوم کا اخلاق (2)
دورِ غلامی اور قوم کا اخلاق (2)

  


شہر میں آیا تو فتح پوری، چاندنی چوک اور قلعہ کی سڑکیں بنچوں سے پٹی پڑی تھیں کہ صبح اپنے حکمران کی مبارک صورت کے درشن کریں۔ برقیندازوں نے ٹوکنا شروع کیا۔ ان سے پیچھا چھڑا کر ٹھنڈی سڑک پر پہنچا۔ قافلہ ساتھ تھا اور حاملہ بیگم جوتیاں چٹخاتی ساتھ چلی جا رہی تھیں، چیلوں کے کوچہ کو جانا تھا محلہ میں قدم رکھتے ہی ایک عزیز ملے۔ گو رشتہ دور کا تھا، مگر انسان تھے اور مسلمان‘ ساری رام کہانی سننے کے بعد فرمایا: ”معاف کیجئے گا میں ایک ضروری کام کو جا رہا ہوں“۔

گھر پہنچ کر پردیسن پر کیا گزری یہ تو خبر نہیں، صبح معلوم ہوا کہ لڑکا پیدا ہوا۔ یہ بچہ اب بی اے میں ہے یا بی اے پاس کر چکا ہے اور وہ عزیز صاحب بھی،جنہوں نے فرمایا تھا ”معاف کیجئے گا“ زندہ ہیں اور ایک جلیل القدر عہدہ سے پنشن لی ہے۔

اب یہ فیصلہ سننے والوں کا کام ہے کہ بنی ہوئی دلی کون سی تھی اور اُجڑی ہوئی کون سی۔ راتیں دونوں گزر گئیں۔ پہلی زہ کی بھی اور اس کے بھی، لیکن کچھ باتیں باقی ہیں وہاں بھی اور یہاں بھی۔ مولوی محی الدین خاں ، جن کی ہڈیاں گل کر خاک ہو چکیں، دھونتال مینہ میں ایک مسلمان پڑوسن کی خدمت آدھی رات کے وقت کر گئے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب جو ”معاف فرمائیے“ فرما کر آگے بڑھ گئے ابھی زندہ ہیں اور شاید دنیا اب ان کو ایسی خدمت کا موقع نہ دے۔

مُردے اور زندہ کا مقابلہ بگڑی اور بنی دلی کا فیصلہ ہے۔ پرکھنے والے بتا دیں گے کہ انسانیت کی کسوٹی پر کندن کون تھا اور پیتل کون۔

مقام صد افسوس ہے کہ ہمیں آزاد ہوئے پینسٹھ برس گزر چکے ہیں ،مگر اب تک ہماری حالت ناگفتہ بہ ہے۔ اسلام میں اخلاق اور رواداری پر جتنا زور دیا گیا ہے شاید ہی دنیا کے کسی اور مذہب میں دیا گیا ہو۔ نبی آخرالزمان رسول اکرمﷺ کو یہاں تک بتایا گیا کہ لوگوں کو ہدایت دینا آپ کی ذمے داری نہیں ہے۔ کیونکہ ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہے دیتا ہے (سورة البقرہ: 272 ؛ القصص: 56)۔ رسول اللہﷺ کے ذمہ صرف اتنا ہی کام ہے کہ وہ اللہ کے پیغام کو لوگوں تک صحیح صحیح پہنچا دیں (الکہف: 29)۔ اور اگر وہ تم سے منہ پھیر لیں تو تمہارا کام تو صرف واضح طور پر بتانا ہی ہے (النحل: 82)۔ رسولوں پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سواور کوئی ذمہ داری نہیں (النحل: 35؛ یسین: 17)۔ ہم نے تمہیں صرف خوشخبری سنانے والا ا ور ڈرانے والا بناکے بھیجا ہے (بنی اسرائیل: 105؛ الفرقان 56)۔ ہم نے تمہیں ان کا محافظ نہیں بنایا اور نہ ہم تم ان کے اعمال کے ذمہ دار ہو (الانعام: 107)۔ پس تم نصیحت کئے جاﺅ‘ تم بس نصیحت کرنے والے ہو‘ کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں (الغاشیہ : 21‘ 22)۔ ان آیات کی روشنی میں سورة توبہ کی آیت نمبر 33 ”لیظھرہ علی دین کلہ“ کا مطلب تعلیم و تبلیغ ہی ہو سکتا ہے نہ کہ غلبہ بالجبر۔ اسلام میں جنگ کفر سے نہیں ظلم اور جارحیت سے ہے۔

دو متفق علیہ احادیث میں منافق کی یہ چار نشانیاں بیان کی ہیں: (1) جب بولے تو جھوٹ بولے۔

(2) جب وعدہ کرے تو پورانہ کرے۔ (3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے اور (4) جب کسی سے جھگڑے تو فوراً آپے سے باہر ہو جائے۔

ذرا غور کریں کہ آج کے ہمارے معاشرے میں کون ہے جو اِن خامیوں سے مبرا ہے؟

اسلام کی اساس سچ پر ہے۔ حدیث نبوی کے مطابق جو شخص جھوٹ بولتا ہے وہ مسلمان نہیں رہتا۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ حق ہے۔ اس لئے جو شخص سچ نہیں بولتا وہ کافر،مشرک اور منافق ہے اور اس کی نمازیں اس کے منہ پر ماری جاتی ہیں۔ افسوس کہ ہمارے منبر و محراب نے ارکان اسلام پر ہی زور دیا ہے، اس کی اساس پر نہیں۔ نتیجتاً دروغ گوئی پاکستان کا سکہ رائج الوقت بن چکی ہے۔

ہمارے ہاں دینی عبادات کو بس جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ بنایا گیا ہے، جب کہ عبادات کا مطلب محض قولی اور نمائشی اقرار نہیں، بلکہ احکام الٰہی پر صدق دل سے عمل پیرا ہونا ہے۔ دور حاضر کے اکثر مسلمانوں کا فہم دین ناقص ہے اس لئے وہ توحید کے بلند بانگ قولی اقرار ہی کرتے ہیں۔ ہمارے بے شمار مخلص اور نیک دل مسلمان اپنے اپنے ناقص فہم دین کی ترویج اور توسیع پرکثیر مال و زر خرچ کر رہے ہیں اور اللہ سبحان تعالیٰ کی خوشنودی کی بجائے‘ اس کی ناراضگی مول لے رہے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر لوگ دوسروں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہیں مگر اپنے اعمال سے غافل ہیں حالانکہ یہ کتاب اللہ کی تلاوت بھی کرتے ہیں۔ کیا یہ عقل سے کام نہیں لیتے (البقرہ: 44)۔ دوسری طرف ہمارے نظریاتی دین داری کے پرجوش علمبرداروں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ دین مصطفی کا دارومدار تعلق باللہ‘ تزکیہ نفس، حکمت، رواداری اور اخلاص پہ ہے، اپنی دینی جدوجہد کی اساس نظریہ، تنظیم،تصادم اور انقلاب پر رکھی ہے۔

ہماری اس ژولیدگی فکر کی وجہ ہمارے مروجہ معاشرتی تضادات ہیں۔ ان تضادات میں ہم اس طرح گھرے ہوئے ہیں کہ ہمیں کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ مثلاً ہم مانتے تو ایک ہی اللہ کو ہیں مگر زندگیاں اس طرح بسر کرتے ہیں جیسے کئی ایک خدا ہوں، نعرے تو خلافت کے لگاتے ہیں، مگر ہمارا نظام حکومت ملوکیت کا ہے، باتیں تو جمہوریت کی کرتے ہیں، مگر ہمارا مزاج غیر جمہوری‘ شخصیت پرستانہ‘ آمرانہ اور تحکمانہ ہے۔ ہمارا مطمح نظر اسلامی مساوات ہے مگر مروجہ نظام معاشرت طبقاتی اور مروجہ نظام معیشت سرمایہ دارانہ ہے۔ ہمارا دین تو آفاقی ہے مگر ہم اس کی آفاقیت (Universalism) کو بھلا کر اس کی مخصوصیت (Particularism) میں گم ہیں۔ ہم اصول کی بجائے جماعتی تنظیم کو اوّلیت کا درجہ دیتے ہیں اور ہمارے مسالک ہمارے دین پر حا وی ہیں۔

دین مصطفی کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے قلزم سے گریز کی راہ اپنا کے، ہمارے دور حاضر کے سرگرم عمل مسلمان فہم قرآن کی ناقص تعبیریں لئے اپنے اپنے مسلکوں کی تنگ آبناﺅں میں بے اثر زندگیاں گذار رہے ہیں، بلکہ ایک ادھوری جستجو کے تعاقب میں ایک غیر کامل شے کو کامل تصور کرتے ہوئے، ضائع کر رہے ہیں۔ نتیجتاً اسلام کی عالمگیر اخوت انسانی اور احترام آدمیت کا سہانا خواب‘ جو سیدنا عمرؓ کی شہادت اور ملوکیت کے غلبہ کی نذر ہو کے رہ گیا‘ آج بھی بلادِ اسلام کی اداس گلیوں میں اپنی تعبیر کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ بقول علامہ اقبالؒ ”اسلام تکمیل نہیں، بلکہ تمنا اور آرزو ہے“۔ پاکستان کو اس وقت ایسے جان نثاروں کی ضرورت ہے جو توحید اور اتباع رسول میں اولوالعزم ہوں اور جن کا جذبہ ایمانی اقدار اور افکار کی حدودسے گذر کر کردار کا حصہ بن گیا ہو۔ وہ ایسے رجال ہوں جو دنیا کی دونوں بڑی طاقتوں‘ خوف و طمع‘ پر توحید الٰہی کی ضرب کاری لگا چکے ہوں اور ان کی تیغ برہنہ کے پیچھے جذبہ ایمانی، فراست دینی‘ تعلق باللہ‘ حب رسول‘ بلندی فکر اور جوش عمل کا ایک حسین امتزاج ہو۔ مزید براں ان کے دلوں میں یہ یقین کامل گھر کر چکا ہو کہ سب سے بڑی حکمت اللہ تعالیٰ کا خوف اور سچی محبت ہے۔ پاکستان میں اسلامی تحریک تبھی کامیاب ہو گی جب اسلام کی صحیح، جدید اور متوازن تعبیر کے پیچھے اس کے داعیوں کے اعلیٰ کردار کی سند موجود ہو گی اور ان کی تعبیر میں آج کے انسان کے معاشی مسئلہ کا واضح حل موجود ہو گا۔(ختم شد)      ٭

مزید : کالم