پاک بھارت تعلقات .... !

پاک بھارت تعلقات .... !
پاک بھارت تعلقات .... !

  



وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورہ ¿ بھارت اور مابعد حالات سے ایک مرتبہ پھر یہ سوال پوری شدت سے سامنے آیا ہے کہ بھارت سے ہمارے تعلقات کی نوعیت کیاہو ؟۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہیں ، دونوں ملکوں کے درمیان طبل جنگ بجتا رہے اور دو نوںقومیں باہمی برسرپیکار رہیں ۔ جماعت اسلامی پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایوں سے پرامن بقائے باہمی کی بنیادوں پر تعلقات کی خواہش مند ہے اسی لیے یہ ضروری ہے کہ پوری سنجیدگی سے یہ سوچا جائے کہ ایک ارب تیس کروڑ انسانوں پر مشتمل دونوں ممالک کے درمیان پرامن تعلقات کیسے قائم ہو سکتے ہیں ۔ محض دوروں اور مذاکرات سے امیدیں وابستہ کر لینے یا تجارتی تعلقات اور مذاکرات کی میز سجا لینے سے معاملات حل ہو سکتے تو اب تک ہو چکے ہوتے ۔ اس لیے کہ گزشتہ ساٹھ سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان 132 مرتبہ مذاکرات ہو چکے ہیں تجارتی تعلقات بھی مدتوں سے جاری ہیں ۔ دونوں ممالک کے ادیب ، شاعر ، قلم کار ، اداکار باہمی دورے بھی کرتے رہتے ہیں ۔ سی بی ایم یعنی پہلے اعتماد سازی کا عمل نصف صدی سے جاری ہے کیا ہمارے تعلقات بہتر ہو گئے ہیں ؟کیا مسائل حل ہو چکے ہیں ؟ تو جواب یقینا نفی میں ہو گا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔ 1989 ءسے دونوں ممالک حالت جنگ میں ہیں ۔ کئی مرتبہ بھارت نے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن جیسے جنگی جنو ن پر مبنی اقدامات پر عملدرآمد کی کوشش کی ہے اس لیے محض ایک دورے سے خوشگوار مستقبل کی راہیں کھلنے کے خواب دیکھنا خود فراموشی کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔دیکھنا چاہیے کہ ہمارے درمیان کشیدگی کے اسباب کیاہیں ؟اور بھارت کا اب تک طرز عمل کیا رہاہے ۔ بھارت سے ہمارے مسائل میں مسئلہ کشمیر سر فہرست ہے ۔ پھر دریائی پانیوں ، سیاچن ، سرکریک اور بھارت کی طرف سے پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں کے مسائل ہیں ۔ دوسری طرف بھارت کو پاکستان سے ایک ہی شکایت ہے کہ پاکستان کراس بارڈر ٹیررزم کی سرپرستی اور بھارت میں مداخلت کررہاہے ۔ظاہر ہے کہ ہمالیہ جتنے ان مسائل سے آنکھیں بند کر لینے یا انہیں پچاس سالوں کے لیے منجمد کرنے ، سرد خانے میں ڈالنے اور پہلے اعتماد سازی کا ماحول پیدا کرنے کی تجاویز پاکستانی مفادات سے زیادہ بھارتی ایجنڈا ہوسکتاہے ۔ آئیے ، ان مسائل کا تجزیہ کرلیں:۔

مسئلہ کشمیر :۔

مسئلہ کشمیر کوئی سرحدی تنازعہ نہیں ڈیڑھ کروڑ زندہ انسانوں کا زندہ مسئلہ ہے ۔ یہ تقسیم برصغیر کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل ہے ۔ اسی مسئلے پر تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔1948 ءمیں بھارت خود اقوام متحدہ میں گیا اور جنگ بندی کی تجویز     کے ساتھ یہ پیش کش کی کہ جموں و کشمیر میں رائے شماری کرالی جائے ، کشمیری پاکستان یا بھارت جس کے ساتھ ملناچاہیں، وہ فیصلہ کے مجاز ہیں اور ان کی رائے تسلیم کر لی جائے گی ۔ اقوام متحدہ نے رائے شماری کے حق میں قرار دادیں منظو ر کیں ۔ رائے شماری کمشنر مقرر کیے لیکن بھارت اپنے وعدوں سے مکر گیا ۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کرنے کی بجائے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے جعلی اقدامات کیے لیکن جعل سازی سے کسی کو ساتھ نہیں رکھا جاسکتا ۔ چنانچہ انڈیا جبر کے ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیریوں کے دلوں سے آزادی کی تڑپ نہیں چھین سکا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ فوج رکھی ہوئی ہے جو فی مربع کلو میٹر کے اعتبار سے دنیا میں سب سے زیادہ آرمی ہے پھر بھی آزادی کی تحریک نہیں دبا سکا ۔ مقبوضہ کشمیر میں عالمی میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں وہاں انسانی حقوق کی تنظیموں کو کام کرنے کی آزادی نہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر و تشدد کے خلاف مسلسل ہڑتالیں ہوتی ہیں ۔

بھارت کا یوم آزادی 15 اگست یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتاہے ۔ کشمیری 14اگست کو اپنا یوم آزادی مناتے ہیں ان کے گھروں پر پاکستانی پرچم لہرائے جاتے ہیں ۔ بیشتر علاقوں میں گھڑیوں کے وقت پاکستانی وقت کے مطابق رکھے گئے ہیں ۔ اس لحاظ سے مقبوضہ کشمیر میں روزانہ رائے شماری ہوتی ہے اور بھارت کے خلاف رائے دی جاتی ہے ۔ جدوجہد آزادی میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری نوجوان شہید ہو چکے ہیں ۔ سری نگر کے باغ شہیداں میں روزانہ نئی قبروں کا اضافہ ہوتاہے ۔ یہ کراس بارڈر ٹیررزم نہیں بھارت کے خلاف مقبوضہ کشمیر کے جوانوں کی اپنی جدوجہد ہے اسی لیے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف مردوں ، عورتوں بچوں کے کئی کئی کلو میٹر لمبے جلوس نکلتے ہیں ۔بھارت کے تین سابق آرمی چیف اور کئی اہم دانشور مثلاً ارون دھتی رائے ، اجائے شکلا ، ویر سنگھوی وغیرہ یہ رائے دے چکے ہیں کہ جبر کے ذریعے بھارت کشمیریوں کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری ہے ۔ بھارت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ علاقہ کی حیثیت تبدیل کرے اور اسے بھارت میں شامل کر لے ۔

 موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے یا تبدیل کرنے کے اقدامات مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی طرف پیش قدمی ہے جسے مقبوضہ کشمیر کے عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے لیکن پاکستان کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ معاملہ اقوا م متحدہ میں لے جائے اور بھارت کو اس اقدام سے باز رکھے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے آزادی اور الحاق پاکستان کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں ان کے جوان عزم بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے بجا طور پر یہ کہاہے کہ پاکستان تھک سکتاہے ، ہم نہ تھکیں گے نہ پیچھے ہٹیں گے نہ بھارتی قبضہ کو تسلیم کریں گے ۔کیا اس صورتحال میں مقبوضہ کشمیر کے ہزاروں شہیدوں ، ماﺅں بہنوں بیٹیوں کی قربانیوں کو محض آلوﺅں ٹماٹروں کی تجارت کے لیے فراموش کیا جاسکتاہے ؟بھارت کی ہر حکومت کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے سے پیچھے نہیں ہٹی ہمارے پرویز مشرف جیسے حکمران چار نکاتی فارمولا ، بارہ نکاتی فارمولا ، چناب فارمولا، یونائیٹڈ سٹیٹس آف کشمیر جیسی تجاویز دے چکے ہیں ۔ مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ منجمد ہو گیا تو ہماری یہ شہ رگ کبھی آزاد نہ ہوسکے گی ۔ آج جبکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام ہمارے ساتھ ہیں مسئلہ کشمیر حل کرانے کا سب سے بہترین وقت یہی ہے۔

دریائی پانیوں کا مسئلہ :۔

سندھ طاس معاہدہ کے لحاظ سے ہم نے دو دریا مکمل طور پر بھارت کو دے دیے جبکہ ہمارے تین دریا سندھ ، جہلم ، چناب جو بھارتی مقبوضہ کشمیر سے آتے ہیں ان پر ہمارا مکمل حق تسلیم کر لیا گیا ۔ بھارت ان دریاﺅں پر ڈیم بنانے ، ان کا پانی ذخیرہ کرنے ، ان کا رخ موڑنے کا قطعاً مجازنہیں لیکن بھارت نے ان دریاﺅں پر سات مکمل ڈیم اور 53 بجلی گھروں کے پراجیکٹس بنالیے ہیں ۔ 1978 ءمیں سلال ڈیم ،1988 ءکشن گنگا ڈیم پھر بگلیہار ڈیم وغیرہ کے ذریعے ہمارے حصہ کا پانی یا تو ذخیرہ کر لیا ہے یا ان کا رخ موڑ دیا ہے ۔ بھارت یہ ذخیرہ شدہ پانی برساتی موسم میں اچانک چھوڑ کر پاکستان پر سیلاب مسلط کردیتاہے یا کاشت کے موسم میں پانی روک کر ہمارے لیے قحط سالی کے حالات پیدا کر سکتاہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے اسی لیے کشمیر کو پاکستان کی ”شہ رگ “قرار دیا تھا ۔ بھارت سے تجارت کرنے سے تو بھارت کا ہی زیادہ فائدہ ہے جبکہ دریائی پانیوں کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ہماری معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے ۔ معاشی استحکام جس کا بھارت کے ساتھ تعلقات کی بڑی دلیل کے طور پر تذکرہ کیا جاتاہے ، اس کا زیادہ انحصار مسئلہ کشمیر اور دریائی پانیوں کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ہے ۔ ظاہر ہے کہ دریائی پانیوں کا مسئلہ فوری نوعیت کا ہے اسے نہ منجمد کیا جاسکتاہے اور نہ ہی مو¿خر ۔

سیاچن و سرکریک :۔

سیاچن کا معاملہ، 1984 ءمیں بھارت نے سیاچن کے پاکستانی علاقہ پر اچانک قبضہ کرلیا۔ بھارت نے 70 کلو میٹر طویل گلیشئراور 1500مربع کلو میٹر رقبہ پر قبضہ کر رکھاہے ۔ سطح سمندر سے 20ہزار فٹ بلند اس چوٹی پر 2ہزار سے زائد فوجی جانیں قربان کر چکے ہیں ۔

سیاچن ایسا معاملہ ہے جسے ایک بڑا انسانی المیہ کہا جاسکتاہے ۔ دونوں طرف کے فوجےوں کا اصل مقابلہ ایک دوسرے سے نہیں بلکہ موسیم سے ہے ۔ بے شمار فوجی جن میں افسران بھی ہیں اگر وہاں سے جانیں بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اپنے ہاتھ پاﺅں نہیں بچاسکے اور ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے ہیں ۔ سیاچن کا مسئلہ حل کرنے میں بھارتی ہٹ دھرمی کے علاوہ کوئی رکاوٹ نہیں ۔ اسی طرح سرکریک رن کچھ کے علاقہ میں ایک 96 کلو میٹر لمبی پٹی ہے جس کا پاکستان کا انڈیا سے تنازعہ چل رہاہے ۔

دہشتگردی کے الزامات و واقعات :۔

پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے جائزہ سے پہلے پاکستان پر بھارتی الزامات کا جائزہ ضروری ہے اس لیے کہ ہمارے بھی بعض نام نہاد دانشور یہ بیان کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں بھی یہ چاہیے کہ ہم بھارت میں مداخلت نہ کریں ۔ گویا کہ وہ بھارتی الزامات پر کسی نہ کسی درجے میں یقین رکھتے ہیں اور بھارتی پراپیگنڈا سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔ بھارت کا یہ پرانا طریقہ ¿ واردات ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان کے اداروں بالخصوص آئی ایس آئی پر ڈال دیتاہے ۔ بھارت میں مالی گاﺅں میں ایک مسجد کے نمازیوں پر حملہ ہوا ۔ بھارت نے الزام آئی ایس آئی اور بھارتی مسلمانوں کی طلبہ تنظیم سیمی پر لگادیا ۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحہ میں 553پاکستانیوں سمیت 757 انسان زندہ جلائے گئے تو بھارت میں اس کا الزام بھی آئی ایس آئی پر لگایا گیا ۔ 13دسمبر 2001ءکو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو ایک مرتبہ پھر الزام پاکستان پر لگایا گیا اور اسی جرم میں مقبوضہ کشمیر کے ایک رہنما محمد افضل گورو کو پھانسی کی سزا دے دی گئی ۔ 26نومبر 2008 ءکو ہونے والے ممبئی واقعات کا الزام تو براہ راست پاکستان اور لشکر طیبہ پر لگایا گیا اور اسی الزام کو بھارتی وزیراعظم نے میاں نوازشریف سے ملاقات میں دوہرایا اور پاکستانی وزیراعظم کو اس حوالہ سے ایک چارج شیٹ تھما دی گئی ۔ ان الزامات کی حقیقت کیا ہے ،اور اس بارے میں خود بھارتی ذرائع کیا کہتے ہیں؟، آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں:(جاری ہے) ٭

سمجھوتہ ایکسپریس اور مالی گاﺅں کے واقعات پر بھارت کے ایک بڑے تفتیشی آفیسر ہیمنت کرکرے نے یہ رپورٹ دی کہ” ان واقعات کے پیچھے نہ آئی ایس آئی تھی اور نہ سیمی بلکہ بھارت کے انتہا پسند ہندوﺅں کا ایک گروہ ان واقعات کا ذمہ دار ہے جن میں حاضر سروس کرنل پروہت ، میجر کلکرنی وغیرہ شامل تھے ۔“ چونکہ ہیمنت کرکرے ایک دیانتدار اور فرض شناس افسر کے طور پر معروف تھے اس لیے ان کی رپورٹ کو تسلیم کیا گیا۔ اس طرح سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحہ میں شہید ہونے والے پاکستانیوں کے قاتل بے نقاب ہو ئے لیکن ہوا کیا؟ نہ کیس چلا نہ گرفتاریاں ہوئیں نہ مجرموں کو کٹہرے تک لایا گیا، بلکہ ممبئی واقعات کے موقع پر کرکرے کو گھر سے بلایا گیا اور گولی کا نشانہ بنادیا گیا ۔گویا کہ معصوم پاکستانیوں کا لہو ،

 یہ خون خاک نشیناںتھا رزق خا ک ہوا

اب رہ گئے ممبئی واقعات اور پارلیمنٹ پر حملہ اس سلسلہ میں خود بھارت کے اندر کی گواہی کیا ہے

۱۔انڈین وزارت داخلہ کے ایک انڈر سیکرٹری مسٹر آروی ایس مانی نے 14جولائی 2013 ءکو بھارتی سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی داخل کیاجس میں اس نے اپنے ایک سینئر افسر مسٹر ستیش ورما کے حوالے سے گواہی دی کہ بھارتی پارلیمنٹ پر 13دسمبر 2008ءکا حملہ بھارت سرکار نے خود کیا تھا اور اس کا مقصد انسانی حقوق کے منافی پوٹا کے قوانین کی منظوری تھی ۔ اسی طرح 26 نومبر 2008 ءکے ممبئی واقعات کے پیچھے بھی خود بھارت سرکار تھی اور مقصد UAPA قوانین کی منظوری تھی ۔

۲۔ممبئی واقعات میں بھارتی فرض شناس آفیسر ہیمنت کرکرے کو گھر سے بلا کر موت کے گھاٹ اتار دینے سے بھی واضح ہے کہ ممبئی واقعات کے پیچھے وہی انتہاپسند متعصب ہندو گروہ تھا کہ جس نے سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ کیا اور جو ہیمنت کرکرے کو راستے سے ہٹاناچاہتا تھا۔

ممبئی واقعات میں پاکستان کو ملوث کرنے کا واحد ذریعہ اجمل قصاب تھا جسے بھارت میں پھانسی چڑھا دیا گیا ۔ بھارتی پراسیکیوشن اس کے پاکستان سے تعلق کے ثبوت و شواہددینے میں ناکام رہا ۔ استغاثہ کی کہانی اتنی کھوکھلی اور بے بنیاد تھی کہ سزائے موت سنانے والی عدالت کو یہ جملہ لکھنا پڑا کہ اگرچہ ناکافی شہادتیں ہیں لیکن ہم بھارت کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے سزا ئے موت سنا رہی ہیں ۔ اجمل قصاب کے اعترافی بیان کو بنیاد بنایا گیا حالانکہ پولیس کے سامنے اعترافی بیان کی حیثیت زیرو سے زیادہ نہیں ہوتی ۔ اجمل قصاب نے عدالت کے سامنے اپنے اس بیان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔ اس نے بیان دیا کہ ”میں ممبئی کی فلمی دنیا میں قسمت آزمائی کے لیے آیا تھا ۔ ممبئی واقعہ سے 22 دن قبل میری گرفتاری ہوئی ۔ تاج محل ہوٹل میں جو دہشتگرد نظر آیا ہے وہ میں نہیں ہوں اور میری اور اس کی شکل بھی نہیں ملتی ۔“

استغاثہ نے 600گواہوں کی فہرست دی لیکن ان کو محض چند دنوں میں بھگتا دیا گیا نہ گواہیاں درست طریقے سے ریکارڈ ہوئیں نہ گواہوں پر جرح ہوئی ۔ اتنابڑا واقعہ مقامی سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں ۔ استغاثہ نے اس خلاف کو پر کرنے کے لیے دو مقامی مسلمانوں فہیم انصاری اور صباح الدین کے نام شامل کیے لیکن کوئی رابطہ ثابت نہ کر سکے اس لیے عدالت نے دونوں کو رہا کر دیا ۔

میں نے اجمل قصاب کے اعترافی بیان کی کاپی حاصل کی تو ہر صفحہ یہ بتا رہاتھاکہ یہ پاکستانی نہیں کوئی بھارتی نوجوان ہے۔ مثلا

1۔وہ آزاد کشمیر کو پاکستانی مقبوضہ کشمیر لکھتا ہے حالانکہ پاکستان میں ایک ان پڑھ دیہاتی بھی آزاد کشمیر کہتاہے ۔

پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی اصطلاح بھارت میں استعمال کی جاتی ہے

2۔وہ لاہور کے تذکرہ میں داتا دربار کو درگاہ علی ہجویری کہتاہے یہاں سب داتا دربار یا داتا صاحب کہتے ہیں ۔ درگاہ کا لفظ بھارت میں مستعمل ہے ۔

3۔خود قصاب کو نام کا حصہ بنانے کا سلسلہ پاکستان میں نہیں چلتا یہاں قصائی یا قریشی کا لاحقہ استعمال ہوتاہے ۔

4۔و ہ ودیشی سیلانی کا لفظ استعمال کرتاہے ، پاکستانی اس کے لیے غیر ملکی سیاح کہتے اور لکھتے ہیں ۔

5۔وہ رمضان عید کہتاہے یہاں اسے عید الفطر کہتے ہیں ۔

6۔اس کے بیان میں بکثرت ہندی الفاظ ہیں ۔

٭۔انڈین پراسیکیوشن نے حملہ آوروں کے پاکستان سے موبائل فون رابطے کا دعوی کیا لیکن کوئی بھی ٹیکنیکل سپورٹ فراہم نہ کر سکے جس” سم “کے ذریعے رابطے کا کہا گیا وہ بھارت کے کسی کھڑک سنگھ کے نام سے جاری ہوئی ہے ۔

٭۔ایک ای میل کے ذریعے رابطہ کا دعویٰ کیا گیا لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ اس ای میل کا ماخذ ماسکو روس تھا۔

اسی لیے ہماری حکومتوں کے مطالبے کے باوجود کوئی ثبوت و شواہد فراہم نہیں کیے گئے ۔گواہوں پر جرح کے مواقع نہیں دیے گئے ۔ ایک انڈین مسلمان ایڈووکیٹ از خود اجمل قصاب کے وکیل صفائی کے طور پر ایک دو پیشیوں پر پیش ہوئے لیکن انہیں قتل کر دیا گیا۔

ممبئی واقعات پر بھارت کو دلائل و براہین پر مبنی ٹھوس جواب دینے کی ضرورت ہے اور خواہ مخواہ نیم دفاعی طرز عمل اختیار نہ کیا جائے ۔

پاکستان میں بھارتی مداخلت کے جواب میں اگر پاکستان نے بھی مداخلت کی ہی پالیسی اپنا نی ہو تو اس کے بڑے مواقع موجود ہیں ، مثلاً بھارت کے 608 اضلاع میں سے 250 میں علیحدگی کی تحریکوں کی وجہ سے فوجی کاروائی ہورہی ہے ۔ 150 اضلاع میں متوازی حکومتیں قائم ہیں لیکن پاکستان نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا جبکہ بھارت نے آج کے دور کی سب سے بڑی مداخلت کر کے پاکستا ن کو دوٹکڑے کردیا ۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے اور پاکستانی فوج سے راہ فرار اختیار کر کے مکتی باہنی کے بڑے کمانڈر بننے والے کرنل شریف الحق دیلم نے اپنی کتاب میں واضح اعتراف کیا ہے کہ یہ سب کچھ بھارتی کھیل تھا اور مکتی باہنی بھارتی جرنیل اوبان سنگھ نے بنائی اور چلائی تھی اس میں ہندو فوجی شامل تھے اور انہوں نے غیر بنگالیوں کا قتل عام اور ان کی عورتوں کی عصمت دری کی تھی ۔

اس وقت کے بھارتی آرمی چیف جنرل مانک شا نے بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی کے حوالہ سے مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے کی بہت پہلے سے تیار شدہ سازش کا انکشاف کیاہے ۔ مغربی بنگال کی ایک پروفیسر شرمیلا بوس نے اپنی غیر جانبدارانہ تحقیق سے واضح کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے مظالم محض جھوٹا پراپیگنڈا تھا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار اصلاً غیر بنگالی پاکستانیوں کو بنایا گیا تھا ۔

1971 ءمیں بھارت کی پانچ لاکھ آرمی نے انٹر نیشنل بارڈر عبور کر کے پاکستان پر براہ راست حملہ کیا تھا اور اس سے بڑی مداخلت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔

بھارت میں اقلیتوں پر مظالم 32ہزار مسلم کش فسادات ، سانحہ گجرات ، بابری مسجد کی شہادت ، اقلیتوں کے حقوق پر سچل رپورٹ وغیرہ کتنے ہی موضوعات پر پاکستان آواز اٹھا سکتا تھا لیکن ہماری محتاط حکومتو ں نے کبھی ان حالات سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔

پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں بھارتی مداخلت کے بے شمار ثبوت و شواہد موجود ہیں ۔ دہشتگردوں سے بھارتی اسلحہ برآمد ہوا ۔ افغانستان میں موجود بھارت کے ٹریننگ کیمپوں سے تربیت کے شواہد ملے ۔ دہشتگردوں کے ٹارگٹ ہی واضح کرتے ہیں کہ پیچھے کون ہے ۔ مثلاً چینی انجینئرز کا اغوا ۔ سری لنکن ٹیم پر حملہ ۔ جی ایچ کیو پر قبضہ کی کوشش ۔ نیول اور ایئر بیسز پر حملے ۔ اورین طیاروں کی تباہی وغیرہ اس سب سے بڑھ کر خود بھارتی سینئر افسروں کے اعترافات مثلا سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے اپنی کتاب میں بلوچستان میں مداخلت کااز خود اعتراف کیاہے ۔ بھارتی خفیہ ادارے کے سابقہ ڈپٹی چیف ایم کے دھرنے اپنی کتاب ”مشن ٹو پاکستان“ میں پاکستان خصوصاً کراچی میں فرقہ وارانہ مذہبی کشیدگی کو ڈیزائن کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دہلی کے قریب ایک فارم ہاﺅس میں ہم ہندوﺅں کو مولوی بناتے تھے چنانچہ ہم نے شیام پروہت کو مولوی رضوان کا نام دیا ۔گو تم رے کو مولانا مہم خان کی شناخت دی اور شیعہ و سنی تصادم کے راستے ہموار کرنے کے لیے دونوں طرف ہمارے ہی لوگ حملے کرتے تھے ۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکومت پاکستان سے تعلقات کی بہتری کا جب نیک نیتی سے فیصلہ کرے گی تو حالات فی الواقع ٹھیک ہو جائیں گے ۔ بھارت کے 83کروڑ انسان نصف ڈالر سے کم روزانہ کماتے ہیں جبکہ بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کررہاہے ۔ گزشتہ پانچ سالوں میں اس نے اپنے دفاعی بجٹ میں 70 فیصد اضافہ کیاہے ۔ پیرا ملٹری

فورسز سمیت بھارتی افواج کی تعداد 49 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ اگر بھارتی حکومت اپنے عوام سے فی الواقع مخلص ہے تو اسے چاہیے کہ کشمیر ، دریائی پانیوں ، سرکریک سیاچن اور دہشتگردی کے موضوعات پر فوری طور پر بامقصد اور جامع مذاکرات کرے اور مسائل کو سردخانے میں ڈالنے کی بجائے انہیں حل کرنے کی کوشش کرے کہ قیام امن کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی فارمولا ہو ہی نہیں سکتا۔

مزید : کالم