اپنے والد سیّد علمدار حسین گیلانی کی یاد میں!

اپنے والد سیّد علمدار حسین گیلانی کی یاد میں!
اپنے والد سیّد علمدار حسین گیلانی کی یاد میں!
کیپشن:   syed yousaf سورس:   

  

اپنے والدِ محترم سیّد علمدار حسین گیلانی کی زندگی پر جب قلم اٹھاتا ہوں تو ذہن میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں کہ میرے والد مرحوم نے کتنے ناساز حالات میں پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے کام کیے۔ ان کی یادوں کا سلسلہ میرے نگارخانے میں یوں سجا ہوا ہے جیسے کسی بچے کے کمرے میں رنگ برنگے کھلونے سجے ہوتے ہیں۔ کبھی مَیں تصورات میں خود کو ان کی گود میں پاتا ہوں تو کبھی یوں لگتا ہے جیسے مَیں ان کی انگلی تھام کے عید کی نماز پڑھنے جا رہا ہوں۔ زمانے کے حوادث اپنی جگہ پر ہیں لیکن آج بھی مَیں جب کبھی سکون کا متلاشی ہوتا ہوں تو اپنے والدین کی قبروں پر جا کر ہاتھ بلند کر لیتا ہوں کہ مَیں آج جو کچھ بھی ہوں انہی کی دُعا¶ں کی بدولت ہوں۔

میرے والد 12دسمبر 1919ءبمطابق آٹھ محرم الحرام اپنے آبائی گھر واقع پاک دروازہ ملتان میں پیدا ہوئے۔ پیدائش کے وقت اُن کا نام سیّد ابوالحسن شاہ رکھا گیا۔ لیکن آٹھ محرم الحرام کی نسبت سے بعد میں علمدار حسین رکھ دیا گیا اور یہی نام معروف ہوا۔ والد نے ابتدائی تعلیم ملتان اور مظفرگڑھ میں حاصل کی کیونکہ دادا اُن دنوں سَب ڈویژنل مجسٹریٹ علی پور، مظفرگڑھ تعینات تھے۔ نوابزادہ نصراﷲ خان والد کے کلاس فیلو تھے۔ والد نے 1941ءمیں ایمرسن کالج ملتان سے بی۔اے کا امتحان پاس کیا۔ وہ خاندان کے دوسرے فرد تھے جنہوں نے بی۔اے تک تعلیم حاصل کی۔

والد نے اپنے زمانہ¿ طالب علمی ہی سے سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا اور مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ جب وہ ایف۔اے کے طالب علم تھے تو انہوں نے اپنے بزرگ سیّد زین العابدین شاہ اور مسلم لیگ ضلع ملتان کے صدر چچا مخدوم غلام نبی شاہ کے ساتھ مل کر مسلم لیگ کے لئے کام کیا۔

ایک مرتبہ پردادا پیر صدرالدین شاہ گیلانی 1946ءمیں چچا سیّد رحمت حسین کی منگنی کے سلسلے میں مخدوم الملک سیّد غلام میراں شاہ گیلانی کے ہاں جمال الدین والی، ضلع رحیم یار خان گئے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو مخدوم الملک نے خواہش ظاہر کی کہ ان کی والدہ اور دو بیٹیوں سے بیعت لیں۔ اس طرح یہ خواتین کے ہاتھ پر بیعت ہوئیں اور بعد میں اُن کی بیٹیوں میں سے ایک کی شادی 1948ءمیں میرے والد اور دوسری کی شادی اُسی روز چچا رحمت حسین سے ہوئی، یوں اُن کی یہ دونوں بیٹیاں میری والدہ اور خالہ بنیں۔ اُن کی تیسری بیٹی اُس وقت نو عمر تھیں۔ بعد میں اُن کی شادی پیر صاحب پگاڑو سے ہوئی۔ والدہ کو شادی کے بعد آبائی گھر واقع پاک دروازہ میں لایا گیا۔ بڑی پھوپھی (جو بڑی بی بی کے نام سے موسوم تھیں، زُہد و تقویٰ اور پرہیزگاری میں اتنی مشہور تھیں کہ ملتان میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جس نے ان سے فیض نہ پایا ہو، ساتھ ہی وہ صاحبِ ثروت بھی تھیں) نے والد اور چچا رحمت حسین کو قائل کیا کہ آپ دونوں کی دُلہنیں بڑے گھرانوں سے ہیں اور انہوں نے محلات میں پرورش پائی ہے لہٰذا انہیں الجیلان روڈ پر واقع گھر ’الجیلان‘ لے جائیں اور وہیں رہائش پذیر ہوں۔ یہ گھر آدھ مربع رقبہ پر محیط پھوپھی کی اپنی ملکیت تھا۔ سو، والد اور چچا رحمت حسین اس گھر میں منتقل ہو گئے۔ تایا ولایت حسین پہلے ہی اُس گھر کے قریب رہائش پذیر تھے جو نئے ڈیزائن کے مطابق تعمیر ہوا تھا اور جس میں ایک تہہ خانہ تھا جو ان دنوں ایک جدت تھی۔

والد اس گھر ’الجیلان‘ کو خوش بختی اور ملتان کی سیاست کا محور سمجھتے تھے کہ اس گھر میں گورنر جنرل غلام محمد، خواجہ ناظم الدین، وزرائے اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی، آئی آئی چندریگر اور ملک فیروز خان نون کے علاوہ محترمہ فاطمہ جناح اور سردار عبدالرب نشتر اور راجہ غضنفر علی جیسی نامور شخصیات تشریف لا چکی تھیں۔ علاوہ ازیں پیر صاحب اجمیر شریف بھی اس گھر میں تشریف لا چکے تھے۔

1951ءکے عام انتخابات میں والد کے نامزد اُمیدواروں کو مسلم لیگ کے ٹکٹ دیئے گئے۔ ان انتخابات کے سلسلے میں مسلم لیگ کا کنونشن ہمارے گھر ’الجیلان‘ ملتان میں ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم پاکستان اور صدر مسلم لیگ نوابزادہ لیاقت علی خان نے کی۔ جلسے کے دوران وزیراعظم نے والد، تایا ولایت حسین اور چچا رحمت حسین کے ہاتھ تھام کر کہا:

"They are the backbone of the Muslim League"

ترجمہ: یہ مسلم لیگ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

میرے والد نے کئی خاندانوں کے ساتھ روایتی تعلقات کو رشتوں میں بھی بدل گیا۔ اُن کی ایک بھتیجی کی شادی سجادہ نشین درگاہ اُچ شریف مخدوم سیّد شمس الدین گیلانی کے بڑے بیٹے سیّد مختار حسین گیلانی اور دوسری بھتیجی کی شادی دربار حجرہ شاہ مقیم اُوکاڑہ کے گدی نشین پیر سیّد اعجاز علی شاہ گیلانی سے کروائی۔ میری اور میری بہن کی شادی سجادہ نشیں دربار پیر قطبیہ سندیلیانوالی پیر محل پیر سیّد اسرار حسین شاہ بخاری کی بیٹی اور بیٹے سے کروائی۔ میری بڑی بہن کی شادی اپنے بھتیجے سیّد وجاہت حسین سے کروائی جو بعد میں دربار پیر پیراں سیّد موسیٰ پاک شہید کے سجادہ نشیں بنے۔

والد کا قول تھا کہ اگر کسی شخص کے ہاتھ میں شفا ہونے کے باوجود وہ کسی دوسرے شخص کو فیض یاب نہیں کرتا تو ایسا شخص خود بدنصیب ہے۔ والد کی یادداشت کمال کی تھی۔ اُنہیں ہزاروں لوگوں کے نام زبانی یاد تھے اور جب کبھی کسی تقریب میں لوگوں کو مدعو کرنا ہوتا تو بہت ہی کم وقت میں اپنی یادداشت سے لوگوں کے نام تحریر کروا دیتے تھے۔

والد نے اپنے وزیر بننے کا واقعہ یوں سنایا کہ ایک مرتبہ مَیں وزیراعلیٰ پنجاب فیروز خان نون سے ملنے اُن کے گھر گیا کہ تمہارے نانا مخدوم الملک سیّد غلام میراں شاہ سے اچانک ملاقات ہو گئی۔ مَیں نے اُن سے دریافت کیا کہ آپ کیسے تشریف لائے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ مَیں سردار محمد خان لغاری (سردار فاروق احمد خان لغاری کے والد) کو صوبائی وزیر بنوانے آیا ہوں۔ مجھے یہ سن کر افسوس ہوا کہ انہیں لغاری صاحب کے علاوہ میری بھی سفارش کرنی چاہیے تھی۔ جب میری ملاقات نون صاحب سے ہوئی تو انہوں نے کہا کہ تم وزیر اعلیٰ پنجاب ہو اور مجھے اپنی کابینہ بنا کر دو۔ مَیں نے کہا کہ مَیں وزیراعلیٰ نہیں ہوں، آپ ہی ہیں اور یہ استحقاق بھی آپ ہی کا ہے۔ مگر وہ بضد تھے کہ کابینہ مجھے ہی بنانی ہے۔ مَیں نے کابینہ کے لئے پانچ نام تجویز کیے جن میں سردار محمد خان لغاری، رانا عبدالحمید، مظفر علی قزلباش، علی اکبر خان اور شیخ مسعود صادق کے نام شامل تھے مگر جب کابینہ کا اعلان ہوا تو ایک نام کا اضافہ تھا اور وہ نام میرا تھا۔

والد نے 1953ءمیں فیروز خان نون کی کابینہ میں بطور وزیر صحت و بلدیات حلف اٹھایا۔ وزارتِ بلدیات عوام کے ساتھ رابطے اور مقامی سطح کے کام کروانے کے نقطہ نظر سے اہم ہے۔ والد نے وزیر صحت کی حیثیت سے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کئی اضلاع میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال (ڈی ایچ کیو) بنوائے جن میں ملتان، میانوالی، مظفرگڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے ہسپتال قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ نشتر ہسپتال و میڈیکل کالج ملتان کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ میو ہسپتال لاہور اور ساملی سینی ٹوریم (ٹی بی ہسپتال) مری کی توسیع بھی ان ہی کے دور میں ہوئی۔

اس دور میں ڈاکٹروں کی بے حد کمی تھی اور دیہی علاقوں میں طبی سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اس اہم انسانی مسئلے کے فوری حل کے لئے والد نے وکٹوریہ ہسپتال، بہاولپور میں ایل ایس ایم ایف میڈیکل سکول کی بنیاد رکھی۔ میٹرک کے بعد اس سکول میں تین برس کا میڈیکل کورس کروایا جاتا تھا جس کے بعد دو برس تک دیہی علاقے میں خدمات انجام دینے کی لازمی شرط پوری کرنے پر متعلقہ اُمیدوار ایم بی بی ایس کے امتحان دینے کا اہل قرار پاتا تھا۔ ماموں سیّد حسن محمود اس دور میں بہاولپور ریاست کے وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے اس نیک کام کے لئے بنیادی ضروریات بہم پہنچائیں اور یوں ایک دردمند دل کی انقلابی سوچ نے نہ صرف دیہی علاقوں میں طبی سہولیات مہیا کر دیں بلکہ ملک میں ڈاکٹروں کی شدید کمی دور کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ملک میں اس سکیم کے تحت سینکڑوں ڈاکٹروں نے اپنی اعلیٰ قابلیت اور خدمات کی بدولت بڑا نام کمایا۔ والد نے اپنے دورِ اقتدار میں عوام الناس کو روزگار فراہم کرنے کے لئے بھی دوڑ دھوپ کی۔ بطور وزیرِ صحت انہوں نے ایم بی بی ایس میں غریب لوگوں کے بچوں کو بھی داخلہ دلوا کر ڈاکٹر بنوایا کیونکہ اس وقت میڈیکل کالج کی نامزدگی گورنر نہیں بلکہ وزیرِ صحت خود کیا کرتا تھا۔

1953ءمیں والد کے پارلیمانی سیکرٹری چوہدری فضل الٰہی تھے جو بعد میں صدرِ پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سردار عطا محمد خان لغاری محکمے کے سیکرٹری تھے جو بعد میں رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) منتخب ہوئے۔ والد کو اس حیثیت سے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ صوبائی وزیر صحت و بلدیات بننے پر 1954ءمیں انہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد پہلی مرتبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروائے۔ انہوں نے کوشش کی کہ ہر ضلع میں ایک لائبریری ہو تاکہ عوام کی کتابوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ اس سلسلے میں قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان میں ایک وسیع میونسپل لائبریری کا افتتاح کیا جو ملتان کے لئے ایک عظیم علمی خزانہ ہے۔ والد کچھ عرصہ امپروومنٹ ٹرسٹ (موجودہ وزارتِ ہا¶سنگ) کے صوبائی وزیر بھی رہے۔ اس وقت انہوں نے گلبرگ، لاہور اور مری کو ترقی دلانے کے لئے خصوصی طور پر دلچسپی لی جس کی وجہ سے پورے ملک سے لوگوں نے سرمایہ کاری کی اور کچھ ہی عرصے میں وہ سب سے زیادہ پُر رونق آبادیاں بن گئیں۔

میرے والد نے اپنے بھائیوں کے ساتھ ملک کر ’انجمن اسلامیہ‘ ملتان کے لئے بھرپور کام کیا۔ جس کے تحت ان کی زندگی ہی میں کئی سکولوں اور کالجوں کا قیام عمل میں آیا۔ انجمنِ اسلامیہ کی چند تعلیمی یادگاریں گیلانی لاءکالج، ولایت حسین اسلامیہ کالج، علمدار حسین کالج، غلام مصطفی شاہ گرلز کالج، شوکت حسین کے جی سکول، اسلامیہ ہائی سکول حرم گیٹ، اسلامیہ ہائی سکول عام خاص باغ، اسلامیہ ہائی سکول دولت گیٹ اور رضا شاہ پبلک سکول ہیں۔

والد کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ 1956ءکا آئین بنانے والوں میں شامل تھے۔ آئین کی اہمیت اور تقدس کو اُن سے بہتر کون جان سکتا ہے جنہوں نے قیامِ پاکستان کے لئے اَن گنت قربانیاں دی ہوں۔ آئین پاس ہونے پر انہوں نے تمام اراکین کے ساتھ بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے ننگے پا¶ں اُن کے مزار پر حاضری دی۔ اُن کے اس عمل میں قوم کے لئے پیغام تھا کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں سے محبت اور اُن کا ادب و احترام اُن کی زندگی اور بعد از زندگی برقرار رکھتی ہیں۔ دنیا کی مشہور سوانح عمری "The World's Who's Who 1954-55 Edition" میں بھی اُن کا نام شامل ہوا۔

اکتوبر 1958ءمیں جنرل ایوب خان نے ملک میں پہلا مارشل لاءنافذ کیا اور 1956ءکا آئین معطل کر دیا۔ ’تحریک پاکستان‘ کے کارکنوں اور چوٹی کے سیاستدانوں کو اَیبڈو کے ذریعے نااہل کر دیا گیا۔ اس بدنامِ زمانہ قانون کی زد میں آنے والوں میں حسین شہید سہروردی، خواجہ ناظم الدین، آئی آئی چندریگر، فیروز خان نون، خان عبدالقیوم خان، میاں ممتاز دولتانہ، محمد خان لغاری، کرنل (ر) عابد حسین، سیّد حسن محمود، ایوب کھوڑو، پیر الٰہی بخش، جی ایم سیّد، قاضی علی اکبر، قاضی عیسیٰ اور کئی دیگر رہنما¶ں کے علاوہ میرے والد بھی شامل تھے۔ ایوب خان نے اَیبڈو کے ذریعے بیک جنبشِ قلم سب کو بد دیانتی کے بلا ثبوت الزام کے تحت نااہل قرار دے دیا اور یوں سیاست کے میدان میں صفِ اوّل کے رہنما¶ں کو پیچھے دھکیل دیئے جانے سے ایسا خلا پیدا ہوا جس نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ یہ قانون سات سال تک نافذ رہا۔

مَیں نے ہمیشہ والد کو اپنے بھائیوں کے ہمراہ عیدمیلاد النبی کے مرکزی جلوس، دس محرم الحرام اور ہر جمعرات کو دربار حضرت پیر پیراں موسیٰ پاک شہیدؒ پر حاضری دیتے دیکھا۔ وہ جمعرات کو بڑی ہمشیرہ کے پاس جاتے اور رات کا کھانا خاندان کے افراد کے ساتھ ملک کر کھاتے، یہیں پر خاندان کے اکثر معاملات اور مسائل پر گفتگو ہوتی۔ یہ سلسلہ خاندان میں اتفاق قائم رکھنے کا موجب تھا۔

والد کو لاہور بہت پسند تھا۔ وہ جب بھی لاہور جاتے تو داتا دربار حاضری ضرور دیتے تھے۔ کبھی کبھار دربار میاں میرؒ پر بھی حاضری کے لئے جاتے تھے۔ کئی مرتبہ مَیں بھی ان کے ہمراہ گیا۔ وہاں پر میری ممانی رضیہ حسن محمود کا مزار بھی ہے۔ ممانی رشتہ میں فاروق لغاری کی پھوپھی اور سابق وفاقی وزیر بیگم عفیفہ ممدوٹ کی ہمشیرہ تھیں۔ مجھے زمانہ¿ طالب علمی ہی سے والد لاہور کے اپنے چیدہ احباب سے روشناس کرواتے رہے جن میں صاحبزادی محمودہ بیگم، ملک محمد اختر، چوہدری یوسف علی اور سیّد شبیر شاہ (ایم این اے میجر (ر) تنویر حسن سیّد کے والد) قابلِ ذکر ہیں۔

والد ہمیشہ تین رمضان المبارک کو اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کرتے اور کہتے کہ یہ بی بی فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی ولادت کا دن ہے۔ اُس دن اپنے دوستوں کو مدعو کرتے اور اُن کی خوب تواضع کرتے تھے۔ زندگی بھر انہوں نے اس روایت کو نہایت محبت و شوق سے نبھایا۔ اتفاق ہے کہ وہ اسی دن یعنی تین رمضان المبارک مورخہ 9 اگست 1978ءکو نشتر ہسپتال، ملتان میں انتقال کر گئے۔ اِنّا لِلّٰہِ و اِنّا اِلَی±ہِ رَاجِعُون۔

والد باقاعدگی سے ڈائری لکھا کرتے تھے۔ اپنی وفات سے ایک روز قبل انہوں نے ڈائری میں یہ شعر لکھا:

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن

یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

آج ان کو ہم سے بچھڑے چار عشروں سے زیادہ ہو گئے لیکن مجھے یوں لگتا ہے جیسے اُن کی دُعا¶ں کا حصار میرے اردگرد ہے۔ کاش ان کی اورقوم کی دُعائیں رنگ لائیں اور میرا علی حیدر گیلانی بخیریت واپس آجائے اور میرا گھر پھر سے سکون کا گہوارہ بن جائے۔ ٭

مزید :

کالم -