ایڈز کے خلاف سائنسدانوں کو کامیابی مل گئی ، لیکن خبر ایسے ملک سے آئی جس کا کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا

ایڈز کے خلاف سائنسدانوں کو کامیابی مل گئی ، لیکن خبر ایسے ملک سے آئی جس کا ...
ایڈز کے خلاف سائنسدانوں کو کامیابی مل گئی ، لیکن خبر ایسے ملک سے آئی جس کا کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا

  

ہوانا(مانیٹرنگ ڈیسک) ایڈز جیسے مہلک مرض کی روک تھام میں کیوبا نے منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا۔ کیوبا دنیا کا وہ واحد ملک بن گیا ہے جس میں پیدا ہونے والے بچے میں ماں سے ایڈز کے جراثیم کی منتقلی کی شرح تقریباًصفر ہو گئی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کیوبا کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوامی صحت کے حوالے سے ممکنہ کامیابیوں میں سب سے بڑی کامیابی ہے اور اس سے ایڈز سے پاک نئی نسل کے حصول کا خواب شرمندہ¿ تعبیر ہو گا۔آرگنائزیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ کیوبانے ماں سے بچے میں ایڈز کی منتقلی کو اس حد تک ختم کر دیا ہے کہ اب یہ عوامی صحت کے لیے کوئی مسئلہ نہیں رہا۔

یو این ایڈزکے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیکل سیڈیبے کا کہنا ہے کہ جہاں یہ کیوبا کے عوام کے لیے خوش آئند ہے وہیں دنیابھر میں پیدا ہونے والے بچوں اور خاندانوں کے لیے بھی خوش آئند ہے کیونکہ اس سے باقی دنیا کو بھی امید بندھی ہے کہ ان کی نسلیں بھی ایڈز سے پاک ہو سکتی ہیں۔کیوبا کی اس کامیابی سے امید کی کرن روشن ہوئی ہے کہ موروثی بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہے۔

واضح رہے کہ کیوبا میں 2013ءمیں صرف 2بچوں میں ایڈز اور5بچوں میں دیگر موروثی بیماریوں کے جراثیم ماں کی طرف سے منتقل ہوئے تھے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے اپنے وفود بھیجے گئے تھے تاکہ کیوبا کے دعوے کی تصدیق کی جا سکے۔ وفود نے تصدیق کی کہ 2014ءمیں کیوبا میں کوئی بھی بچہ ایسا پیدا نہیں ہوا جس میں ماں کی طرف سے ایڈز یا دیگر موروثی بیماریوں کے جراثیم منتقل ہوئے ہوں۔

مزید :

تعلیم و صحت -