بھارتی سیاستدان کے بیٹے کی شادی، تقریب سے ایک دن پہلے دلہن نے انکار کردیا تو ایک ایسی لڑکی کو دلہن بنادیا گیا کہ حقیقت سامنے آنے پر ملک میں ہنگامہ برپاہوگیا

بھارتی سیاستدان کے بیٹے کی شادی، تقریب سے ایک دن پہلے دلہن نے انکار کردیا تو ...
بھارتی سیاستدان کے بیٹے کی شادی، تقریب سے ایک دن پہلے دلہن نے انکار کردیا تو ایک ایسی لڑکی کو دلہن بنادیا گیا کہ حقیقت سامنے آنے پر ملک میں ہنگامہ برپاہوگیا

  


نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی درندگی کرنے والے مجرموں کا ہاتھ کون روک سکتا ہے کہ جب ملک کی حکمران جماعت کے اہم ترین رہنما کا بیٹا ہی پے در پے نوعمر لڑکیوں کی عزت سے کھیل رہا ہے اور کوئی اسے پوچھنے والا نہیں۔

سعودی ارب پتی معروف ماڈل سے شادی کرکے پھنس گیا، طلاق کیلئے خاتون نے کمرہ عدالت میں کیا چیز مانگ لی؟ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریاست جھاڑ کھنڈ میں بی جے پی کے سربراہ تالا مرانڈی کے بیٹے منا مرانڈی کے خلاف ابھی ایک ہفتہ قبل ایک نوعمر لڑکی نے شادی کا جھانسہ دے کر عصمت دری کرنے کا الزام لگایا، اور اس کے محض تین دن بعد اس شخص نے چھٹی جماعت کی ایک طالبہ سے شادی رچالی۔ رپورٹ کے مطابق شادی کے نام پر یہ جرم 27جون کو کیا گیا اور اس تقریب میں ریاست کے وزیراعلیٰ کی شرکت بھی طے تھی لیکن عین آخری وقت پر انہوں نے معاملہ گڑبڑ دیکھتے ہوئے اپنی شرکت منسوخ کردی۔

ایک مقامی ہیومن رائٹس این جی او نے انکشاف کیا ہے کہ منا مرانڈی کی شادی کسی اور لڑکی سے طے تھی لیکن جب ایک 16 سالہ لڑکی نے ان پر جنسی استحصال کے الزامات عائد کئے تو ہونے والی دلہن نے شادی سے ایک دن قبل انکار کر دیا، جس کے بعد منامرانڈی نے چھٹی جماعت کی طالبہ کو اپنی دلہن بنا لیا ، جس کی عمر 11 سال بتائی گئی ہے۔

جب تالا مرانڈی سے اس شرمناک واقعے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ لڑکی کی صحیح عمر کے بارے میں اس کی ماں بہتر طور پر بتاسکتی ہے۔ ریاستی اسمبلی میں موجود اپوزیشن رہنماﺅں نے تالا مرانڈی اور ان کے بیٹے کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ نہ کوئی کارروائی ہورہی ہے اور نہ ہی بی جے پی کا کوئی رہنما اس موضوع پر لب کشائی کررہے ہیں، گویا سب اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی جرم ہوا ہی نہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس