وہ امریکی نوجوان جس نے شام جاکر داعش میں شمولیت اختیار کرلی لیکن پھر چند ماہ بعد ہی امریکی حکام کو ای میل بھیج کر ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

وہ امریکی نوجوان جس نے شام جاکر داعش میں شمولیت اختیار کرلی لیکن پھر چند ماہ ...
وہ امریکی نوجوان جس نے شام جاکر داعش میں شمولیت اختیار کرلی لیکن پھر چند ماہ بعد ہی امریکی حکام کو ای میل بھیج کر ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

  


واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) شام و عراق میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم داعش کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر مغربی ممالک کے ہزاروں نوجوان بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں جن میں ایک موہیمانول عالم بھوئیا (Mohimanul Alam Bhuiya)بھی ہے۔ عالم نے شام جا کر داعش میں شامل ہونے کے چند ماہ بعد ہی امریکی ادارے ایف بی آئی کو ایک ایسی ای میل بھیج دی کہ جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق عالم نے ایف بی آئی کو لکھا کہ ”میں اس برائی (داعش)سے تنگ آ چکا ہوں، میں ایک امریکی ہوں جو شام سے واپس امریکہ جانا چاہتا ہوں۔ میں اپنی زندگی کو اسی طرح اپنے خاندان کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔ اس وقت میری ایک ہی خواہش ہے کہ میں کسی بھی طرح امریکہ واپس پہنچ جاﺅں۔ پلیز یہاں سے نکلنے میں میری مدد کریں۔“

مسجد میں نماز شروع ہونے سے پہلے زوردار دھماکہ، بھگدڑ مچ گئی، دراصل دھماکہ کس چیز کا تھا؟ ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ کسی نمازی نے وہم وگمان میں بھی نہ سوچا تھا

رپورٹ کے مطابق عالم کولمبیا یونیورسٹی سکول آف جنرل سٹڈیز کا فارغ التحصیل اور نیویارک کے علاقے بروکلین کا رہائشی تھاجو امریکہ سے فرار ہو کر ترکی پہنچا اور وہاں سے شام چلا گیا۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اپنے تعلیمی دور میں وہ البرٹ آئن سٹائن سے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ اور ونسٹن چرچل سے فرینک سینیٹرا، ہر عظیم آدمی کی تعریف کرتا تھا اور اپنے اساتذہ سے اکثر کہتا تھا کہ میں سپرہیرو بننا چاہتا ہوں۔ جون 2014ءمیں ایف بی آئی کو اس کے متعلق اطلاع ملی تھی کہ وہ شام جا کر داعش میں شامل ہونا چاہتا ہے۔

اس پر ایف بی آئی نے اس سے پوچھ گچھ بھی کی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ ”میں داعش سے متاثر ہوں مگر شام جانے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد وہ کسی طرح ترکی پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور وہاں سے شام چلا گیا۔ شام پہنچ کر اس نے داعش کے شدت پسندوں سے درخواست کی تھی کہ میں ان کے ساتھ شامل ہونا چاہتا ہوں لیکن مجھے کبھی اگلے مورچوں پر لڑنے کے لیے نہ بھیجا جائے۔“

مزید : بین الاقوامی