پابندی ختم، خواجہ سرا امریکی فوج میں خدما ت سرانجام دے سکیں گے

پابندی ختم، خواجہ سرا امریکی فوج میں خدما ت سرانجام دے سکیں گے

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک )پینٹا گون نے خواجہ سراؤں کی فوج میں شمولیت پر پابندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں شناخت کے ساتھ ملازمت اختیار کرنے کی اجازت دے دی۔امریکی وزیردفاع ایش کارٹر کا کہنا تھا کہ یہ ہماری فوج کا ایک مثبت قدم ہے۔وہ امریکی جو ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے معیار پر پورا اترتے ہیں وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ کسی کو بھی نہ نکالا جائے اور نہ ہی جنسی شناخت کی بنا پر بھرتی سے انکار کیا جائے گا۔وزیر دفاع ایش کارٹر نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ہمارا مشن ملک کا دفاع کرنا ہے اور ہم کسی شخص کی فوج میں نوکری کرنے کی قابلیت کے بارے میں غیر متعلقہ رکاو191ٹیں نہیں چاہتے،جس میں وہ فوجی، ملاح، ایئر مین یا میرین بھرتی ہو سکتا ہے اور بہترین طریقے سے مشن کو پورا کر سکتا ہے۔‘فاکس نیوز کے مطابق نئی پالیسی کے تحت یکم اکتوبر سے ایسے اہلکار جو خواجہ سرا ہیں اور پہلے سے ہی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اب سروس کے دوران اپنی شناخت ظاہر کر سکیں گے اور ان کے لیے دستیاب طبی سہولیات کا معیار طے کیا جائے گا۔امریکی وزیر دفاع کے مطابق یہ پالیسی اصولوں کا معاملہ ہے اور اس سے پہلے انھوں نے ملازمت کرنے والے خواجہ سراوں سے ایک سال تک مشاورت کی اور ان سے بات چیت کی کہ ان کی ضروریات کو کس طرح بہتر انداز میں پورا کیا جا سکتا ہے۔وزیر دفاع کے مطابق پالیسی سے پہلے انھو ں نے برطانیہ، اسرائیل اور آسٹریلیا کی پالسیوں کو دیکھا جہاں پر خواجہ سرا اپنی شناخت کے ساتھ ملازمت کر سکتے ہیں۔دوسری جانب امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا جا رہا ہے اس بارے میں ابھی مزید مشاورت کی ضرورت ہے

مزید : صفحہ اول