مریم نواز کے پروٹوکول میں شامل پولیس اہلکاروں نے بدتمیزی کی ، ہراساں کیا ، عمران خان کی ہمشیرہ کا الزام

مریم نواز کے پروٹوکول میں شامل پولیس اہلکاروں نے بدتمیزی کی ، ہراساں کیا ، ...

لاہور (نمائندہ خصوصی +کرائم رپورٹر ،اپنے کرائم رپورٹر سے) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ کو گلبرگ 3 کے علاقے میں پولیس اہلکاروں نے ہراساں کیا اور بدتمیزی کی۔ڈاکٹر عظمیٰ نے کہا ہے کہ پولیس اہلکار اور موبائل مریم نواز شریف کے پروٹوکول کی تھیں اور مریم نواز نے مجھے دیکھا بھی تھا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمیٰ بتایا کہ وہ گلبرگ 3 کے علاقے سے گزر رہی تھیں کہ اس دوران ایک کار نے ان کی گاڑی کو سائیڈ پرکیا اور دوسری نے سامنے سے زوردار ٹکر ماری۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد جب میں گاڑی سے باہر نکلی تو پولیس موبائل سے مسلح افراد باہر نکلے اور انہیں ہراساں کرنا شروع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے تو صرف اتنا ہی کہا گیا کہ وی وی آئی پی موومنٹ ہو رہی ہے گاڑی روک لیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب میں نے خود سے پتہ کرانے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ کسی اہم شخصیت کے پروٹول کیساتھ ہیں اور بعدازاں یہ پتہ چلا کہ وہ اہم شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ مریم نواز شریف ہیں۔ڈاکٹر عظمیٰ نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نوازشریف کی بیٹی مریم نواز شریف کار میں بیٹھی تھیں اور انہوں نے مجھے دیکھا بھی، آج سے پہلے دوسروں کیساتھ اس طرح کے واقعات ہوتے تھے لیکن آج جب خود کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہے تو معلوم ہوا ہے کہ یہ کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔

عمران خان کی ہمشیرہ

لاہو ر ( نمائندہ خصوصی+کرائم رپورٹر ،اپنے کرائم رپورٹر سے) مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ عمران خان کی بہن سے ہمدردی ہے جس وقت واقعے کی خبر ملی تو اسلام آباد میں تھی اور ساڑھے چار بجے لاہور آئی۔ ان کا مزید کہنا تھا جھوٹ بولنے والے رمضان میں تو شرم کریں۔ نجی ٹی وی کے مطا بق عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ سے بدسلوکی سابق صدر آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کے گارڈز نے کی۔ آصف زرداری کی بہن فریال تالپور ظہور الہٰی روڈ پر دوپہر کو چودھری عاصم کے گھر تعزیت کے لئے گئی تھیں جبکہ بلاول ہاؤس کے ترجمان نے تصدیق کی کہ فریال تالپور بھی اسلام آباد میں ہیں۔ ۔ دوسری جانب ایس پی ماڈل ٹاؤن عمارہ اطہر کا کہنا ہے کہ گلبرگ میں کسی وی آئی پی موومنٹ کی اطلاع نہیں اور کسی نے چوکی فردوس مارکیٹ یا گلبرگ تھانے میں رپورٹ درج نہیں کرائی۔ عمارہ اطہر کا کہنا تھا کہ جہاں واقعہ ہوا وہاں سے سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیج لینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حقائق تک پہنچا جا سکے جبکہ بعض پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پروٹوکول کے جن اہلکاروں نے بدتمیزی کی وہ صدر آزاد کشمیر کے پروٹوکول میں شامل تھے۔ دنیا نیوز کے مطا بق فریال تالپو لاہور میں موجود تھیں۔ بلاول ہاؤس لاہور میں آزاد کشمیر انتخابات کے سلسلے میں مختلف اجلاسوں کی صدارت کی۔ فریال تالپور نے پیپلز پارٹی خواتین کے اجلاس کی بھی صدارت کی اور دوپہر 12 بجے بلاول ہاؤس سے عاصم گجر کے گھر روانہ ہوئیں۔ عاصم گجر سے انکی والدہ کی وفات پر تعزیت کی اور پھر اسلام آباد چلی گئیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے رہنما عاصم گجر نے معاملے کو نیا رخ دیدیا۔ کہتے ہیں صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب تعزیت کیلئے آئے اور اسکواڈ نے چند گاڑیاں روکیں۔ ڈاکٹر عظمیٰ چیختی چلاتی گھر آئیں اور کہا انہیں ہراساں کیا گیا جس پر انہوں نے معذرت کی۔ دوسری جانب ترجمان زرداری ہاؤس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور اسلام آباد میں موجود ہیں۔ اسلام آباد میں اوورسیز آزاد کشمیر کے افطار میں شریک ہوئیں۔ میڈیا میں فریال تالپور کے اسکواڈ کی گاڑی کی لاہور موجودگی کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔

مریم نواز

مزید : صفحہ اول