ہر کوئی وی آئی پی کلچر کا دلدادہ ، ہٹو بچو کی صدائیں سب کو خوش آتی ہیں

ہر کوئی وی آئی پی کلچر کا دلدادہ ، ہٹو بچو کی صدائیں سب کو خوش آتی ہیں

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

 یہ پروٹوکول کلچر ہمارے لئے عذاب بن چکاہے لیکن ہمارا کوئی بھی وی آئی پی اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتا، جسے پروٹوکول مل رہا ہے وہ اس کے نشے میں ہے، جسے نہیں مل رہا ہے اس کی خواہش ہے کہ وہ بھی ہٹو بچو کی صدا میں سفر کرے، یہ کوئی برطانیہ تو نہیں جس کی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر اپنے گھر کا سودا سلف خریدنے خود بازار چلی جاتی تھیں اور لوگوں میں گھل مل جاتی تھیں۔ جس ملک کا وزیراعظم پرانی وضع کے ایک فلیٹ نما گھر میں رہتا ہے اور اس کے دل میں کبھی یہ خواہش پرورش نہیں پاتی کہ وہ تین چار سو کنال کے گھر میں رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے سویڈن کے دورے پر گئے، وزیراعظم اولف پالمے سے ان کی ملاقات طے تھی جنہیں آنے میں تھوڑی سی تاخیر ہوئی تو انہوں نے آتے ہی معذرت کی کہ تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ وہ ٹریفک جام میں پھنس گئے تھے۔ فرانس کے وزیراعظم کو پیرس شہر کے اکثر ٹیکسی ڈرائیور بخوبی جانتے ہیں کیونکہ وہ ٹیکسی میں سفر کرتے اور انڈر گراؤنڈ میٹرو ٹرین میں بھی بیٹھ جاتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں جس قسم کا وی آئی پی کلچر مروج ہے کوئی اس سے ناخوش ہو یا خوش، لیکن یہ ہمارے ہاں کی مستحکم روایت ہے۔ عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ کی گاڑی کو پروٹوکول کی گاڑی نے ٹکر مار دی تو انہوں نے فوری طور پر معلوم کرلیا کہ ہو نہ ہو یہ گاڑیاں مریم نواز کو پروٹوکول دے رہی تھیں، انہوں نے ایک گاڑی میں مریم نواز کو بیٹھے ہوئے دیکھ بھی لیا چنانچہ انہوں نے پروٹوکول عملے کی بدتمیزی (اگر واقعی کوئی بدتمیزی ہوئی تھی) کا غصہ حکمرانوں اور مریم نواز پر نکال دیا جبکہ بعد میں ٹویٹ سے معلوم ہوا کہ اس وقت مریم نواز تو لاہور میں تھیں ہی نہیں، لیکن فرض کریں یہ گاڑیاں اگر مریم نواز کو پروٹوکول دینے والی تھیں تو بھی اس سے یہ کہاں ثابت ہو جاتا ہے کہ مریم نواز نے انہیں کہا تھا کہ وہ ڈاکٹرعظمیٰ کی گاڑی کو ٹکر مار دیں یا ان سے بدتمیزی کریں۔ محترمہ ڈاکٹر عظمیٰ کا تعلق ایک معزز پیشے سے ہے، وہ مریضوں کی مسیحائی کرتی ہیں، شوکت خانم ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کی رکن ہیں جو کینسر کے مریضوں کی طبی خدمات انجام دے رہا ہے، اس لحاظ سے وہ ہر کسی کیلئے محترم ہیں۔ کسی پروٹوکول والے نے اگر ان سے بدتمیزی کی تو ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس معاملے پر انہوں نے فوراً ہی احتجاج کردیا اور میڈیا پر آکر بتایا کہ یہ پروٹوکول مریم نواز کا تھا۔ جونہی یہ اطلاع عمران خان کو ملی انہوں نے بھی واقعے کی مذمت کردی جو اس وقت کراچی میں تھے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ پروٹوکول مریم نواز کا نہیں تھا، صدر آزاد کشمیر کا تھا جو تعزیت کیلئے عاصم گوجر کے گھر گئے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر عظمیٰ بھی غالباً انہی کے گھر گئی تھیں یا پھر گلبرگ سے گزر رہی تھیں بعد میں عاصم گوجر نے میڈیا کو بتایا کہ ڈاکٹر عظمیٰ کو بتا دیا گیا تھا کہ صدر آزاد کشمیر تعزیت کیلئے آ ئے تھے اور یہ ان کا پروٹوکول تھا۔ عاصم گوجر نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر عظمیٰ کو ان کا بیٹا گاڑی تک چھوڑنے کیلئے گیا۔ اب اس بات سے قطع نظر کہ اصل واقعہ کس طرح ہوا اور اس میں قصور وار کون تھا یا محض غلط فہمی تھی سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس وی آئی پی کلچر سے نجات نہیں پاسکتے؟ میرا خیال ہے کہ ہم اس کی محبت میں گرفتار ہیں، حکمرانوں کو اگر پروٹوکول نہ ملے تو انہیں اپنی حکمرانی ادھوری ادھوری لگتی ہے اور اگر کبھی کوئی چھوٹا یا بڑا حکمران چند کلومیٹر فاصلہ بغیر پروٹوکول کے طے کرلے یا کسی ویگن میں سفر کرلے تو اس کا باقاعدہ الگ سے تذکرہ ہوتا ہے کہ فلاں حکمران نے چلچلاتی دھوپ میں بغیر پروٹوکول کے عام مسافروں کے ساتھ سفر کیا۔ ہمارے اس دور میں ’’خبریت‘‘ کا مفہوم ہی بدل گیا ہے، ایک زمانے میں جو چیز قطعی خبر نہیں ہوتی تھی آج وہ بھی نہ صرف خبر بلکہ ’’بریکنگ نیوز‘‘ ہے، مثلاً وزیراعظم سے ان کے کسی ماتحت کی ملاقات میں کبھی کوئی خبریت نہیں سمجھی گئی لیکن اب اگر خواجہ آصف یا چودھری نثار وزیراعظم سے ملیں تو خبر چھپتی ہے کہ فلاں وزیر نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ اسی طرح بلاول زرداری کی اپنے والد آصف علی زرداری سے اپنے ہی گھر کے اندر دبئی یا لندن میں ملاقات ہوتی ہے تو قارئین یا پھر ناظرین کو بتایا جاتا ہے کہ بلاول اور آصف زرداری کی دبئی میں ملاقات ہوئی ہے۔ خبریت کے یہ بدلے ہوئے پیمانے اور بھی بہت سی شخصیات اور بہت سے واقعات تک پھیل چکے ہیں، کوئی ان سے پوچھے کہ باپ بیٹے کی ملاقات میں خبریت کیا ہے؟ مثلاً کوئی رپورٹر اگر کسی وزیر سے کوئی بات پوچھ لے اور وہ اس کا کوئی جواب نہ دینا چاہے تو وہ عموماً ’’نو کمنٹس‘‘ کے الفاظ کہہ دیتا ہے یہ کسی بات پر تبصرہ نہ کرنے کا مہذب طریقہ ہے لیکن ادھر کچھ عرصے سے رپورٹروں نے یہ طریقہ اختیار کرلیا ہے کہ کسی وی آئی پی سے سوال پوچھتے ہیں جب جواب نہیں ملتا یا ’’نو کمنٹس‘‘ کی صورت میں جواب آتا ہے تو وہ اسے خبر کی صورت دے دیتے ہیں۔ ایک اور صحافتی بدعت آج کل رواج پاگئی ہے کوئی رپورٹر کسی خبر میں مؤقف لینے کیلئے کسی صاحب کو فون کریں اور فون مسلسل بند یا مصروف ملے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا فرض پورا ہوگیا وہ خبر کے آخر میں لکھ کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں کہ ان کا موقف حاصل کرنے کیلئے جب انہیں فون کیا گیا تو وہ مسلسل مصروف ملا، حالانکہ موقف معلوم کرنے کیلئے ایک آدھ دن کیلئے خبر روکی بھی جاسکتی ہے لیکن میڈیا کے حضرات ہر وقت جلدی میں ہوتے ہیں ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ خبر بھلے سے غیر مصدقہ ہی کیوں نہ ہو لیکن جلدی جلدی آن ایئر چلی جائے تو ان کی کارکردگی پر مثبت اثر پڑے گا۔

عمران خان کی جماعت خیبر پختونخوا میں حکمران ہے اور جب وہ صوبے کا دورہ کرتے ہیں تو صوبائی حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کو زیادہ سے زیادہ پروٹوکول دیا جائے، حالانکہ ذاتی طور پر وہ اس کلچر کے خلاف ہیں لیکن اگر بار بار کہنے کے باوجود پروٹوکول ملتا رہے تو وہ اسے زمینی حقیقت سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں۔

وی آئی پی کلچر

مزید : تجزیہ