انٹارکٹکا کے اوپر اوزون کی تہہ میں بہتری

انٹارکٹکا کے اوپر اوزون کی تہہ میں بہتری

لندن(اے پی پی) محققین کا کہنا ہے کہ انھیں پہلی بار انٹارکٹکا کے اوپر اوزون کی کم ہوتی ہوئی تہہ میں بہتری رونما ہونے کے شواہد ملے ہیں ۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانوی سائنس دان پروفیسر سولومن اور ان کے ساتھیوں نے 2000 ء سے 2015 ء کے درمیان کرہ ہوائی میں اوزون کا تفصیلی جائزہ لیا۔ہوائی غباروں، سیٹلائٹس اور دیگر ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس دورانیے میں اوزون کی پتلی ہوتی ہوئی تہہ میں 40 لاکھ مربع کلومیٹر کمی واقع ہوئی ہے۔پروفیسر سولومن نے کہا کہ گرچہ 2000ء کے قریب چین اوربھارت سمیت تمام ممالک میں سی ایف سی گیسوں کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم ابھی بھی ماحول میں بڑی تعداد میں کلورین موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کی زندگی عموماً 50 سے 100 سال تک ہوتی ہے چنانچہ یہ آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے اور اوزون میں بہتری آئے گی۔پروفیسر کا کہنا تھا کہ ہم 2050 ء یا 2060 ء تک اس کی مکمل بحالی کی امید نہیں کر سکتے ہم نے ستمبر میں دیکھا کہ اوزون کا سوراخ اتنا بڑا نہیں ہے جتنا یہ پہلے ہوا کرتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اوزون میں سوراخ کی وجہ آتش فشاں بھی ہیں جن میں لاوا اگلنے کے بعد گندھک کے ذرات پولر سٹراسفیرس کلاؤڈز بناتے ہیں جو اوزون کی تناہی کے لیے سازگار ماحول بناتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر