مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے کروشیا نے بھی سرحدوں پر باڑیں لگا دیں

مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے کروشیا نے بھی سرحدوں پر باڑیں لگا دیں

زیگرب(این این آئی)کروشیا نے ہمسایہ ملک سربیا سے متصل سرحد پر رکاوٹیں نصب کر دی ہیں تاکہ ملک میں غیر قانونی داخلے کو روکا جا سکے۔ گزشتہ برس اسی سرحدی راستے سے ہزاروں مہاجرین کروشیا داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔برطانوی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کروشیائی حکام نے بتایا کہ ہمسایہ ملک سربیا کی سرحدی گزرگاہوں پر خار دار تاریں بچھا دی گئی ہیں تاکہ کوئی غیرقانونی طور پر ان راستوں سے ملک میں داخل نہ ہوسکے۔ایک اندازے کے مطابق گزشتہ برس تقریبا ساڑھے چھ لاکھ مہاجرین اور تارکین وطن سربیا سے کروشیا میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے، جو بعد ازاں یورپی یونین کے شینگن زون کے رکن ممالک کی طرف چلے گئے تھے۔

کروشیا سے گزر کر وسطی اور شمالی یورپی ممالک جانے والے ان مہاجرین کا تعلق شورش زدہ ملکوں اور خطوں سے تھا، جن میں زیادہ تر تعداد شام اور عراق کے باشندوں کی تھی۔اس کے علاوہ افغانستان اور پاکستان کے علاوہ دیگر کئی ممالک کے باشندے بھی انہی راستوں کا استعمال کرتے ہوئے یورپی یونین میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔کروشیا سے قبل اس خطے کے دیگر ممالک بھی اپنی سرحدی گزرگاہوں پر اسی طرح کی رکاوٹیں نصب کر چکے ہیں، جن میں ہنگری اور سلووینیہ بھی شامل ہیں۔رواں برس مارچ میں مہاجرین کے بحران کی شدت کی وجہ سے مقدونیہ، سربیا، کروشیا اور سلووینیہ نے مہاجرین کے لیے اپنی سرحدوں کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔تب سے یہ یورپی یونین پہنچنے کے خواہاں مہاجرین اور تارکین وطن متبادل راستوں کو اختیار کرنے یا انسانوں کے اسمگلروں سے رابطہ کرنے پر مجبور گئے تھے۔

مزید : عالمی منظر