مسجد نبوی میں روزہ داروں کی پیشانی چْومنے والا نوجوان پاپولر ہوگیا

مسجد نبوی میں روزہ داروں کی پیشانی چْومنے والا نوجوان پاپولر ہوگیا

جدہ (این این آئی)مسجد حرام اور مسجد نبوی سمیت حجاز مقدس کی تمام بڑی مساجد میں ماہ صیام کے دوران روزہ داروں کے لیے اجتماعی افطاری کا انتہائی خلوص اور مروت کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے۔ افطاری کی مساعی جمیلہ میں نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور روزہ داروں کی خدمت سے سرشار انہیں ہر سہولت مہیا کرتے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق مسجد نبوی میں ایک ایسے ہی نوجوان کی ویڈیو فوٹیج انٹرنیٹ پر تیزی کے ساتھ مقبول ہو رہی ہے جسے روزہ داروں کی پیشانیوں کو چومتے دکھایا گیا ہے۔ یہ نوجوان کون ہے اور ایسے کیوں کرتا ہے؟ اس سوال کا جواب وہ خود اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہے۔روزرہ داروں کی افطاری میں مدد کرنے اور افطار کے لیے آنے والے روزہ داروں کی پیشانیوں کو چوم کران کی تکریم کرنے والے یہ رضاکار نوجوان محمدابراہیم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں روزہ داروں کی پیشانیوں کو چوم کر دلی اطمینان اور خوشی حاصل کرتا ہوں۔ اس سے میرے دل کو ٹھنڈک ملتی ہے اور قلب سکون اور خوشی محسوس کرتا ہے۔محمد ابراہیم کو مسجد نبوی میں روزہ داروں کی خدمت کی ذمہ داری حرم نبوی کے امام وخطیب الشیخ عبدالمحسن کی جانب سے دی گئی ہے۔ الشیخ عبدالمحسن بھی محمد ابراہیم کے اس منفرد عمل سے بہت متاثر ہیں اور انہوں نے ابراہیم کی جانب سے روزہ داروں کو افطار دستر خوان پر لانے کی ترغیب دینے کے لیے جو طریقہ کار اپنایا ہے وہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔خود محمد ابراہیم سے جب پوچھا گیا کہ روزہ داروں کی پیشانیوں کو بوسہ دینے کا پس منظر کیا ہے تو اس کا کہنا ہے کہ ’صرف دلی خوشی اور اطمینان‘۔ اس کاکہنا ہے کہ مجھے اس چیز سے کوئی غرض نہیں سوشل میڈیا پر میرے بارے میں لوگ کس طرح کے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔ میری توجہ صرف روزہ داروں کو دستر خوان پر لانے، انہیں بٹھانے اور افطاری میں ان کی مدد کرنا ہے۔مسجد نبوی میں روزہ داروں کی افطاری کوئی نہیں بلکہ عشروں پرانی اور خوبصورت روایت ہے۔ مقامی شہری اس روایت کو نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہیں اس میں بڑ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ایک مقامی سرکردہ شخصیت وائل نائل کردی کا کہنا تھا کہ مسجد نبوی اور مدینہ منورہ میں اجتماعی افطار کا اہتمام ہمارے کلچر کا حصہ ہے اور صدیوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے۔ ماہ صیام میں رضاکار نوجوان روزہ داروں اور حج کے ایام میں عازمین حج کی خدمت اور مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف مقامی شہری ہی نہیں بلکہ مدینہ منورہ میں مقیم دوسرے ملکوں کے شہری اور خاندان بھی افطار کے دوران روزہ داروں کی مدد اور ان کی خدمت کو اپنے لیے اجروثواب کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر