قومی تقاضے اور میڈیا کا کردار

قومی تقاضے اور میڈیا کا کردار
 قومی تقاضے اور میڈیا کا کردار

  

گزشتہ ایک ماہ سے وزیراعظم محمد نواز شریف علاج کی غرض سے ملک سے باہر ہیں بائی پاس آپریشن کی وجہ سے اُن کے ڈاکٹرزنے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے اور امید واثق ہے کہ وہ عیدالفطر سے پہلے ہی وطن واپس آجائیں گے۔ وزیراعظم نے آپریشن کے ایک ہفتہ بعد ہی فرائض منصبی ادا کرنا شروع کر دیئے تھے اور وہ باقاعدہ طور پر امور مملکت چلارہے ہیں اور سینئر وزرأ کے ذریعے اُن کی ہدایات پر عمل جاری ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں جب بھی کوئی ایشو بنتا ہے ہمارا میڈیا اُسے ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں ، مفروضے اور بدگمانیاں شروع کر دی جاتی ہیں جو نہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے بلکہ اُن قومی مفادات اور تقاضوں کے بھی برعکس ہے جو عالمی برادری میں پاکستان کے وقار کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ میڈیا نے اپنا ضابطہ اخلاق خود بنایا ہوا ہے اور وہ خود ہی اُس پر عمل نہیں کرتا با رہا پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹس اور وضاحتیں جاری کی جاچکی ہیں۔ میڈیا کی آزادی کا یہ مطلب تو نہیں ہونا چاہیے کہ قومی وقار کو ہی داو پر لگا دیا جائے۔ وزیراعظم پاکستان بیس کروڑ عوام کے منتخب وزیر اعظم ہیں عوام نے انھیں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ وزیراعظم بنایا ہے لیکن پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی طرف سے طر ح طرح کی افواہیں پھیلانا قومی مفاد میں نہیں۔ ملک کے ایک معروف کالم نگار کی طرف سے بھی ایک ایسا ہی کالم نظر سے گزرا جس میں قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر رہنماوں کی کردار کشی کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم ایک مہذب قوم ہیں اور ہر مہذب قوم کے قومی تقاضے بھی ہوتے ہیں لیکن شاید ہم خود کو مہذب تو کہتے ہیں لیکن اُن اقدار سے کوسوں دور ہیں جو مہذب قوموں میں ہیں۔

ہم یکطرفہ تنقید کرتے ہیں اوردوسرے فریق کے اچھے اور مثبت کاموں کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں اور صرف وہی نقاط ڈھونڈتے ہیں جن میں دوسرے فریق کی صرف خامیاں ہی ہوں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے صحافت کا پیشہ ہمیں یہ درس نہیں دیتا ۔ صحافت کا مطلب حقائق سامنے لانا ہے محض تنقید سے صحافت کا مفہوم ختم ہو جاتا ہے۔ میرا مقصد حکومت کی تعریف ہر گز نہیں لیکن قومی مفاد میں ہمیں مثبت صحافت کو فروغ دینا چاہیے اور سچ سامنے لانا چاہیے یکطرفہ رپوٹنگ سے عوام گمراہ ہوتے ہیں اور وہ فریق دوئم میرا مطلب حکومت سے ہے کے اچھے کاموں کو بھی بھول جاتے ہیں۔ معزز کالم نگار کے کالم کے حوالہ سے میں یہاں حکومت کے اچھے کاموں کا ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا ،تاکہ عوام اچھے اور برُے دونوں کا موں میں تمیز کرسکیں۔

پاکستان مسلم لیگ نے ہمیشہ مفاہمت کی پالیسی اپنائی ہے اور کو شش کی ہے کہ معاملات کو اپوزیشن کے ساتھ مل کر افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔ موجودہ حکومت کے تین سالہ دورِ حکومت میں بہت سے نشیب وفراز آئے لیکن اُس نے معاملات کو اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دی ہونا بھی ایسا ہی چاہیے کہ عوام نے جن منتخب نمائندوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا ہے اُن کے ذریعے معاملات حل کئے جائیں۔

جولائی 2013کو چین اور پاکستان نے 46ارب ڈالر کی چین پاکستان اقتصادی راہداری کی منظوری دی ۔ اس منصوبہ کے تحت بحیرہ عرب پر واقع پاکستان کی گوادر بندر گاہ کو چین کے شہر کا شغر سے ملانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ -24دسمبر 2013کو چین نے کراچی میں 1100میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے دو ایٹمی ری ایکٹر ز لگانے کا وعدہ کیا جن پر لاگت کا تخمینہ ساڑھے چھ بلین ڈالر ہے اور یہ فنڈز چین فراہم کرے گا ۔ 2014میں چین کے وزیراعظم نے پاکستان میں توانائی ، بنیادی ڈھانچہ اور گوادر بندرگاہ کی توسیع کے لئے 31.5بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ،جبکہ ابتدائی طور پر پندرہ سے بیس بلین ڈالر کے منصوبوں جن میں لاہور کراچی موٹروے ، گوادر بندر گاہ کی توسیع اور تونائی کے بڑے منصوبے جن میں گڈانی اورر تھر کول فیلڈ کے نزدیک توانائی کے چھ منصوبے لگانے کی ابتدا کی گئی ہے۔

اس طرح پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے قومی مفاد کے پیش نظر پاکستان کو 1998میں دفاعی طور پر ناقابل تسخیر بنایا اور وزیراعظم محمد نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ ن کے بلند حوصلہ فیصلے نے ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھی۔ پاکستانی قوم کو اپنے ایٹمی قوت ہونے پر فخر ہے اور 28مئی 1998 (14اگست 1947)کے بعد پاکستان کی تاریخ کا دوسرا بڑا اہم دن ہے۔ یوم تکبیر کے حوالہ سے ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ پاکستانی قوم، لیڈر شپ، افواج پاکستان اور سائنسدانوں نے پاکستان کی جغرافیائی حدود کے تحفظ کے لئے ایک بڑا کارنامہ سرانجام دیا۔

حکومت اب تک تین ہزار میگاواٹ بجلی قومی گرڈمیں شامل کر چکی ہے جس سے لوڈشیڈنگ میں کمی آئی ہے اور ملک کو اب پہلے جیسی گھمبیر صورت حا ل کا سامنا نہیں ۔غالباًحکومت کو اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ توانائی بحران پر قابو پائے بغیر ملک کو معاشی ترقی کے ٹریک پر نہیں ڈا لا جا سکتا یہی وجہ ہے کہ حکومت اب تک توانائی کے بہت سے منصوبوں کا آغاز کر چکی ہے، جن میں سے اکثر 2017 اور 2018 کے آخر میں مکمل ہو جائیں گے۔ ان منصوبوں میں پورٹ قاسم کول پروجیکٹ پر کام جاری ہے یہ 1320 میگاواٹ بجلی کا پیداواری منصوبہ ہے جو 2017کے آخر تک 660میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا اور 2018کے آخر تک اس کی پیداواری صلاحیت میں مزید 660 میگاواٹ کا اضافہ ہو جائے گا ۔ اینگروتھر کول پاور منصوبہ پر بھی کام تیزی سے جاری ہے یہ منصوبہ بھی 660میگاواٹ کا ہے اس سے 2017میں 300 میگاواٹ اور 2018 میں اضافی 300 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی ۔ اس طرح ساہیوال میں قادر آباد کے مقام پر بھی 1320میگاواٹ کے کول پاور پروجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے یہ منصوبہ بھی 2017تک 660 میگاواٹ، جبکہ 2018میں مزید 660میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کرے گا ۔ اس کے علاوہ بہت سے توانائی کے منصوبے جاری ہیں جو 2018 کے آخر تک مکمل ہو جائیں گے اور ملک سے توانائی کا بحران مکمل ختم ہو جائے گا۔

آپریشن ضرب عضب کے ذریعے ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے ۔کراچی میں پھر سے امن بحال ہوا ہے بلوچستان کے انتہا پسند اور علیحدگی پسند گروپوں کے ساتھ مذاکرات کئے گئے ہیں اور وہ پھر سے قومی دھارے میں واپس آکر پاکستان کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ معیشت کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو حکومتی کوششوں سے بجٹ خسارہ کم ہو کر 5.3 فیصد تک آگیا ہے۔ افراط زر کی شرح انتہائی کم ہوئی ہے بجٹ میں کسانوں کے لئے قابل تعریف پیکج دیا گیا ہے۔ فی کس سالانہ آمدنی 1513 ڈالر تک بڑھ گئی ہے سٹاک مارکیٹ نئی حدوں کو چھو رہی ہے ۔ شرح سود گزشتہ 42 سالوں میں کم ترین سطح پر ہے ۔ ٹیکس وصولیوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے سکوک بانڈز اور تھری جی اور فور جی کی نیلامی سے بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا ہے ۔ معاشی عالمی ادارے پاکستان کا شمار دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں کر رہے اور پاکستان کی معاشتی ترقی کی تعریف کر رہے ہیں۔تعمیر ی اور مثبت نتقید میڈیا کا حق ہے لیکن میڈیا کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ عوام کو گمراہ نہ کرے اور تصویر کے دونوں رخ دکھائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو مفروضوں قیاس آرائیوں پر مبنی ہوں اور اس قومی وقار کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

مزید :

کالم -