عوام اچھی طرح جانتے ہیں!

عوام اچھی طرح جانتے ہیں!
 عوام اچھی طرح جانتے ہیں!

  


پاکستانی عوام بے شعور نہیں باشعور ہیں اور انہیں یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے لاشعور، شعور اور تحت الشعور میں کیا ہے کیونکہ وہ اپنے ماضی سے بھی واقف ہیں، حال سے بھی گزر رہے ہیں اور مستقبل میں اللہ جانے کیا ہونا ہے مگر وہ پرامید ہیں کہ انشاء اللہ اچھا ہی ہوگا۔ امیدوں، امنگوں اور تمناؤں کو ایک طرف رکھ کر ہمہ وقت کڑھتے رہنا، ایک دوسرے پر لعن طعن کرنا اور ہر لمحہ الجھنوں میں الجھتے رہنا کہاں کی عقلمندی ہے، کم از کم زندہ قوموں کا یہ شیوہ اور وطیرہ ہرگز نہیں، زندہ قوموں کی تو پہچان یہ ہے کہ

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا

کہ صبح شام بدلتی ہیں جن کی تقدیریں

ہم جب وقت کے نامی گرامی قلمکاروں کی تحریروں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں بڑا ہی دکھ ہوتا ہے اور ہم ان سوچوں میں مستغرق ہو جاتے ہیں کہ یہ لوگ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں؟ جمہوریت کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں اور آمریت کے بھی گن گاتے ہیں اور پھر فوج اور سول حکومت کو آپس میں لڑانے اور خواہ مخواہ کی غلط فہمیاں پیدا کرنے کی بھی لاحاصل کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ہمارے محترم کالم نگار جناب ایاز امیر نے میر کے ایک شعر کا ایک مصرعہ اپنے تازہ کالم میں شامل کیا ہے ہم پورا شعر لکھ دیتے ہیں۔

پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

چمنستان وطن کا ہر فرد اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اس وقت ملک میں ایک جمہوری حکومت برسر اقتدار ہے جو عوام کا بھاری مینڈیٹ رکھتی ہے اور لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں نے یہاں کیا گل کھلائے ہیں۔ پچھلی حکومت نے کرپشن اور بدعنوانی کے وہ ریکارڈ قائم کئے جن کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آج بفضل باری تعالیٰ ماضی کے ان حکمرانوں کا احتساب ہو رہا ہے جنہوں نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا لیکن ہمیں یہ بات بالکل نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم نے کرپشن اور بدعنوانی کے تمام تر الزامات کے باوجود پچھلی حکومت کو پورے پانچ سال برداشت کیا۔ آخر کیوں؟ شاید اس کا جواب کوئی بھی دینے کو تیار نہیں لیکن ایک بات واضح ہے اور غالباً سب کا یہی جواب ہے کہ جمہوریت کا تسلسل بحال اور برقرار رکھنے کے لئے۔۔۔ تو پھر آج کونسی افتاد آپڑی ہے کہ ہم جمہوریت کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں ہمیں من حیث القوم 2018ء تک موجودہ جمہوری حکومت کو قائم رکھنا ہو گا تاکہ آئندہ عام انتخابات میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ اگر تو مسلم لیگی حکومت نے تعمیراتی اور ترقیاتی حوالہ سے احسن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہوگا تو عوام لامحالہ آئندہ انتخابات میں بھی مسلم لیگی رہنماؤں کو بھاری اکثریت سے منتخب کریں گے اور اگر ان کی کارگزاری بہتر نہ ہوگی تو عوام بہتر سیاسی شعور رکھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ انہیں آئندہ کیا فیصلہ کرنا ہے۔

موصوف نے 1990ء کے انتخابات کو متنازع قرار دیتے ہوئے آئی ایس آئی کو ایسا رگید ڈالا کہ اس نے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لئے کچھ سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ جمہوریت ایک نازک اور نوخیز پودا ہے۔ منتخب حکومتوں کو بار بار فوجی مداخلت کی وجہ سے گھر جانا پڑا۔ آئین کو اُٹھا کر سرد خانے میں ڈال دیا گیا جبکہ جج حضرات نے بھی نظریہ ضرورت کا پاس رکھتے ہوئے اقتدار پر جنرلوں کے قبضہ کا جواز پیش کیا۔ ان تمام خرابیوں کی نشاندہی کے باوجود کم از کم جمہوریت پر تنقید بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ دوسری جانب ہمارے نیازی صاحب کی بے نیازیاں ہمیشہ نیا رنگ لاتی ہیں کسی وفاقی وزیر پر یہ الزام کہ انہیں محض عمران خان کیلئے وزیر شذیر بنایا گیا ہے اور انہیں وزیر عمرانیات ہونا چاہئے، سراسر ذاتیات نظر آتی ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ ہر وہ آدمی جس کے ساتھ شریف آتا ہے اس کے ساتھ چودھری نثار والی پالیسی کے تحت تعلق بنانا چاہئے۔ آج کل کسی کو یہ کہنے سے پہلے سوچ لینا چاہئے کہ وہ ’’شریف‘‘ آدمی ہے۔ ان جملوں سے کیا اخذ ہوتا ہے۔ لفظ شریف کی توہین یا پھر چودھری نثار کو متنازعہ بنانے کی کوشش۔ رہی بات ’’ناتمام‘‘ کی جس میں عالی حضرت ہارون الرشید فرماتے ہیں کہ ایک سوال پریشان کرتا ہے اور بہت پریشان، سول ادارے اگر اسی طرح اپاہج ہوتے گئے ایک ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے فوج اگر ان کا بوجھ بانٹتی اور اٹھاتی رہی تو آخری نتیجہ کیا ہوگا۔ دولے شاہ کے بے شمار چوہے کتنے ہی شاندار اور منظم ہوں، محبوب اور مقبول، افواج کے ڈنڈے نہیں، اقوام تعلیم اور تربیت کے بل پر تعمیر ہوتی ہیں۔

محترم! آپ نے خود ہی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اقوام تعلیم اور تربیت کے بل پر تعمیر ہوتی ہیں۔ قوموں میں اہل علم ہی شعور پیدا کرتے ہیں، کس نے اداروں اور ان کے سربراہوں کو روکاہے کہ وہ اپنے فرائض خوش اسلوبی اور پوری دیانت کے ساتھ انجام نہ دیں، ہماری باتوں اور تحریر کا ہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ہم موجودہ حکومت کی بلاجواز تعریف کر رہے ہیں یا ہم تعمیری تنقید کے قائل نہیں ہیں، تنقید ضرور ہونی چاہئے اسی سے تو معاشرہ کی اصلاح اور تطہیر ہوتی ہے مگر اہم اور حساس قومی اداروں میں غلط فہمیوں کو فروغ دینا، جمہوری عمل کی راہ میں رکاوٹ بننا کسی صورت بہتر اور قابل قبول نہیں، پوری قوم کو اپنی مسلح افواج پر ناز ہے، فخر ہے انہی کی بدولت دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ ضرب عضب ہماری قومی کامیابی اور کامرانی کی زندہ مثال ہے، ہماری سرحدیں محفوظ ہیں، سیلاب یا کسی اور آفت ارضی و سماوی کے دوران پاک فوج کا ہمیشہ مثالی کردار رہا ہے اسی طرح حکومت اپنی سطح پر ایک بہترین طرز حکمرانی کے ساتھ تعمیری اور ترقیاتی عمل جاری رکھے ہوئے ہے جس کے انشاء اللہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ خاکم بدہن اگر جمہوریت کو کوئی نقصان پہنچا تو تمام ترقیاتی عمل رک کر رہ جائے گا ہمیں چین پاکستان اقتصادی راہداری کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔ یہی راہداری پورے خطہ کے معاشی اور اقتصادی استحکام کی ضامن ثابت ہوگی۔ پاکستان کے روشن اور درخشاں مستقبل کو بھانپتے ہوئے بعض ممالک کو سی پیک ہضم نہیں ہو رہی۔ ہماری متنازعہ تحریریں غیر ملکی ایجنڈے کو مضبوط کرسکتی ہیں اس لئے خدارا پاک فوج اور حکومت میں غلط فہمیاں پیدا کرنے اور ابہام لانے کی کوششوں سے اجتناب اور گریز کیا جائے۔ موجودہ حکومت کو وقت دیا جائے کہ وہ ترقیاتی عمل کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکے، جمہوریت مضبوط اور مستحکم ہوگی تو ملک ترقی و خوشحالی سے ہمکنار ہوگا، اقوام عالم ہم پر اعتماد کریں گی اور ہم اپنی اس منزل کو پانے میں ضرور کامیاب ہوں گے جس کا خواب حضرت علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا اور جسے پانے کے لئے عملی جدوجہد کا آغاز بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ اور دیگر اکابرین قوم نے کیا تھا۔

مزید : کالم