نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور بھا رت

نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور بھا رت
نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور بھا رت

  


بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بھرپور ڈپلومیسی کے با وجود بھارت نیو کلےئر سپلا ئیرز گروپ میں شمولیت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پایا۔مودی نے اس مقصد کے حصول کے لئے دُنیا کے کئی ممالک کے طوفانی دورے کئے۔امریکہ کی بھر پور حمایت حاصل کی، مگر جنوبی کوریا کے دارالحکومت ’’سیول‘‘ میں نیو کلےئر سپلائرز گروپ کے ایک انتہائی اہم اجلاس میں رکن ممالک کا بھا رت کو اس گروپ کا رکن بنا نے پر اتفاق نہ ہو پا یا ۔اجلاس کے اختتام پر با قاعدہ اعلامیہ جا ری کیا گیا،جس کے مطابق ’’رکن ممالک میں اس امر پر بھر پور اتفاق پا یا گیا کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی ’’این پی ٹی ‘‘پر عمل درآمد کروانے کے لئے بھرپور اور موثر کوششوں کو جاری رکھا جائے گا‘‘۔ یوں اس اعلامیہ کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں بھا رت کو اس گروپ کی رکنیت ملنے کا کو ئی امکا ن نظر نہیں آتا کیونکہ بھارت ایٹمی ہتھیاروں کے معاہدے یعنی این پی ٹی کا دستخط کنندہ نہیں ہے۔ چین دس اور دیگر ممالک کی جانب سے یہ موقف اپنایا گیا کہ نیوکلےئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے لئے پسند و ناپسند کے رویے کو نہیں اپنانا چاہئے، بلکہ بنیا دی اصولوں کی بنا پر ہی فیصلہ کیا جا ئے۔اس صورت حال پر معروف بھارتی تجزیہ نگار اور خارجہ امورکے ما ہر دانشور ایم کے بھدرا کمارنے انتہا ئی جاندار تبصرہ کرتے ہو ئے کہا ہے کہ ’’ بھارت کو نیو کلےئر سپلا ئیرز گروپ کی رکنیت نہ ملنے سے ثابت ہو گیا کہ بھا رتی حکمران احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ ہمیں (بھارت) خود سوچنا چا ہئے کہ نیو کلےئر سپلا ئرز گروپ میں شمولیت کا خیال خود بارک اوباما نے2010ء میں بھا رتیوں کے ذہن میں ڈالا۔بھا رتی پالیسی ساز اپنی پوری خارجہ پا لیسی کو صرف امریکی تنا ظر میں دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔اگر ان کے پاس تاریخ کا شعور ہوتا تو وہ کبھی بھی اس انتہائی مفحکہ خیز چکمے میں نہ آتے کہ امریکہ ، بھا رت کو ایک عظیم طاقت بنانا چا ہتا ہے‘‘۔

نیو کلیئر سپلا ئر زگروپ کے حوالے سے اس حقیقت کو بھی فرا موش نہیں کیا جا سکتا کہ اس گروپ کو قائم ہی 1974ء میں اس وقت کیا گیا، جب بھا رت نے پہلی مرتبہ1974ء میں ایٹمی تجربا ت کئے تھے۔ بھا رت کے ایٹمی تجربا ت کے ردعمل کے طور پر ہی اس گروپ کا ظہور ہوا تاکہ بھا رت کے ایٹمی تجر با ت کے بعد دنیا کے ممالک میں ایٹمی پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔اب اگر اسی گروپ کی جانب سے بھا رت کو اس میں شامل کر لیا جائے تو یہ صورت حال انتہائی مضحکہ خیز ہو سکتی ہے۔ نیو کلےئر سپلا ئرز گروپ میں رکنیت نہ ملنے پر بھا رتی حکومت اور میڈیا چین پر یہ الزام لگا رہا ہے کہ اس کی مخالفت کی بنا پر بھارت اس گروپ کی رکنیت سے محروم رہ گیا۔خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب بھارتی وزیراعظم مو دی نے اس گروپ کے اجلاس سے صرف ایک روز پہلے ہی چینی صدر سے تاشقند میں ملاقات بھی کی تھی او چین سے حما یت کی استدعا بھی کی تھی۔بھارت کے اس موقف پر چینی حکومت اور کمیو نسٹ پا رٹی کے ترجمان انگریزی اخبار’’ گلوبل ٹائمز ‘‘نے 28جون کو انتہائی موثر اور حقائق پر مبنی اداریہ تحریر کیا ہے’’گلوبل ٹائمز‘‘ چونکہ چینی سرکا ری موقف کا ترجما ن اخبار سمجھاجاتا ہے اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس اداریے میں پیش کیا جانے والا موقف کا فی حد تک چینی حکو مت کا ہی موقف ہے۔

Delhi146s NSG bid upset by rules, not Beijingکے عنوان سے لکھے گئے اس اداریے میں اس موقف کی سراسر نفی کی گئی ہے کہ بھارت 48رکنی نیو کلےئر سپلائز گروپ میں صرف چین کی مخا لفت کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکا۔چین کے ساتھ کم از کم دس ممالک ایسے تھے کہ جنہوں نے بھا رت کو نیوکلےئر سپلائی گروپ کا رکن بنانے کی مخالفت کی ۔ ان ممالک میں ترکی ، برازیل، میکسیکو، اٹلی، روما نیہ، بیلا روس، آسٹریا، آئر لینڈ اور نیوزی لینڈ بھی شامل تھے۔اس اداریے کے مطابق ان میں سے کو ئی ملک بھی ایسا نہیں ہے جس کی خارجہ پا لیسی پر چین کسی بھی طرح کا اثرورسوخ ڈال سکے۔ان ممالک نے اس گروپ میں بھارت کی شمولیت کی مخالفت اس لئے کی کیو نکہ بھا رت ایٹمی عدم پھیلا ؤ کے معا ہدے، یعنی این پی ٹی کا رکن نہیں ہے اور نیوکلےئر سپلائر گروپ میں شمولیت کے لئے این پی ٹی کا رکن ہو نا ضروری ہے۔ اس لئے تما م48رکن ممالک این پی ٹی کے رکن بھی ہیں۔اداریے کے مطا بق اس صورت حال میں اگر بھا رت این پی ٹی کو تسلیم کئے بغیر نیوکلےئر سپلائرز گروپ کا حصہ بننا چا ہتا ہے تو چین اور دیگر ممالک کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ بھا رت کی شمولیت کی مخالفت کریں۔

اداریے کے مطابق ’’حالیہ عرصے میں مغربی دُنیا نے بہت سے اہم امور پر بھا رت کو تھپکیاں دی ہیں اور چین کو نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، حالانکہ جنوبی ایشیا کے اس ملک (بھارت )کا جی ڈی پی ، چین کے مقابلے میں کئی گنا کم ہے۔اس کے باوجود یہ (بھارت) مغرب کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا ہے۔جس سے عالمی امور پر بھا رت خوامخواہ ایک مغرور ملک بن گیا ہے۔بھا رت کو سوچنا چاہئے کہ امریکہ ہی دنیا نہیں ہے۔ امریکہ محض اپنی خواہش پر ہی تما م عالمی ایجنڈوں کو پا یا تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا۔امریکی حما یت حاصل ہونے کا قطعی مطلب نہیں کہ بھارت کو پو ری دُنیا کی حما یت حاصل ہو گئی ہے۔ایک ’’ بڑی طاقت‘‘ کا شہری بننے کے لئے ابھی بھا رتی قوم پرستوں کا ذہن تیا ر نہیں ہوا ہے اگر وہ اپنے مُلک کو بڑی طاقت بنا نا چا ہتے ہیں تو ان کو معلوم ہو نا چا ہئے کہ بڑی طا قتیں کیسے اپنے مقاصد حاصل کرتی ہیں۔‘‘ چینی حکومت کے ترجما ن اخبا ر ’’گلو بل ٹائمز‘‘ کے اس اداریے کو دیکھ کر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اب چین ، دُنیا پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہے کہ اگر امریکہ ، چین کے مقابلے میں بھارت کی پشت پنا ہی جا ری رکھے گا تو چین بھی ہاتھ پر ہا تھ دھرے نہیں بیٹھا رہے گا۔

نیو کلےئر سپلائرز گروپ کے معاملے پر جہاں تک پاکستان کے موقف کا تعلق ہے تو امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز کے اس بیان کو مکمل طور پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا کہ پاکستان کی سفا رتی کوششوں سے بھارت نیو کلےئر سپلائرز گروپ کا رکن بننے سے محروم رہا۔یہ درست ہے کہ اس گروپ میں ترکی اور چین جیسے پا کستان کے مخلص دوست ممالک بھی مو جود ہیں، تاہم ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چا ہئے کہ چین اور ترکی نے بھارت کی مخالفت صرف پا کستان کی دوستی کی بنا پر نہیں کی۔ اس حقیقت کوبھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ بھارت کو اس گروپ کے 48رکن ممالک میں سے 38ممالک کی حما یت حاصل تھی۔ پا کستان بھی اس گروپ میں شمولیت کا خواہشمند ہے اور اس حوالے سے سفارتی کوششیں بھی کرتا رہا ہے ان سفا رتی کوششوں کے با وجود 48میں سے نصف ارکان یعنی24 رکن ممالک بھی اس گروپ میں شمولیت کے لئے پاکستان کی حمایت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔1998ء کے ایٹمی تجربا ت کے بعد امریکہ نے دونوں ممالک، یعنی بھا رت اور پا کستان کے ساتھ اس حوالے سے سٹرٹیجک مذاکرات کا آغاز کیا تھا اور فروری 1999ء میں ان مذاکرات کے آخری ادوار میں یہ وعدہ کیا تھا کہ نیو کلےئر ٹیکنا لو جی کے حوالے سے دونوں ممالک کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا، مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔امریکہ نے2005ء میں بھارت کے ساتھ ایٹمی توانائی کامعاہد ہ کرنے کا اعلان کر دیا اور ہم زبا نی کلا می مذمتیں کرتے رہ گئے۔ یقینااس سارے معاملے پر امریکہ اور بھا رت کی زیا دتی کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی کمزوریوں اور نا قص پا لیسیوں کو بھی فراموش نہیں کرنا چا ہئے۔

مزید : کالم