مشکل ایسی تو نہ تھی

مشکل ایسی تو نہ تھی
مشکل ایسی تو نہ تھی

  


جرنیل اقتدار میں آجائیں تو بیک وقت کئی ٹوپیاں سروں پر سجا لیتے ہیں۔آرمی چیف کا عہدہ پاس رکھنے کے ساتھ ساتھ بااختیار صدر مملکت یا چیف ایگزیکٹو بھی بن جاتے ہیں۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بھی خود ہی بن جاتے ہیں۔ فوجی اداروں میں عملاً آمر ہی تمام اداروں کا سربراہ ہوتا ہے۔ کیا عدلیہ، کیا میڈیا سب گھٹنے ٹیک کر احکامات بجالانے پر لگ جاتے ہیں۔ سیاسی حکومتوں میں مقابلہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ منتخب وزیراعظم کو سافٹ ٹارگٹ جان کر مخصوص حلقے اودھم مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے ساتھ بھی یہی مسئلہ درپیش ہے۔ ایک فرق بہرحال سامنے ہے۔ اس مرتبہ وزیراعظم کی ٹوپی کے ساتھ ساتھ نواز شریف نے ایک دوسری کیپ بھی اوڑھ لی۔ کیپ سے کوئی اور مطلب نہ لیجئے گا۔ یہ سوفیصد سویلین معاملہ ہے۔ حالات کی ستم ظریفی کہہ لیں یا مضحکہ خیز صورتحال کا نتیجہ، اس وقت وزیراعظم نواز شریف ہی حقیقی اپوزیشن لیڈر ہیں۔ ملک کے تقریباً تمام اہم معاملات کا عملی کنٹرول اپنے ہاتھوں میں رکھنے والے عناصر کو وزیراعظم کی صورت میں سامنے موجود شخصیت کی اپوزیشن کا سامنا ہے۔ جمہوری حکومت کی رسمی اپوزیشن کرنے والوں میں سے کوئی حقیقی قائد حزب اختلاف نہیں۔ آلہ کار ہی آلہ کار ہیں۔ اصل حکومت اور ظاہری حکومت اس مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کو صرف اور صرف نواز شریف کا ہی سامنا ہے۔

بار بار اقتدار میں رہنے والے بے دخل کیے جانے کے باعث نواز شریف سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ معاملات کو زیادہ مضبوطی اور مہارت سے سنبھالنے کی کوشش کریں گے مگر ایسا نہیں ہوا۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت آج جن مشکلات میں گھری نظرآرہی ہے ان کا بڑی حد تک پیشگی بندوبست کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے بنتے بگڑتے اور پھر بگڑتے ہی بگڑتے معاملات کا تجربہ رکھنے والوں نے یہ سوچا بھی کیسے کہ اب کی بار مزے سے حکمرانی کریں گے۔ شاید اس امر کا ادراک تو تھا مگر عملی اقدامات کے حوالے سے سستی، غفلت یا پھر تاخیر کا مظاہرہ کیا گیا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بعض معاملات نواز شریف کے بس میں ہی نہیں۔ جنرل مشرف کی فراغت کے بعد بحال ہونے والی جمہوریت میں سٹیک ہولڈروں کو یقینی طور پر بہت احتیاط سے چلنا تھا۔ میثاق جمہوریت نہ بھی ہوتا تب بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ کر غیر جمہوری قوتوں کے لئے راہ ہموار نہیں کرنا تھی۔ آصف زرداری کے بعد کئی کوتاہیوں کے باوجود مسلم لیگ(ن) اپوزیشن کرتے ہوئے ایک حد سے آگے نہیں بڑھی۔ اسٹیبلشمنٹ نے جب یہ دیکھا کہ دونوں بڑی پارٹیاں فرما نبرداری سے انکاری ہیں تو تحریک انصاف کی شکل میں تیسری جماعت کھڑی کر دی۔ 2008 ء کے عام انتخابات کے بعد اگر نواز شریف پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانے کے درپے رہتے تو شاید تھرڈفورس کے قیام کی ضرورت نہ پڑتی۔ پاکستانی سیاست میں تیسرا آپشن، نواز، زرداری مفاہمت کے باعث ہی متعارف کرایا گیا۔ بہانہ یہ تھا کہ دونوں ملے ہوئے ہیں۔ اس بات کو پھیلانے کے لئے میڈیا کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ 2013 ء میں مسلم لیگ(ن) اقتدار میں آئی تو قیمت بھی چکانا پڑی ،بلکہ اب تک چکائی جارہی ہے۔ سیاسی صورتحال کو دھماکہ خیز بنانے کے لئے ہر ممکن ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں۔ دھرنوں وغیرہ کی باتیں عام ہیں۔ 2014 ء میں سکرپٹ رائٹر کا گیم پلان قدرے مخفی تھا۔ اس مرتبہ تو ڈھول کا پول کھل چکا۔ عام آدمی بھی بتا سکتا ہے کہ کون سی جماعت کس کے ایماء پر کیا گل کھلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ آنے والے دنوں میں جو صورتحال پیدا ہونے جارہی ہے اس کا سامنا کرنا حکومت کے لئے ناممکن نہیں مگر مشکل تو ضرور ہے۔ ذمہ دار بھی حکومت خود ہے۔ بہت لمبی چوڑی تفصیل درکار ہے نہ کسی گہرے تجرئیے کی ضرورت، چند نکات ہی کافی ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف ہوں یا ان کے برادرخورد وزیراعلیٰ شہباز شریف ،دونوں نے منتخب ایوانوں(اسمبلیوں) کو بری طرح سے نظر انداز کیا۔ اگر وہ ان ایوانوں میں اپنی حاضری یقینی بناتے تو پوزیشن ہی کچھ اور ہوتی۔ اسمبلیاں تو کیا وزرا،پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں تک سے دوری اختیار کی گئی۔ بااختیار وزراء اپنا کام کرتے، پارٹی عہدیدار اورکارکن مطمئن ہو کر تنظیم پر توجہ دیتے تو قدرے سیاسی فورس کا مورال ہی کچھ اور ہوتا۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی نمائندوں کے انتخابات میں بھرپور کامیابی کے بعد انہیں اداروں میں نہیں بٹھایا گیا۔ بلدیاتی اداروں کی تکمیل ہو جاتی تو یہ یقینی طور پر اپنی پارٹی اور حکومت کے لئے ہر اول دستہ ثابت ہوتے۔ 2013 ء کی انتخابی مہم کے دوران بالخصوص نواز شریف علی الاعلان کہتے رہے کہ منتخب ہو کر وزیراعظم ہاؤس میں نہیں بیٹھوں گا۔ شہر شہر، قصبے قصبے، گاؤں گاؤں جا کر عوامی مسائل موقع پر حل کروں گا۔ آج انہیں یہ احساس ہو رہا ہو گا کہ اگر وہ ہفتے، پندرہ دن میں صرف ایک بار ہی ضلع نہیں ،بلکہ ڈویژن کی سطح پر ایسے اجتماعات کر گزرتے تو آج عوامی حمایت کا گراف کتنا بلند ہوتا۔

دھمکانے والی دھرنا پارٹیاں تو کیا اسٹیبلشمنٹ کو بھی کچھ کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑتا عوام سے مکمل طور پر کٹ جانا لیگی حکومت کی فاش غلطی تھی۔ دائیں بازو کی جماعتوں سے تعلقات بہتر بنانے یا معمول پر رکھنے میں کیا امر مانع تھا۔ مولانا فضل الرحمن ساتھ ہیں تو سراج الحق اور مولانا سمیع الحق بھی تو حلیف بن سکتے تھے یا ان کو مخالفت سے بازرکھا جا سکتا تھا۔ جلاوطنی کاٹ کر واپس آنے والی لیگی قیادت پر تو جیسے لبرل ازم کا خمار چھایا ہوا تھا۔ کئی ایسے اقدامات کیے گئے جن کے سبب دائیں بازو کے حلقوں کو ناراض کر دیا گیا۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی دوستانہ روابط قائم کیے جا سکتے تھے مگر کوئی توجہ نہ دی گئی۔ بعض اوقات تو یوں محسوس ہوا کہ تکبر کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ وفاقی کابینہ کے ارکان کی گروپنگ کے باعث وزیراعظم کی اپنی کپتانی کے بارے میں تحفظات پیدا ہو گئے۔ مخالف قوتوں کے بارے میں یہ کھلا راز تھا کہ میڈیا کو ہتھیار بنا کر استعمال کیا جائے گا۔ ایسا ہوا بھی اور اب تک ہورہا ہے۔ حکومت نے میڈیا سٹرٹیجی تیار کرنے کے حوالے سے غیر معمولی تاخیر کا مظاہرہ کیا اور کمزوریاں دکھائیں۔اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کی بیورو کریسی اور اہم کارپوریشنوں پر تعیناتیوں کے حوالے سے ایک طویل عرصہ تک حکومت کو عملاً غیر فعال رکھا۔ ایسے مواقع بھی آئے کہ جب خود حکومتی شخصیات نجی محفلوں میں یہ کہتے پائی گئیں کہ لگتا ہے وزیراعظم صاحب کو حکومتی امور چلانے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں۔

پنجاب حکومت کے بعض اقدامات بھی حکومتی اور پارٹی مشکلات کوبڑھاوا دینے کا سبب بنے۔ میٹرو بس، اورنج لائن اور میگا ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت سے کسی ذی شعور کو انکار نہیں۔ ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت زار کو سنورانا آخر کس کی ذمہ داری تھی۔عوامی مسائل کے حل کے لئے ایک توازن اختیار کرناتھا جو اپنایا نہیں گیا۔ سرکاری محکموں میں کرپشن اور کام چوری کے باعث عوامی مشکلات پہلے سے بھی بڑھ گئیں۔ چھوٹے گریڈ کے افسروں کو بڑی پوسٹوں پر لگانے سے سینئر افسروں میں سخت بددلی پھیلی۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ دھرنا پارٹیوں اور حکومت مخالف حلقوں کو حکومتی صفوں میں شامل شخصیات اور سرکاری افسران کی جانب سے مشورے ملنے لگے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ پنجاب کی کارکردگی دیگر صوبوں سے بہتر ہے ،لیکن شاید اتنی بھی نہیں۔سرکاری امور کو کہیں بہتر انداز میں نمٹایا جا سکتا تھا۔ عوام کو ریلیف دینے کے لئے وسائل بھی موجود تھے اور سرکاری مشینری بھی ،لیکن شاید سمت سو فیصد درست نہ تھی۔ اخلاص کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔ خالی خولی دعوؤں سے مسائل زدہ عوام کو بہلایا نہیں جا سکتا۔ مسلم لیگ(ن) کی خوش قسمتی کہہ لیں یا قوم کی بدقسمتی جن جن کو آزما کر دیکھا اور جس سے آئندہ کے لئے توقعات باندھی جارہی تھیں ان سے کوئی بھی عوام کا اعتماد جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا،وہاں بھی صرف بڑھکیں ہیں، دعوے ہیں، سہانے خوابوں کا سراب یا پھر بسااوقات کوئی ایسی بونگیاں کہ سننے والے خود ہی بدظن ہو جائینگے۔

عید کے بعد کیا ہو گا کیا نہیں ہو گا، اس سے قطع نظر عوامی مسائل کے حل کی جانب توجہ دی جائے۔ عوام کے حقیقی مسائل کیا ہیں۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ چاہیں تو چند گھنٹوں میں پوری صورتحال سے واقف ہو سکتے ہیں۔ خوشامدی بیوروکریٹس کے حصار سے نکل کر دیکھنا ہو گا۔ گڈگورننس کا ٹاسک آج سے ہی مقرر کر لیا جائے تو نتائج کل ہی سے ملنا شروع ہو جائینگے۔ آنے والے دنوں میں ہونے والے احتجاج سے بھی شاید کوئی پہاڑ نہیں گرنے والا مگر عوام پر مسائل کا ملبہ اسی طرح سے ڈالا جاتا رہا تو کسی کے محفوظ مستقبل کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

مزید : کالم