ہزار مہینوں سے بہتر رات

ہزار مہینوں سے بہتر رات

سرفراز اے شاہ

حضرت مالک بن انسؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔

’’میں نے مختلف امتوں کے لوگوں کی عمریں اور ان کے اعمال نامے دیکھے۔ مجھے ان میں اپنی امت کی عمریں کم دکھائی دیں۔ میں نے محسوس کیا کہ عمر کی کمی کے باعث میری امت کے لوگ پہلے لوگوں کے برابر عمل نہ کر سکیں گے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شب قدر عنایت کر دی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘

لیلتہ القدر بہت برکتوں اور رحمتوں والی رات ہے اس شب اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی بہت زوروں پر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس رات پہلے آسمان پر اتر آتا ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی دوسرے فرشتوں کے جلو میں ایک سبز پرچم لے کر زمین پر اترتے ہیں اور وہ پرچم خانہ کعبہ کی چھت پر گاڑتے ہیں پھر فرشتوں کو حکم دیتے ہیں کہ زمین پر پھیل جاؤ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے کل چھ سو (600) پر ہیں۔ اس قدر والی رات میں جب وہ اپنے تمام پر زمین پر پھیلاتے ہیں تو وہ زمین کی حدود سے باہر نکل جاتے ہیں اور محو عبادت لوگوں پر چھا جاتے ہیں جب لوگ اس رات دعا کرتے ہیں تو فرشتے آمین کہتے ہیں۔

آپﷺنے فرمایا ’’شب قدر میں جبرائیل علیہ السلام آسمان سے اتر کر ہر مسلمان کو سلام کرتے ہیں اور اس سے مصافحہ کرتے ہیں اس کی علامت یہ ہے کہ آدمی کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔‘‘

ایک سوال جو اکثر ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ ایک طرف تو کہا جاتا ہے کہ قرآن پاک پورے کا پورا شب قدر میں نازل کیا گیا اور دوسری طرف قرآن پاک آپﷺ کی نبوت کے 23 سالوں میں چھوٹے چھوٹے حصوں میں وحی کے ذریعے آپﷺ پر نازل ہوتا رہا۔ در حقیقت یہ دونوں باتیں ہی بالکل ٹھیک ہیں۔ سورۂ قدر میں ارشاد ہوتا ہے۔

انا انزلنہ فی لیلۃ القدر

اس سے دو معنی مراد ہیں۔ ایک تو یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا میں تشریف لانے سے قبل ہی قرآن پاک کو لوحِ محفوظ میں محفوظ کر دیا گیا تھا۔ شب قدر میں یہ قرآن پاک لوحِ محفوظ سے آسمان دنیا (بیت العزت) پر پورے کا پورا نازل کر دیا گیا۔ پھر اس آسمان سے حسب حکم حضرت جبرائیل علیہ السلام قرآن کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں آیات کی صورت میں وحی کی صورت میں آپﷺ تک پہنچاتے رہے اور یہ عمل 23 سال میں مکمل ہوا۔

اس ضمن میں ایک اور بات بھی بے حد اہم ہے کہ ایک شب قدر سے دوسری شب قدر کے دوران جتنا بھی قرآن پاک آپﷺ پر نازل ہوتا، اس رات لیلتہ القدر اس تمام وحی کو اکٹھا کر کے آپؐ کو سنا دیا کرتے تھے۔

اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیرانِ پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ شب قدر کی بزرگی میں اللہ تعالیٰ نے سورہ ’’انا انزلنہ‘‘ نازل فرمائی جس میں قرآن پاک کے نزول کا ذکر ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو لوحِ محفوظ سے اتار کر سفرہ کے فرشتوں کے پاس نازل کیا۔ سفرہ کے فرشتے وہ ہیں جو محرری اور خط و کتابت پر مامور ہیں۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ پر صرف اسی قدر قرآن نازل فرمایا جس قدر اس سال میں بھیجنا مقصود تھا۔ قرآن کریم آپﷺ پر جبرائیل علیہ السلام نازل فرمایا کرتے تھے۔ شب قدر تک تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرتے رہتے۔ یہ صرف وہی حصہ ہوتا تھا جو بارگاہ الٰہی سے نازل ہو چکا تھا۔

قرآن پاک کے نزول کے علاوہ دیگر صحیفے اور الہامی کتابیں بھی ماہ رمضان ہی میں نازل ہوئیں۔ شہاب بن طارق نے ابوذر غفاریؓ سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:۔

-1 حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحیفے ماہِ رمضان کی تین راتوں میں نازل ہوئے۔

-2حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ماہِ رمضان کی چھ راتوں میں تو رات اتاری گئی۔

-3حضرت داؤد علیہ السلام پر رمضان کی اٹھارہ راتوں میں زبور اتاری گئی۔

-4ماہ رمضان کی تیرہ راتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل اتری۔

-5رسول خداؐ پر رمضان کی چوبیس راتوں میں پورا قرآن نازل ہوا۔

شب قدر، ماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس حوالے سے مختلف روایات ملتی ہیں۔ حضرت امام شافعیؒ کے مطابق ’’شب قدر 21 رمضان المبارک کو ہوتی ہے۔‘‘ حضرت عمر فاروقؓ کو یہ گمان تھا کہ ’’تئیسویں شب رمضان شب قدر ہوتی ہے۔‘‘ آپﷺ سے ایک حدیث روایت کی جاتی ہے جس کے مطابق ستائیسویں رات شب قدر ہوتی ہے۔ حضرت عائشہؓ کے مطابق 23 ویں رات کو شب قدر ہوتی ہے اور کچھ روایات کے مطابق شب قدر 29 ویں رات کو ہوتی ہے۔

یہ سب روایات اپنی جگہ بے حد اہم ہیں لیکن بہتر یہی ہے کہ کسی ایک مخصوص رات کی بجائے آخری عشرے کی تمام طاق راتوں میں شب بیداری کا اہتمام کر لیا جائے تاکہ شب قدر کے فیوض و برکات کو بھرپور طریقے سے سمیٹا جا سکے۔

روایت ہے کہ آپﷺ اپنی امت کے لئے بہت فکر مند رہا کرتے تھے اللہ نے فرمایا کہ اے حبیبؐ فکر نہ کرو، میں تمہاری امت کو دنیا سے اس وقت تک نہ اٹھاؤں گا جب تک اسے پیغمبروں کا درجہ نہ عطا کر دوں اور سردار نہ بنا دوں اور وہ یوں کہ پیغمبروں کے پاس تو فرشتے وحی اور پیغام لاتے تھے اور تیری امت کے افراد پر ہر شب قدر میں فرشتے بھیجوں گا۔

شب قدر میں ہم رب تعالیٰ سے دو چیزیں مانگیں۔

یا اللہ! تو مجھ پر رحم فرما دے۔

یا اللہ پاک! تو ہم پر اپنی رحمت نازل فرما۔

کہنے کوتو ’’رحم‘‘ ایک لفظ ہے لیکن اس میں بہت سے معانی پوشیدہ ہیں۔ جب کوئی شخص اللہ سے اس کا رحم مانگتا ہے تو گویا وہ اپنے عاجز اور بے بس ولا چار ہونے کا اقرار کر رہا ہوتا ہے۔ اللہ کے حضور اپنی خواہشات، ارادے اور مرضی سے دست بردار ہونے کا اقرار کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کر رہا ہوتا ہے۔ رب تعالیٰ سے رحم کی بھیک طلب کرنا گویا اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کا اقرار بھی ہے اور اظہار ندامت بھی۔ یہ دراصل ایک عاجز اور لاچار بندے کا اقرار ہے کہ ’’اے اللہ! تو زبردست قوت والا ہے جب کہ میں میں عاجز اور کمزور ہوں۔ میں نے تیرے حکم کی جو خلاف ورزی کی، میں اس کا دفاع نہیں کرتا۔ سچ تو یہ ہے کہ تیرے حکم سے سرتابی نہیں ہونی چاہئے تھی پھر بھی مجھ سے غلطی سرزد ہو گئی۔ میں اپنے گناہ گار ہونے کا اعتراف کرتا ہوں اور ندامت کا اظہار کرتا ہوں۔ یا اللہ پاک! تو مجھ پر رحم فرما۔‘‘ جب ہم اس غفور الرحیم سے اس کا رحم مانگتے ہیں تو عاجزی کے اس مقام پر چلے جاتے ہیں جہاں وہ اپنے بندوں کو دیکھنا پسند فرماتا ہے۔ جس طرح اللہ کا رحم بے حد و حساب ہے اسی طرح اس کی رحمت بھی بے کنار ہے۔ اس کی رحمت کی کوئی حد ہے نہ حساب جب ہم مکمل طور پر ہتھیار ڈال کر اللہ سے اس کا رحم اور پھر رحمت طلب کرتے ہیں تو اس کی رحمت جوش میں آتی ہے۔ وہ اپنے بندوں کو خواہ وہ کتنے ہی فاسق و فاجر کیوں نہ ہوں، نہ صرف معاف فرما دیتا ہے بلکہ ان پر اپنی رحمتیں بھی نازل فرماتا ہے اور اس کو وہ کچھ عطا فرماتا ہے جس کے باعث وہ دین و دنیا میں با عزت ہوتے ہیں۔

ہم شب قدر میں جو کچھ اپنے رب تعالیٰ سے مانگتے ہیں وہ ہمیں عطا کرتا ہے دنیا کی جو چیز ہم مانگتے ہیں اس کو بھی اللہ اپنی نظر میں رکھتا ہے اور جس کو اللہ اپنی نظر میں رکھتا ہے وہاں وہ اپنی رحمت ضرور نازل فرماتا ہے۔

اس ہزار مہینوں سے بہتر رات میں عبادت مندرجہ ذیل طریقے سے کی جا سکتی ہے۔

-1 نماز عشاء سے لے کرنصف شب تک نوافل ادا کئے جائیں۔

-2نصف شب سے سحری تک تلاوتِ کلام اور نماز تہجد ادا کر لیں۔

-3سحری کے بعدنماز فجر ادا کریں اور اس کے بعد دوبارہ تلاوتِ قرآن مجید کر لیں۔

اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے صدقے ہمیں بخش دے گا اور ہمارے گناہوں سے صرفِ نظر فرمائے گا۔ اگرچہ یہ ہمارا استحقاق نہیں کہ ہمیں معاف کر دیا جائے تاہم پروردگار کی رحمت بے پایاں سے امید ہے بخشے جانے کی۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم رب کے حضور ندامت سے سر جھکائیں اور عاجزی سے عرض گزار ہوں کہ ’’یا باری تعالیٰ! اگرچہ میرے گناہ بے حساب ہیں لیکن تیری رحمت بھی تو بے پایاں ہے تو اپنے غفور الرحیم ہونے کے صدقے مجھے معاف فرما دے۔ اپنے رحیم و کریم ہونے کے صدقے ہم پر اپنی رحمت نازل فرما۔‘‘

جہاں تک شب قدر کی علامت کا تعلق ہے اس رات میں نہ سردی ہوتی ہے نہ گرمی۔ روایت ہے کہ اس میں کتے کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔ اس رات کی صبح کو جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ گویا اس میں ذرا سیاہی نہ ہو اور طشت دکھائی دیتا ہے۔ اس رات کی عجیب باتیں اور اسرار اہل دل، اہل اطاعت، اہل ولائیت اور ان لوگوں پر منکشف ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ یہ سب دکھانا چاہتا ہے اور ہر شخص کو اس کے مقام، مرتبے، حال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ قرب کے مطابق اس رات کامشاہدہ ہوتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1