پسندکی شادی کرنیوالے جوڑے کے رشتہ داروں میں لڑائی

پسندکی شادی کرنیوالے جوڑے کے رشتہ داروں میں لڑائی

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائی کورٹ میں پسندکی شادی کے کیس میں میاں بیوی کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد کمرہ عدالت سے نکلتے ہی لڑکی اورلڑکے کے رشتہ داروں میں ہاتھاپائی ہوگئی، فریقین ایک دوسرے کو گھونسے اورتھپڑ مارتے رہے،سکیورٹی نے فریقین میں بیچ بچاؤکروایا،جسٹس محمد انوارالحق کی عدالت میں محمد وقاص کے مقدمہ کے اخراج کے لئے سماعت ہوئی۔ درخواست گزار وقاص کے وکیل رائے اظفرکمال نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس نے لاہور کے علاقے اقبال ٹاون کی رہائشی ثمینہ نامی لڑکی سے پسند کی شادی کی مگر لڑکی کے گھر والوں نے اس کے خلاف اغوا ء کا جھوٹا مقدمہ درج کرا دیا۔لڑکی کی والدہ نے عدالت کو بتایا کہ وقاص نامی لڑکے نے اس کی بیٹی کو زبردستی اغواء کر رکھا ہے۔ثمینہ یاسمین نامی لڑکی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ اس نے وقاص سے پسند کی شادی کی۔ عدالت نے لڑکی کے بیان کی روشنی میں اسے اپنے شوہر کے ہمراہ جانے کی اجازت دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔عدالتی سماعت کے بعد فریقین کمرہ عدالت سے باہر نکلے اور لڑکی کو اپنے ہمراہ لے جانے کی کوشش کی تو لڑکا اور لڑکی کے رشتہ دار ایک دوسرے کو گالیاں نکالتے ہوئے حملہ آور ہو گئے۔اس لڑائی میں فریقین نے ایک دوسر پر تھپٹروں اور گھونسوں کا آزادانہ استعمال کیاتاہم عدالتی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے لڑکی کو چھڑوا کر اسکے خاوند کی ساتھ بھجوا دیاہے۔

مزید : صفحہ آخر