آخری عشرہ شروع ہوتے ہی رمضان بازاروں میں بدنظمی، گرانفروشی، ناقص اشیاء کی دھڑلے سے فروخت

آخری عشرہ شروع ہوتے ہی رمضان بازاروں میں بدنظمی، گرانفروشی، ناقص اشیاء کی ...

ملتان(خبر نگار)سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ، مارکیٹ کمیٹی اورٹاؤنز کی عدم دلچسپی کے باعث رمضان المبارک کے آخری عشرے میں رمضان بازاروں نے اپنی افادیت کھوناشروع کردی ہے شہر کے تمام رمضان بازاروں خصوصاًماڈل رمضان بازار شمس آباد میں غیر معیاری سبزیوں ، پھلوں کی فروخت کے ساتھ گرانفروشی کاسلسلہ عروج پرپہنچ گیاہے رمضان بازاروں سے غائب اپنا معمول بنالیاہے جبکہ شکایت سیل بھی غیر موثر ہیں پنجاب حکومت کی(بقیہ نمبر42صفحہ7پر )

ہدایت پرسٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ملتان نے ضلع بھرمیں شہریوں کو معیاری اشیاء کی کنٹرول قیمتوں پرفراہمی کیلئے 12رمضان بازار کو دئیے تھے اوررمضان المبارک کے 2عشروں تک ضلعی حکومت کی سخت مانیٹرنگ کے باعث شہریوں کو ریلیف بھی فراہم کیاجاتارہا تاہم عام مارکیٹ کے مقابلے میں رمضان بازاروں میں قیمتوں کے معمولی فرق نے شہریوں کو خاطرخواہ متوجہ نہ کیا مگر رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتے ہی رمضان بازاروں می بدنظمی ، گرانفروشی اورغیرمعیاری اشیاء کی فروخت کاسلسلہ زور پکڑ گیا ہے ضلعی حکومت کی طرف سے ضلع بھر میں اچھا رمضان بازار قائم کرنے والے ٹاؤن کی ٹیم کو 2لاکھ روپے انعام دینے کابھی اعلان کیاگیاتھا مگر آخری عشرہ شروع ہوتے ہی جو رمضان بازاروں کی صورتحال ہے وہ بڑی ابتر ہے ضلعی حکومت سمیت دیگر اداروں کی مانیٹرنگ نہ ہونے سے رمضان بازاروں میں غیر معیاری اشیاء کی فروخت کاسلسلہ دھڑے سے جاری ہے قبل ازیں رمضان بازاروں میں یہ اشیاء کے سٹال پرقیمتوں کے حوالے سے ریٹ لسٹ نمایاں ہوتی تھی مگر اب رمضان بازار کے عملے کی ملی بھگت سے ہرسٹال سے ریٹ لسٹیں غائب ہوچکی ہیں اورجوبھی شہری ریٹ لسٹ کاتقاضا کرتاہے اس کے ساتھ لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں رمضان بازاروں کے شکایت رجسٹرشکایات سے بھر پڑے ہیں مگر محال ہے کہ کسی مجاز اتھارٹی نے کسی بھی شکایت کاکوئی نوٹس لیاہے ضلعی حکومت کی طرف سے رمضان بازاروں کیلئے جوبھی فوکل پرسن مقرر ہیں وہ عموماًڈیوٹی سے غائب رہتے ہیں اورشہریوں کی شکایت سننے کیلئے کوئی مجاز اتھارٹی موقع پرموجود نہیں ہوتی شہریوں نے ڈی سی او ملتان سے رمضان بازاروں کی صورتحال بہتر بنانے کامطالبہ کیاہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر